شیعہ سنی اختلاف مذہبی اور دینی نہیں‘ سیاسی اور تاریخی ہے۔
دین سب کا ایک ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ہی حزب اللہ تھی۔ نبیﷺ کی دنیا سے رخصتی کے بعد‘ سیاسی امور میں اختلاف ہوا تو گروہ بن گئے۔ تاریخ کا ایک ایسا موڑ آیا جب باقاعدہ سیاسی جماعتیں وجود میں آ گئیں۔ شیعانِ علیؓ اور شیعانِ معاویہؓ۔ شیعانِ علیؓ کے مؤقف کواکثریت میں پذیرائی نہ مل سکی۔ اقلیت ہونے کے سبب 'شیعہ‘ کا لفظ اس جماعت کیلئے خاص ہو گیا۔ شیعہ کے معانی 'گروہ‘ کے ہیں۔ تاریخی عمل آگے بڑھا تو لوگوں نے اپنے اپنے مؤقف کی مذہبی تعبیرات کرنا شروع کر دیں۔ اسلام کے دورِ اوّل میں خلافت کی اصطلاح موجود ہے نہ امامت کی۔ یہ دونوں الفاظ لغوی مفہوم ہی میں مستعمل تھے۔ جب انہیں اصطلاحی معانی پہنائے گئے تو یہ تصورات دو گروہوں میں وجۂ امتیاز بن گئے۔ سنی جو نبیﷺ کے بعد خلافت کو مانتے ہیں‘ اور شیعہ جو امامت کے قائل ہیں۔ آج سنی اور شیعہ میں دو بنیادی اختلافات ہیں۔ ایک وہ جسے اصولی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اہلِ تشیع کا تصورِ امامت ہے۔ دوسرا امتیازی فرق فقہی ہے۔ اہلِ تشیع کی فقہ 'فقہ جعفری‘ کہلاتی ہے۔ اہلِ سنت کے ہاں ایک سے زیادہ فقہی مکاتب ہیں۔
اس مقدمے سے کسی صاحبِ علم کو اختلاف نہیں۔ حضرت معاویہؓ سب سے زیادہ اہلِ تشیع کی تنقید کا ہدف ہیں۔ ان کے تمام اعتراضات مگر دینی نہیں‘ سیاسی ہیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ حضرت علیؓ کا دین اور تھا اور حضرت معاویہؓ کا اور۔ میں اطراف کے غالی مصنفین یا عوامی ذاکرین وخطبا کی بات نہیں کر رہا‘ جو جہالت کا کاروبار کرتے ہیں۔ حضرت معاویہؓ کے سیاسی طرزِ عمل پر اعتراضات اٹھائے گئے مگر میرے علم میں نہیں کہ کسی نے ان کے دینی خیالات پر نقد کیا ہو۔ جب تک صحابہ کی جماعت موجود رہی‘ مسلمانوں میں دینی اعتبار سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔ خلفشار کا دور جب قصہ پارینہ بنا تو تاریخی واقعات کو قلمبند کیا گیا۔ اس لکھی ہوئی تاریخ کی بنیاد پرمسلمانوں میں بعض امور پرکم وبیش اتفاق پیدا ہوگیا۔ سنی شیعہ غیر معمولی اکثریت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس سیاسی معرکہ آرائی میں حضرت علیؓ کا مؤقف درست تھا۔ یہاں مقصود غلط یا صحیح کا حکم لگانا نہیں‘ مسلمانوں کے ان نظریات کو بیان کرنا ہے جنہیں قبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔
اس مؤقف سے فاصلے کم ہوئے۔ دونوں گروہوں کے ہاں مزید فکری ارتقا بھی ہوا‘ جس کا ہمیں ادراک نہیں ہو سکا۔ آج باہمی اختلاف کے دو مظاہر باقی ہیں۔ ایک کو ہم اصولی یا نظریاتی کہہ سکتے ہیں اور دوسرے کو فقہی۔ اصولی اختلاف تصورِ امامت میں ہے۔ اہلِ تشیع کے نزدیک امام مامور من اللہ ہوتا ہے۔ اہلِ سنت کے ہاں نبیﷺ کے بعد کسی کے مامور من اللہ ہونے کا تصور نہیں پایا جاتا۔ تاہم اہلِ تشیع بھی اس کو ضروریاتِ دین میں سے نہیں مانتے۔ یعنی مسلمان ہونے کیلئے اس تصورِ امامت پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ اسی سبب سے ان کے نزدیک اہلِ سنت بھی مسلمان ہیں۔ اسی طرح تحریفِ قرآن جیسے مباحث بھی ختم ہو گئے۔ آج کوئی اصولی اختلاف ایسا نہیں کہ دونوں کے سیاسی اجتماع میں مانع ہو۔ رہا فقہی اختلاف تو اہلِ سنت میں بھی کئی فقہی مذاہب موجود ہیں۔ ان میں آج بھی گدھے کے حلال یا حرام ہونے کی بحث جاری ہے۔ اس سے سیاسی وحدت کی نفی نہیں ہوتی۔
خلافت وامامت کے تصورات بھی ماضی کی تعبیرات سے آگے نکل چکے۔ سب نے جمہوریت کو بطورِ اصول مان لیا ہے۔ اہلِ تشیع میں ولایتِ فقیہ کے تصور نے مسئلہ امامت کو عقیدے تک محدود کر دیا ہے۔ اب امام کی غیبت میں بھی سیاسی نظم قائم ہو سکتا ہے۔ ایران میں یہ چھیالیس برس سے قائم ہے۔ اس لیے آج کوئی ایسا اختلاف باقی نہیں ہے جو سیاسی و سماجی وحدت میں حائل ہو۔ ایک معاملہ البتہ ایسا ہے جوہمیشہ نزاع کا باعث رہا اور فساد میں بدلتا رہا۔ یہ صحابہ پر تبرا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای شہید نے صحابہ کرامؓ اور امہات المومنینؓ سمیت تمام مقدساتِ اہلِ سنت کی توہین کو حرام قرار دیا۔ گویا جو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے‘ اسے خود شیعہ علما کی تائید حاصل نہیں۔ اس فتوے کے بعد‘ یہ دیوار بھی گر گئی ہے۔ اب جو اس فعلِ قبیح کا مرتکب ہو‘ اسے اہلِ تشیع کا نمائندہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہی سبب ہے کہ لندن میں بیٹھا ایک بد شکل جب سوشل میڈیا پر صحابہ کی توہین کرتا ہے تو پاکستان کے نمائندہ شیعہ علما اس سے اعلانِ برأت کرتے ہیں۔
یہ وہ علامات ہیں جو بتاتی ہیں کہ دونوں اطراف کے تاریخی شعور میں ارتقا ہے۔ دونوں ماضی کی اسیری سے رہائی چاہتے ہیں اور اس سمت میں قابلِ ذکر پیش قدمی ہو چکی ہے۔ اس لیے آج سنی شیعہ قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لمحہ موجود میں رہتے ہوئے کوئی حکمتِ عملی اپنائیں۔ سب سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر اس جنگ کو رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بدقسمتی سے اس جنگ میں مسلم دنیا کی سطح پر کسی مشترکہ حکمتِ عملی کی طرف کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ اتنے بڑے واقعے پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کیلئے کوئی مطالبہ نہیں اٹھا۔ افسوس کی بات ہے کہ عربوں نے ایران کے ساتھ کسی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔ ایران کی طرف سے ان ممالک میں موجود امریکی اڈے نشانہ بنے جو ناگزیر تھا۔ اس سے باہمی تلخی میں اضافہ ہوا۔ آج صرف پاکستان ہے جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی۔
یہ ناکامی بتاتی ہے کہ تاریخی شعور میں ارتقا کے باوجود‘ مسلم ممالک کی قیادت میں سیاسی سطح پر وحدت کا تصور پیدا نہیں ہو سکا۔ وہ ابھی تک قومی ریاست کے پیراڈائم میں سوچتی ہے۔ اس کا مظاہرہ فلسطین کے مسئلے پر ہوا اور اب ایران کے معاملے میں بھی۔ اس سے مسلم عوام اور حکمران طبقے میں دوری پیدا ہوئی ہے۔ یہ دوری مستقبل میں داخلی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم اس میں امید کا ایک پہلو ضرور سامنے آیا ہے۔ عرب ممالک پر یہ آشکار ہو چکا کہ دفاع کے معاملے میں وہ امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اس کیلئے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرنا پڑے گی۔ سرِدست یہ ان کیلئے ممکن نہیں۔ لہٰذا ان کے پاس فوری متبادل صرف پاکستان ہے۔ عسکری اعتبار سے مسلم دنیا میں دو ممالک ہی قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ۔ عرب ترکیہ سے کچھ کہنے سے تو رہے‘ اب صرف پاکستان ہے۔ کیا پاکستان اپنی قیادت میں مسلم دنیا کو جمع کر سکتا ہے۔ بھٹو صاحب نے ایک کوشش کی تھی۔ اس کے بعد ضیا الحق صاحب نے بھی سعی کی۔ وہی مصر کو دوبارہ او آئی سی میں لائے۔ کیا آج یہ ممکن ہو گا؟ اس کا فوری جواب نہیں دیا جا سکتا۔
صدیوں پر محیط تاریخ نے جو فاصلہ پیدا کیا ہے‘ اسے چند دنوں میں پاٹنا مشکل ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ یورپ کے ممالک اگر ماضی کے جھگڑوں سے بلند ہو کر اُس خطے کو امن کا گہوارا بنا سکتے ہیں تو مسلمان مشرقِ وسطیٰ میں ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ امریکہ میں تو امن ہے لیکن فساد ہمارے گھروں میں ہے۔ کیا ہمیں اس کا شعور نہیں؟کیا اب بھی یہ سوچنے کا مرحلہ نہیں آیا کہ اس خطے میں امن کیلئے ہمیں جمع ہونا چاہیے؟ کیا باہمی ترقی کا فارمولہ نہیں اپنایا جا سکتا؟ شعوری اور سماجی اعتبار سے پاکستان شاید سب سے بہتر جگہ پہ کھڑا ہے۔ ہم نے شیعہ سنی اختلافات سے بلند ہو کر دکھایا ہے۔ ہمارا آئین غیر مسلکی ہے۔ اس کے ساتھ ہم ایک ایٹمی قوت بھی ہیں۔ کیا عالمِ اسلام کو اس کے مضمرات کا اندازہ ہے؟ شاید ابھی نہیں! مسلم قیادت کو سوچنا ہو گا کہ سیاسی قیادت اور عام آدمی میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اور یہ ہمارے لیے نیک شگون نہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved