تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     06-03-2026

جنگ اور جنگ کے بعد

جس انداز میں ایران کے خلاف جنگ جاری ہے اور جس بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس کے خلاف ایران کی مزاحمت اور استقامت میرے نزدیک اس کا نمایاں پہلو ہے۔ یہ ثانوی باتیں ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ نے کتنے شہروں کو نشانہ بنایا‘ کتنے ہزار بم گرائے اور کیا تباہی برپا کی ہے۔ یہ تو ہر وہ طاقت کر سکتی ہے جس کے پاس صنعتی استطاعت اور عسکری طاقت ہو۔ اصل بات تو یہ ہے کہ آپ ایسی خوفناک جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور بہادری اور صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں۔ کوئی بھی ملک اپنی ریاست‘ عوام اور معیشت کی تباہی نہیں چاہتا۔ ایران نے ہر طریقے سے اس جنگ سے بچنے کی تدبیر کی مگر بڑا مسئلہ تو اس کا جوہری پروگرام تھا جس کو محدود اور بین الاقوامی اداروں کی چھان بین کیلئے کھلا رکھنے کیلئے ایران نے امریکہ کے ساتھ 2015ء میں معاہدہ کر لیا تھا۔ لیکن تین سال بعد‘ 2018ء میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا تو اس معاہدے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اُس وقت بھی ایران نے اپنے رویے میں لچک دکھائی تھی اور چند ہفتے پہلے تک جب وہ امریکیوں کے ساتھ عمان میں مذاکرات کر رہے تھے تو انہوں نے مزید پابندی اور قابلِ تصدیق ضمانت فراہم کی۔ دونوں جانب سے مذاکرات کے پہلے دور سے لے کر آخر تک مثبت ہونے کے اعلانات بھی ہوئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات بڑھتے گئے‘ جن میں وہ ایرانی میزائلوں‘ خارجہ پالیسی کے اہم پہلوؤں اور داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تمام شواہد بتاتے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے آمادہ تھا مگر نیت کی خرابی کہیں اور تھی۔ کئی دہائیوں سے امریکہ اسرائیل اور ان کے کچھ دیگر اتحادیوں کی کاوش رہی ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد کے نظامِ ریاست کو کسی طرح تبدیل کیا جائے۔ اندر سے کئی بار خفیہ تحریکیں شروع کی گئیں‘ خصوصاً لسانی اقلیتوں اور نظریاتی طور پر مغرب کے قریبی حلقوں میں‘ مگر ہر دفعہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس مقصد کیلئے اسرائیل اور امریکہ کا پہلا ہدف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید اور ان کے قریبی لوگ تھے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ سال ایرانی فوجی قیادت اور جوہری سائنسدانوں کا قتل ہو یا علی خامنہ ای پر حملہ‘ سلامتی کے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی کھلی کمزوریاں سامنے آئیں۔ یہ سوال کہ ایران کے اندر سے ان اداروں کے کارکنوں کو بھاری قیمت پر خریدا گیا‘ خارج از امکان نہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی کو شام میں ہدف بنانے سے لے کر ملک کی سب سے معتبر ہستی پر حملہ ایران کے اندر جاسوسی کے غیر ملکی جال کی کارستانی دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت ایران کے لوگ اور اس کی سیاسی قیادت ایک بہت بڑے امتحان کا سامنا کر رہے ہیں جہاں کچھ اندرونی عناصر اور غیر ملکی جارحیت ملک کو تباہی‘ فساد اور افراتفری کا شکار کرنے کے در پے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی حکمت عملی کے لحاظ سے اس خطے کی جدید جنگوں میں سے یہ سب سے اہم اور شاید سب سے بڑی ہو سکتی ہے۔ دونوں کا مقصد ایران کو جنگ کے میدان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے‘ جس طرح امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے جرمنی اور جاپان کے ساتھ کیا تھا۔ انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے بعد وہاں سیاسی نظاموں کو نئی شکل دی اور اپنا ذیلی اتحادی بنایا۔
انقلابی حکومت اور اس کی قیادت اس تاریخ اور اس خطے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات اور وسعت پسندانہ عزائم سے خوب واقف تھی۔ ماضی کی مداخلت اور اپنے خلاف اٹھنے والی سازشوں کے پیشِ نظر اسلامی حکومت نے مزاحمت کا بیانیہ ترتیب دیا۔ اس کی پہلی آزمائش تو عراق کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جارحیت تھی جس کے پیچھے امریکہ اور کچھ علاقائی ممالک کھڑے تھے۔ یہ اس کی تاریخ کی طویل ترین جنگ تھی اور جو نقصان ہوا اور جانوں کی قربانیاں دی گئیں‘ وہ لاکھوں میں ہیں۔ علاقائی ماحول ریاستی سطح پر ایران کے حق میں نہیں تھا جس نے اسے غیر ریاستی تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کیلئے مجبور کیا تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔ ظاہر ہے کہ علاقائی عرب ریاستیں اس پالیسی سے کبھی خوش نہ تھیں۔ ایک سیدھا راستہ تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمت کرتے اور امریکی اور اسرائیلی حکمت عملی کو دور اندیشی کے پیمانے پر پرکھتے‘ لیکن نئی دولت کی چمک اور بُرجوں کی شان و شوکت کے گھمنڈ میں وہ ایران کے خلاف محدودیت کی پالیسی کا حصہ بن گئے۔ اڈے دیے‘ کھربوں کا اسلحہ خریدا اور امریکی فوجوں کو ٹھکانے بھی فراہم کیے۔ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کی تشکیل کے بارے میں دو متصادم نظریے کئی دہائیوں سے گردش میں رہے ہیں۔ مشہور امریکی صحافی اور دانشور تھامس فرائیڈ مین ایک کو ''اتحادِ شمولیت‘‘ اور دوسرے کو ''اتحادِ مزاحمت‘‘ کہتے آئے ہیں۔ اب آپ کو مزید تفصیل کی ضرورت نہیں کہ کون اتحادِ شمولیت اور کون اتحادِ مزاحمت میں ہے۔ موجودہ جنگ بھی ان دونوں اتحادیوں کے درمیان میں ہے۔ اتحادِ شمولیت کا ہر ملک ایران پر حملوں کیلئے ہر نوع کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے‘ اگرچہ اس وقت تک انہوں نے عملی طور پر اپنے عسکری وسائل استعمال نہیں کیے۔ اتحادِ مزاحمت ان کے نشانے پر ہے جس میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ‘ یمن میں حوثی قبائل اور غزہ میں حماس‘ جسے ڈھائی سالہ جنگ میں پہلے ہی مفلوج کر دیا گیا ہے‘ مگر کیا کریں کہ جنگوں کی راکھ سے پھر کہیں سے مزاحمت کی کوئی نہ کوئی چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔
پورے خطے میں ایران اس وقت مزاحمت کر رہا ہے اور بہت ہی جرأت کے ساتھ۔ جس قسم کا جنگی جنون دو جنونیوں‘ ایک اسرائیلی اور ایک امریکی کے سر پر سوار ہے‘ وہ ایران کے ساتھ شاید وہی کریں جو وہ مل کر غزہ میں کر چکے ہیں۔ ایران ایک تہذیبی ریاست ہے‘ اس کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور اس نے بڑے بڑے معرکے دیکھے ہیں۔ ہر دور کے اپنے تقاضے‘ معروضی حالات‘ قیادت اور غالب نظریے رہے ہیں۔ ایران مشکل صورتحال میں ضرور ہے‘ جنگ کو ختم کرنے کی سعی بھی کرے گا مگر یکطرفہ شرائط پر کبھی رضامند نہ ہوگا۔ ابھی یہ کہنا کہ ایران کے اندر کیا موجودہ نظام باقی رہے گا اور کیا اور کتنا اور کب تبدیل ہو گا‘ بہت مشکل ہے۔ جنگی جہازوں کی گھن گرج‘ بمباری اور آتش زنی سے ریاستی نظام تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ہتھیار ڈال کر کاغذ کے ایک پرزے پر دستخط کر دیے جائیں۔ امریکہ‘ اسرائیل اور ان کے دیگر حلیف شاید کوئی ایسا ہی خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایسے خواب بھی نشے کی طرح ہوتے ہیں جو طاقت کے نشے میں دکھائی دیتے ہیں‘ مگر حریف کی ثابت قدمی اور زخم کھا کر پلٹنے اور وار کرنے کی صلاحیت انہیں چکنا چور بھی کر سکتی ہے۔ کچھ ہم اسرائیل اور عرب ریاستوں میں سے اٹھتے ہوئے دھویں اور سارے دھندے بند ہونے کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ ویسے تو ایسی جنگوں کا آخری کھیل ہوتا ہی نہیں‘ اگر کوئی ہوا بھی تو وہ پائیدار نہیں ہو گا۔ اصل مسئلہ تو اسرائیل کی مسلسل جارحیت‘ توسیع پسندی اور امریکہ کی نئی استعماریت ہے جس کی وجہ سے ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے اس خطے کو جنگ کی آگ میں جلتا دیکھ رہے ہیں۔ مجھے افسوس تو ان پر ہے جو بڑے نعرے لگاتے ہیں‘ بڑے اتحادوں کی بات کرتے ہیں مگر نہ وہ تاریخ اور نہ ہی موجودہ حالات کو فکری وسعت کے زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پہلے بھی ایک دو مضامین میں کہہ چکا ہوں کہ ایران ہمارے لیے ایک تزویراتی ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ بھی اتحادِ شمولیت کی نذر ہو گیا تو اس کے اثرات ہماری مشکلات میں اضافہ کریں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved