جب میں بچوں کو اپنے بچپن کی باتیں سناتا ہوں تو بعض اوقات ان کا منہ حیرانی سے کھل جاتا ہے۔ اسد پوچھتا ہے کہ یہ کس زمانے کا ذکر ہے؟ میں اسے ہنس کر کہتا ہوں کہ یہ اسی زمانے کا ذکر ہے‘ میں کوئی طوفانِ نوح میں بچ جانے والے لوگوں میں شامل نہیں تھا کہ تمہیں یہ باتیں زمانہ قبل از مسیح کی محسوس ہوں۔ زیادہ سے زیادہ پچپن‘ ساٹھ سال پرانی باتیں ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم عثمان آباد والا گھر بنا رہے تھے اسی دوران سیمنٹ کی بوری جب نو روپے کی ہوئی تو ابا جی نے اس قیمت پر بوری کی فروخت کو ناجائز منافع خوری کی مد میں شمار کیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سردار جی کی طرح دل کو تسلی دی ہوئی ہے۔ کسی نے سردار جی سے پٹرول کے مہنگے ہونے کی بابت ان کا خیال دریافت کیا تو سردار جی نے نہایت سکون سے کہا کہ ''آپاں نوں نے ایس مہنگیائی نال ٹکے دا فرق نئیں پیا۔ آپاں پہلے وی ہزار روپے دا پٹرول پواندے ساں تے ہن وی ہزار روپے دا ای پواندے آں‘‘ یعنی ہمیں تو اس مہنگائی سے دھیلے کا فرق نہیں پڑا‘ ہم پہلے بھی ہزار روپے کا پٹرول ڈلواتے تھے اور اب بھی ہزار روپے کا ہی ڈلواتے ہیں۔ رمضان کی تو خیر بات ہی نہ کریں۔ یہ مہینہ نیکوکاروں کے لیے اخروی منافع اور ہمارے تاجروں‘ دکانداروں اور کاروباری حضرات کے لیے دنیاوی نفع کا پیغام لے کر آتا ہے لیکن باقی سارا سال بھی اسی طرح گزر رہا ہے۔ ہر روز ایک نئی مصیبت‘ نیا مسئلہ اور نئی پھسوڑی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہوتی ہے۔
ایک زمانہ تھا سرکار سال کے سال بجٹ کا اعلان کرتی تھی اور تنخواہ دار سفید پوش لوگ اس بجٹ کی روشنی میں اپنا ماہانہ بجٹ بناتے تھے ۔ اب ہر شے بے اعتبار ہے۔ بجٹ بنتا ہے‘ پھر منی بجٹ آتا ہے‘ پھر آئی ایم ایف کی ہدایات پر مزید تبدیلیاں آتی ہیں۔ بجلی کا نرخ نہ صرف ہر چند روز بعد تبدیل ہو جاتا ہے بلکہ کئی کئی ماہ بعد فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر جگا ٹیکس بھی لگ کر آ جاتا ہے۔ یہی حال پٹرول کا ہے۔ ہر پندرہ روز بعد نئی قیمت آ جاتی ہے۔ عالمی منڈی میں آئل کی قیمت کم ہو تو بُری خبر سنائی جاتی ہے کہ ملک میں موجود پٹرول وڈیزل کا ذخیرہ پرانی قیمت پر خرید کردہ ہے اس پر عالمی منڈی میں ہونے والی حالیہ کمی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لیکن عالمی منڈی میں جیسے ہی آئل کی قیمت بڑھتی ہے پہلے سے خرید کردہ سستے پٹرول کی قیمت بیٹھے بٹھائے بڑھ جاتی ہے۔ آلو کبھی بیس روپے فی کلو ریڑھیوں پر ''رُل‘‘ رہا ہوتا ہے اور کبھی سو روپے کلو بھی نہیں ملتا۔ ہنڈیا کو سب سے زیادہ حیران وپریشان ٹماٹر کرتا ہے۔ کبھی پندرہ روپے کلو پر بازار میں دھکے کھاتا ہے اور کبھی دو سو روپے کلو پر ملنا محال ہو جاتا ہے۔ گوشت کا سرکاری ریٹ کچھ اور ہے اور مارکیٹ میں کسی اور ریٹ پر دستیاب ہے۔ سرکار رمضان میں شہر میں دو چار جگہوں پر سستے بازار لگا کر ان کی تصاویر اور خبریں چھپوا کر خوش ہے کہ عوام کو سستی ضروریاتِ زندگی کی اشیا مل رہی ہیں مگر ان کی کوالٹی اور معیار کے بارے میں صرف وہی جانتے ہیں جو اس سستے بازار سے ہو کر آتے ہیں۔
ٹماٹر بیس روپے کلو ہو جائیں تو کسان دیوالیہ ہو جاتا ہے اور اگر دو سو روپے کلو ہو جائیں تو آڑھتی اور خوردہ فروش مل کر سارا نفع ہضم کر لیتے ہیں۔ سبزیوں اور اجناس کے سلسلے میں کسان جو اس سارے نظام کا سب سے اہم رکن ہے‘ سب سے زیادہ پسنے والا فریق ہے۔ نقصان کی صورت میں متاثر ہونے والا وہ واحد شخص ہوتا ہے جبکہ منافع کی صورت میں سب کچھ آڑھتی‘ مل مالکان اور ذخیرہ اندوز لے جاتے ہیں کیونکہ کسان کے پاس نہ سٹور کرنے کی سہولت ہے اور نہ ہی وہ اپنی پیداوار کو دیر تک روکنے کی مالی استطاعت رکھتا ہے۔ اسے اگلی فصل کاشت کرنے کیلئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور مافیا اس کی مجبوری کی قیمت لگا کر اس کا استحصال کرتا ہے۔ گندم‘ مکئی اور گنا اس کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ گزشتہ سیزن میں گندم کا کاشتکار برباد ہو گیا‘ اسے بمشکل اپنی فصل کی لاگت وصول ہوئی۔ سیزن میں گندم 2200 سے 2400 روپے فی چالیس کلوگرام خرید لی گئی۔ سرکار نے عین موقع پر خریداری سے ہاتھ کھینچ لیا۔ ساری فصل ذخیرہ اندوزوں‘ مل مالکان اور انویسٹرز نے خرید کر سٹور کر لی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے گندم کی قیمت چار ہزار روپے فی چالیس کلوگرام سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ چکی سے آٹا خریدا تو سات سو روپے کا پانچ کلوگرام ملا‘ یعنی آٹے کی موجودہ قیمت ساڑھے پانچ ہزار روپے فی چالیس کلو گرام سے زیادہ ہے۔ ذخیرہ اندوزوں‘ مل مالکان اور انویسٹرز کے مزے لگے ہوئے ہیں۔ جب کسان کی چیخیں نکل رہی تھیں‘ سرکاری طبلچی فرما رہے تھے کہ کسان تو خواہ مخواہ دہائی دے رہا ہے‘ اس سستی خرید کردہ گندم سے ملک کا عام آدمی فیض یاب ہوگا اور اسے سستا آٹا میسر آئے گا۔ گندم کی فصل جب تک مارکیٹ میں ٹکے ٹوکری ہو رہی تھی‘ تب تک آٹا بھی سستا تھا جیسے ہی پرائیویٹ مافیا نے گندم مارکیٹ سے اٹھا لی‘ گندم کی قیمت کو پَر لگ گئے۔ نہ کسان کو قیمت ملی اور نہ ہی عوام کو سستا آٹا میسر آیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عوام نے اس قسم کی وارداتوں کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ وگرنہ کیا زمانہ تھا جب چند پیسے فی سیر آٹا مہنگا ہوتا تھا تو اس مہنگائی پر عوام اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور احتجاج نعروں سے آگے نکل کر سڑکوں پر آ جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں ہر قسم کا مافیا عوام کو لوٹ رہا ہے اور عوام اسے اپنا مقدر سمجھ کر برداشت کر رہے ہیں۔
میں جب اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بہت سی چیزوں سے محرومی اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے حصول پر اپنی بے پناہ خوشی کے اظہار کا ذکر کرتا ہوں تو اس سے بعض اوقات یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہمارے گھر کے مالی حالات بڑے خراب ہوں گے جبکہ معاملہ ایسا نہیں۔ اللہ بخشے ابا جی مرحوم ایمرسن کالج میں لائبریرین یعنی گزیٹڈ افسر تھے اور ماں جی ٹیکنیکل ایجوکیشن والے ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کی پرنسپل تھیں۔ اس زمانے میں معقول تنخواہ تھی‘ جو ہزاروں نہیں بلکہ سینکڑوں روپے پر مشتمل تھی لیکن اس کے باوجود ہم اپنے محلے کے متمول لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ سارے علاقے میں محض تین لوگوں کے پاس موٹر سائیکل یا سکوٹر تھا‘ ان میں سے ایک سکوٹر ابا جی کے پاس تھا۔ تب ایمرسن کالج میں ستر اسّی پروفیسر تو ضرور ہوں گے اور صرف سات یا آٹھ لوگوں کے پاس دو پہیوں والی آٹو سواری اور صرف ایک پروفیسر کے پاس سیکنڈ ہینڈ کار تھی‘ جو اس نے ولایت سے پی ایچ ڈی کرکے آنے کے بعد وہاں سے ساتھ لائی گئی رقم سے خریدی تھی۔ زندگی سادہ تھی‘ ضروریات محدود اور خواہشات محدود تر تھیں۔ اوپر والی آمدنی کے حامل شخص کو معاشرے میں اچھوت کی اہمیت حاصل تھی۔ کسی کی کسی سے پیسے کی مقابلہ بازی نہیں تھی۔ اکثریت اپنے حال میں مست اور مطمئن تھی۔ ہم عید پر نئے کپڑوں اور ہفتے میں ایک بار گورداسپور بیکری کا کیک کھا کر خوش تھے۔
پھر لالچ‘ طمع‘ حرص‘ لوبھ اور آرزو جیسی قباحتیں معاشرے میں در آئیں۔ نتیجہ بے اطمینانی کی صورت میں نکلا اور پھر جائز اور ناجائز میں فرق ختم ہو گیا۔ بدعنوانی‘ رشوت ستانی‘ بددیانتی‘ خیانت اور کمیشن سکہ رائج الوقت ٹھہرے۔ کرپشن کی کہانیاں سینکڑوں روپے سے شروع ہوئیں اور اربوں تک پہنچ گئیں۔ حکمران‘ بیورو کریسی‘ سیاستدان‘ مافیاز‘ زور آور اور اشرافیہ نے مال اکٹھا کرنا زندگی کا مقصد ومحور بنا لیا۔ کسی چیز کی کوئی حد نہیں رہی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔ یہ فرمان کم از کم میں نے تو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ معاشرے میں کرپشن در آئی ہے‘ مسئلہ یہ ہے کہ اب ہم نے ناجائز آمدنی اور ناجائز ذرائع پر شرمندہ ہونے کے بجائے اینڈنا شروع کر دیا ہے۔ اخلاقی اقدار اب صرف لغت وغیرہ میں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved