آج کل ایسا لگتا ہے کہ ہم اُس آخری زمانے میں پہنچ گئے ہیں جس کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں۔ جب ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا‘ جب واقعات اتنی سرعت سے ہو رہے ہوں جو ایک سال میں بھی نہیں ہوتے۔ ایک دن ایک سال کے برابر ہو جانا‘ واقعات کی تیزی اور سنگینی کی کیسی عجیب اور بلیغ تشریح ہے۔ ایک اور بلیغ مثال حدیث کا وہ جملہ ہے کہ واقعات اس طرح پے درپے ہوں گے جیسے تسبیح کی لڑی ٹوٹ جائے اور دانے تیزی سے زمین پر گرنے لگیں۔
رمضان المبارک کے ابھی 14 روزے ہی گزرے ہیں لیکن ان چودہ دنوں میں اتنے واقعات پیش آ چکے ہیں اور اتنے سنگین واقعات ہو چکے ہیں کہ ان میں ہر ایک اپنی جگہ قوموں کو ہلا دینے اور ان کی تاریخ اور جغرافیہ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر دن ایسا طلوع ہو رہا ہے جس میں صبح رونما ہونے والا اہم ترین واقعہ شام تک پرانا ہونے لگتا ہے۔ ایران پر عین اس وقت اسرائیل اور امریکہ کا حملہ جب مذاکرات کی کامیابی کی خبریں آ رہی تھیں‘ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور چوٹی کی ایرانی فوجی قیادت کی شہادتیں اور ایران کا زبردست ردعمل۔ خلیجی ممالک کا جنگ کی لپیٹ میں آ جانا‘ ہر ملک میں آگ اور خون کا رقص شروع ہو جانا‘ ایرانی میزائل حملوں کے تباہ کن نتائج‘ سب واقعات دو تین دن میں رونما ہو چکے۔ یہ سب اُس وقت ہوا جب پاکستان افغانستان کے ساتھ ایک غیر معمولی جنگ میں اتر چکا تھا اور ہمارے لیے سب سے بڑی خبر یہی تھی کہ ہماری مغربی سرحد پر کیا ہو رہا ہے اور پاک فوج کیا کارروائیاں کر رہی ہے۔ ایران پر حملے نے اس جنگ کو بھی دنیا کی حد تک پس منظر میں دھکیل دیا اور یہ ایک لحاظ سے ہمارے لیے اچھا ہی ہوا کہ دنیا کی توجہ دوسری طرف مبذول ہو گئی اور عرب ممالک کو اپنی سلامتی کی فکر پڑ گئی۔ افغانستان کے جنگجو تو مسلم دنیا کیلئے اسلام کی ناقابلِ قبول تشریح کے باعث پہلے ہی قابلِ اعتبار نہیں تھے لیکن ان کا یہ نیا روپ کہ وہ مشرکوں اور صہیونیوں سے مل کر اسلامی قوتوں سے برسر پیکار ہوں گے‘ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس وقت افغانستان کی جنگجویانہ صلاحیت صرف اور صرف غیر مسلم قوتوں کے کام آ رہی ہے اور یہ اس دور کے بہت سے حادثوں میں سب سے بڑا سانحہ ہے۔ افغان طالبان ویسے بھی عالمی تنہائی کا شکار ہیں لیکن اس وقت اُن عرب ممالک نے بھی ان کیلئے آوازیں بلند نہیں کیں‘ جن کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ طالبان کے اس دہشت گردانہ رویے کے پشت پناہ ہیں‘ اور ان کے اشارے پر پاکستان کو روز آگ اور خون میں نہلایا جا رہا۔ ان کے اس بدنما رویے کا اب ہر پاکستانی کو علم ہے اور پاکستانی فیصلہ ساز بھی خوب جانتے ہیں۔ اس لیے ان کی طرف سے جو ممکنہ بات کی گئی‘ اسے پاکستان نے مضبوطی کے ساتھ رد کر دیا۔ طالبان اور ان سے منسلک دہشت گرد گروہوں کو جو سبق پاکستان نے سکھایا ہے‘ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے کہ امریکہ نے بھی کبھی افغان جنگجوئوں کی ایسی کمر نہیں توڑ ی تھی جیسی اس بار ٹوٹی ہے۔ سوویت روس اور اس کے بعد امریکہ سے جنگوں میں افغانوں کی پشت پر پاکستان تھا‘ لیکن اس وقت افغانوں کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ ان کا سارا زعمِ جنگجوئی چند دن میں خوست‘ گردیز‘ قندھار اور کابل میں خاک پر ناک رگڑنے لگا۔ ہر پاکستانی کی طرح میری بھی شدید خواہش تھی کہ اول تو کاش یہ جنگ نہ ہوتی! لیکن اب یہ بھی خواہش ہے کہ تمام صبر وتحمل کے باوجود پاکستان پر یہ جنگ مسلط ہو ہی گئی ہے تو ایک بار کاری ضرب لگا کر اس فتنے کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے۔ بظاہر اس بار فوجی قیادت بھی یہی فیصلہ کرچکی ہے کہ اپنے اہداف حاصل کیے بغیر یہ جنگ ختم نہیں کی جائے گی اور آئندہ کیلئے اپنی سرحدوں کو محفوظ کیا جائے گا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں‘ طالبان کے اسلحہ ڈپو‘ فوجی ہیڈکوارٹرز‘ سرحدی پوسٹیں جس طرح ملیا میٹ کی گئی ہیں‘ اس سے لگتا ہے کہ ان کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ دونوں سرحدوں کے درمیان کچھ میل کا بفر زون بھی آئندہ دہشت گردی اور طالبان کے فوجی حملوں میں بہت بڑی خندق بن جائے گا۔ خدا کرے طالبان کی کج فہم‘ سفاک‘ بے عقل اور حریص قیادت کو بھی ٹھیک سمجھ آ جائے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان معاملات کے ساتھ وہ زیادہ دیر افغانستان کے اقتدار پر باقی رہ سکیں گے۔
دوسری طرف ایران نے حیرت انگیز مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ابتدا میں ایسا لگتا تھا کہ ایرانی قیادت کے ختم ہو جانے کے بعد ملک میں افراتفری پھیل جائے گی اور حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک سڑکوں پر آ جائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کی توقع بھی یہی تھی۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس! ایرانی سپریم لیڈر اور قیادت کا دکھ پورے ایران میں محسوس کیا گیا اور بجائے قوم کے منقسم ہو جانے کے‘ تمام ایرانی متحد ہوتے نظر آئے۔ اس طرح ایرانی مذہبی قیادت کا تختہ الٹ دینے کا امریکی‘ اسرائیلی خواب بظاہر چکنا چور ہو کر رہ گیا ہے۔ جنگی لحاظ سے ایران کے پاس بہت کم آپشنز تھے۔ یہ امکان تو شروع سے موجود ہی نہیں تھا کہ وہ براہِ راست امریکی سرزمین پر حملہ کر سکے‘ دو ہی راستے رہ جاتے تھے؛ اول اسرائیل کو نشانہ بنانا‘ دوسرا امریکی فوجی اڈوں کو عرب ممالک میں ہدف بنانا۔ ایرانی فضائیہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور فضائی دفاعی نظام بھی۔ یہ باتیں تو پہلے ہی عیاں تھیں۔ میزائل اور ڈرونز ہی ایران کا ہتھیار تھے اور انہی کو اس نے کافی حد تک مؤثر انداز میں استعمال کیا ہے۔ تاہم یہ خوش فہمی ہو گی کہ کچھ عمارتیں تباہ ہونے اور کچھ امریکی اسرائیلی ہلاکتوں سے ان سفاک ملکوں پر کوئی بڑا اثر پڑے گا۔ ان کیلئے مالی نقصان کوئی بڑا نقصان نہیں۔ البتہ جانی نقصان برداشت کرنا ان دونوں حکومتوں کو اندر سے مسمار کر سکتا ہے۔ اگر امریکی ہلاکتوں کے ایرانی دعوے درست ہیں تو سینکڑوں فوجیوں کا یہ نقصان امریکہ کیلئے بہت بڑی قیمت ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق باقی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت مثلث اور ان کے چھپے ہوئے حلیف جو توقعات کر رہے تھے‘ وہ نہ صرف پوری نہیں ہوئیں بلکہ کئی نتائج برعکس نکلے ہیں۔ یہ تو نظر آتا تھا کہ ایک بڑی شطرنج کی بساط پر یہ سب واقعات اتفاقات ہرگز نہیں تھے۔ اتنے اتفاقات؟ اور سب ایک خاص وقت میں؟ دنیا کے ایک خاص خطے میں؟ سب اتفاق ان مسلم ملکوں کے اندر ‘ جو ایک مدت سے غیر مسلم دنیا کی نظروں میں کھٹکتے ہیں؟ یہ ہرگز‘ ہرگز اتفاقات نہیں‘ ایک بڑے منصوبے‘ بڑے غیر مسلم پلان کا حصہ ہیں۔ کتنی بڑی تبدیلیاں ان گزشتہ تین سال میں ہوئی ہیں۔ کتنے اہم عالمی دورے گزشتہ ایک سال میں ہوئے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں کتنی بڑی تبدیلیاں عالمی صفوں اور عالمی گروپنگ میں ہوئی ہیں۔ کتنی تیزی سے حالات اور لہجے تبدیل ہوئے ہیں۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے گرد وپیش کتنا بدلا ہے اور اچانک ہم ایک منجدھار کے بیچ آ کھڑے ہوئے ہیں۔ جس میں کچھ اندازہ نہیں ہو رہا کہ کشتی کس طرف جائے گی؟ ابھی غزہ پیس بورڈ کی گونج بھی نہیں تھمی تھی‘ ابھی اسرائیل میں امریکی سفیر کے گریٹر اسرائیل والے انٹرویو پر دنیا بھونچکا تھی‘ ابھی مودی کے دورۂ اسرائیل پر ٹھیک سے بات بھی نہیں ہوئی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے بیچ دھواں دار لڑائی شروع ہو گئی۔ ابھی اس کا ہنگامہ فلک کو چھو ہی رہا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ مسئلہ صرف واقعات کی رفتار کا ہی نہیں‘ ان کی سمت کا بھی ہے۔ یہ جو ہماری دو سرحدوں پر جنگ ہو رہی ہے اور تیسری سرحد پر ازلی دشمن بھارت نے فوجیں لا کھڑی کی ہیں‘ کیا یہ ہمیں ہر طرف سے گھیرنے کی کوشش ہے ؟ ہمیں ہر سرحد پر الجھانے کا منصوبہ ہے؟ لگتا تو یہی ہے! میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ہلاکتوں اور تباہیوں کے حالات پڑھتے ہوئے تھراتا تھا۔ سوچتا تھا کہ وہ نسل بڑی بدنصیب ہو گی جو تیسری عالمی جنگ دیکھے گی۔ لیکن اب یہ لگتا ہے کہ ہم ہی وہ نسل ہیں۔ کیا ہم ہی تیسری عالمی جنگ والی نسل ہیں؟ سب سے بڑا سوال یہی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved