امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ بھی کوریا (1953ء)‘ـ ویتنام (1954-74ء) اورافغانستان (2001-21ء) کی جنگوں کی طرح امریکی انتظامیہ کی توقعات کے برعکس رخ اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت کے مخالف جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر آ جائیں گے‘ اسلامی حکومت کے ارکان جان بچانے کیلئے ادھر اُدھر بھاگ جائیں گے اور حکومت مخالف مظاہرین اقتدار پر قبضہ کر لیں گے۔ لیکن اس کے برعکس نہ صرف دارالحکومت تہران بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی حکومت کی حمایت میں امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے جن میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔اس کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایرانی باشندوں نے ایران پر امریکی حملے اور اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف جس طرح مظاہرے کیے‘ اس نے صدر ٹرمپ کی ایران میں رجیم چینج کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی امیدوں کی بنیاد ایران میں دو ماہ قبل مہنگائی‘ بیروزگاری اور افراطِ زر کے حوالے سے حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہرے تھے‘ ان مظاہروں نے حکومت کے ساتھ شدید جھڑپوں کی صورت اختیار کر لی تھی‘ مگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے خلاف ایرانی عوام کے ردِعمل نے ثابت کیا کہ اپنی حکومت سے شکایتوں اور پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ایرانی عوام متحد اور اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔حتیٰ کہ جو سیاسی گروہ ایران کی اسلامی انقلابی حکومت سے نظریاتی اختلاف رکھتے تھے‘ انہوں نے بھی اپنے اختلافات بھلا کر بیرونی حملے کے خلاف حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر واضح ہو گیا ہے کہ رجیم چینج کا ہدف فوری اور آسانی سے حاصل نہیں ہو سکتا؛ چنانچہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اب رجیم چینج کے بجائے ایران کے میزائل سسٹم کی تباہی کو اپنا اولین مقصد قرار دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کو آپریشن Epic Furyکا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ چار یا پانچ ہفتوں میں مکمل ہو جائے گامگر اب وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ معاملہ ہفتوں کی بجائے مہینوں تک چل سکتا ہے کیونکہ جب تک مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوتے حملے جاری رہیں گے۔صدر ٹرمپ کے علاوہ سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل کیرین کی بھی یہی رائے ہے کہ یہ جنگ کب اختتام پذیر ہو‘ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس صورتحال کے باعث نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل میں بھی بے چینی اور تشویش پیدا ہو رہی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ غیر متوقع طور پر طویل اور غیر متوقع نتائج کی حامل ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اپنے شہریوں اور مخالف سیاستدانوں کو مطمئن کرنے کیلئے یقین دلا رہے ہیں کہ ایران پر حملے غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہیں گے۔ اپنی ان یقین دہانیوں کو سچا ثابت کرنے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ اور نیتن یاہو کی حکومت ایران پر حملوں کا سلسلہ نہ صرف تیز بلکہ وسیع کر رہی ہے تاکہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ کوششیں بھی رائیگاں جائیں گی کیونکہ ایران کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت کو ختم کرنے کے باوجود ایران کی طرف سے مزاحمت جاری ہے اور اس کے میزائل نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ اور سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی مزاحمت جاری رہی تو آئندہ چند دنوں میں پہلے سے زیادہ بھاری اور تباہ کن حملے کیے جائیں گے۔ مگر ایران کی مزاحمت کے جلد دم توڑنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت کی شہادت اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے باوجود ایرانی سسٹم نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اپنے فرائض بھی سرانجام دے رہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ علی خامنہ ای کی بطور جانشین نامزدگی کی بھی اطلاعات ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں 46 برس قبل قائم ہونے والا نظام اور اس کے ادارے بدستور کام کر رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے بعد ان کے بیٹے کو باضابطہ طور پر نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا جائے گا۔ اس سے ایرانی عوام کے حوصلے اور عزم کو مزید تقویت ملے گی۔اس کے علاوہ گزشتہ سال جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایران کی قیادت نے موجودہ حملوں کے خلاف اپنی مزاحمت کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کیلئے جو حکمتِ عملی اختیار کی ہے وہ بھی ایران میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے عزائم کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تین اہم پہلو ہیں۔پہلا یہ کہ یونٹی آف کمانڈ کی جگہ ڈی سینٹرلائزیشن آف کمانڈ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اگر امریکی اور اسرائیلی طیارے‘ ڈرون اور میزائل اپنے ٹارگٹڈ حملوں میں مرکزی قیادت کو ختم بھی کر دیں تو ملک بھر میں پھیلے ہوئے آزادانہ طور پر فعال یونٹ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اپنے حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق ایرانی فورسز فکسڈ لانچنگ پیڈز کے بجائے موبائل میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ ایران میں کچھ نہیں بچا اور اس کی سیاسی اور فوجی قیادت ماری جا چکی ہے‘ ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر میزائل حملے جاری ہیں۔دوسراپہلو یہ ہے کہ جنگ کو محدود رکھنے کے بجائے ایران نے قطر‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور بحرین وغیرہ میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل حملے کر کے اس جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ شایدایران کا مقصد نہ صرف امریکہ اور اسرائیل بلکہ پوری دنیا کیلئے اس جنگ کی قیمت اس حد تک بڑھانا ہے کہ عالمی طاقتیں ٹرمپ پر یہ جارحیت روکنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ ایران کی نئی قیادت ملک میں مذہبی‘ لسانی اور علاقائی اختلافات سے بالا ہو کر قوم پرستی کی بنیاد پر ایرانی قوم کو بیرونی حملے کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ علی لاریجانی‘ جو شہادت پانے والے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور موجودہ قیادت میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں‘ کا یہ بیان کہ ایرانی عوام اپنے چھ ہزار برس پرانے تہذیبی ورثے کو تباہ ہونے کی اجازت نہیں دیں گے‘ واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ایک طویل اور کامیاب مزاحمت کیلئے ایران کی نئی قیادت ملک کے مختلف مذہبی‘ ثقافتی اور علاقائی گروہوں کو ساتھ لے کر ایرانی قوم پرستی کو مضبوط بنانا ضروری سمجھتی ہے۔ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی اس لیے کرنا پڑ رہی ہے کہ حملہ آور قوتوں کی طرف سے ایران کے غیر فارسی النسل کرد اور بلوچ باشندوں کو تہران کی مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ صدر ٹرمپ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ یہ جنگ کب ختم ہو گی اور کیا یہ صرف خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ تک محدود رہے گی یا دیگر علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
روس اور چین کے وزرائے خارجہ کی طرف سے اس جنگ کے خطرناک مضمرات پر جو بیانات سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے نتائج سے بری طرح متاثر ہونے والے خلیجی ممالک اور روس‘ چین اور یورپی ممالک‘ اسے روکنے کے لیے عملی میدان میں آ سکتے ہیں۔ ایران کی طرف سے اس جنگ کو ایک علاقائی اور عالمی مسئلہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھنے سے پہلے ہی اس تصادم کو روک دیا جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved