تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     07-03-2026

افغانستان کی پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی تاریخ

ہمیں یہ بات بڑی دیر بعد سمجھ آئی ہے کہ افغانی ہمارے دوست نہیں بلکہ آستین کے سانپ ہیں جنہوں نے تخریب کاری اور دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ چلیں دیر آید درست آید کے مصداق ہمیں اس امر کا ادراک تو ہو گیا کہ افغانیوں نے آج تک ہمیں دل سے تسلیم نہیں کیا۔ نہ صرف تسلیم نہیں کیا بلکہ پاکستان کے امن و امان کو تہ و بالاکیے رکھا اور ہمار ے ملک میں گھس کر ہمیں نقصان پہنچایا۔ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ مخاصمت کوئی نئی بات نہیں‘ یہ تاریخ بڑی پرانی ہے۔
افغانستان کے پاکستان کے ساتھ خاص کر دو تین باتوں پر تعلقات بہت عرصے سے زیادہ اچھے نہیں رہے۔ پہلا یہ کہ افغانستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں (بشمول خیبر پختونخوا‘ قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ) وہ افغانستان کا علاقہ ہے۔ اور ان علاقوں کو افغانستان میں شامل کرنے کیلئے بہت سی تحریکیں افغانیوں نے چلائیں جن میں پشتونستان تحریک معروف ہے۔ قیام پاکستان کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد 30ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔ ستمبر 1947ء میں ہی افغان حکومت نے کابل میں افغان جھنڈے کے ساتھ ''پشتونستان‘‘ کا جھنڈا لگا کر آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی۔ 1947ء میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے نوزائیدہ مسلم ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک جانے کیلئے ایک ایسی راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔ اسی طرح 1948ء میں افغانستان نے ''قبائل‘‘ کے نام سے ایک نئی وزارت کھولی جس کا کام صرف پاکستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف اُکسانا تھا۔ 1948ء میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدالکریم بلوچ کے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپ بنے۔ 1949ء میں روس کی بنائی ہوئی افغان فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ 12اگست 1949ء کو فقیر ایپی نے باچا خان کے زیر اثر افغانستان کی پشتونستان تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ جس کا افغان حکومت نے پُرجوش خیر مقدم کیا۔ 31اگست 1949ء کو کابل میں افغان حکومت کے زیر اہتمام ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں باچا خان اور مرزا علی خان عرف فقیر ایپی دونوں نے شرکت کی۔ اس جرگے میں ہر سال 31اگست کو یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ افغانستان کی پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے جنگجو گروپ کی دہشتگردانہ کارروائیاں وزیرستان سے شروع ہو کر کوہاٹ تک پھیل گئیں۔ فقیر ایپی نے چن چن کر ان پشتون عمائدین کو قتل کیا جنہوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی۔ 1949ء میں افغانستان نے اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ چمن کی طرف سے پاکستان پر بھرپور حملہ کیا جس کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے جو بعد میں واپس کر دیے گئے۔ 1954ء میں فقیر ایپی کے گروپ کمانڈر مہر علی نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا خاتمہ ہوا۔
انڈیا کے ساتھ افغانستان کی دوستی بھی بڑی پرانی ہے۔ بھارت نے اکثر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر تعلقات ہمیشہ متاثر ہوتے رہے ہیں۔ 1950ء میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔ اسی ایجنڈے کے پیش نظر ستمبر 1950ء میں افغان فوج نے بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حملہ کردیا جس کا مقصد چمن تا کوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا تھا۔ ایک ہفتے تک پاکستانی اور افغان فوجیوں میں جھڑپوں کے بعد افغان فوج بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہو گئی۔ اس حملے پر وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان نے افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی پہلی اور بڑی منظم واردات بھی ایک افغان باشندے نے ہی کی تھی۔ 16اکتوبر 1951ء کو ایک افغان قوم پرست دہشت گرد سید اکبر خان ببرک نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں گولی مار کرشہید کر دیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایما پر کیا گیا تھا تاہم عالمی دباؤ سے بچنے کیلئے کسی بھی انوالومنٹ سے انکار کر دیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ تھا یعنی پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز افغانستان نے کیا۔
چھ جنوری 1952ء کو برطانیہ کیلئے افغانستان کے سفیر شاہ ولی خان نے بھارت کے اخبار 'دی ہندو‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ ہرزہ سرائی کی کہ پشتونستان میں ہم چترال‘ دیر‘ سوات‘ باجوڑ‘ تیراہ‘ وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کریں گے۔ 26نومبر 1953ء کو افغانستان کے نئے سفیر غلام یحییٰ خان طرزی نے ماسکو کا دورہ کیا جس میں سوویت یونین سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔ جواباً انہوں نے افغانستان کو مکمل مدد کی یقین دہانی کرائی۔ 1955ء میں ہی سردار داؤد وغیرہ نے پاکستان کے بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر سپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا تھا۔ یہ غالباً افغانستان کی پاکستان کے خلاف پشتونوں کو بھڑکانے کیلئے پہلی ڈِس انفارمیشن وار تھی جس میں سپیکر ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔ نومبر 1955ء میں چند ہزار افغان مسلح قبائلی جنگجوؤں نے گروپس کی صورت میں 160کلومیٹر کی سرحدی پٹی کے علاقے میں بلوچستان پر حملہ کر دیا۔ پاک فوج سے ان مسلح افغانوں کی چھڑپیں کئی دن تک جاری رہیں۔ مارچ 1960ء میں افغان فوج نے اپنی سرحدی پوزیشنز سے باجوڑ ایجنسی پر مشین گنوں اور مارٹرز سے گولہ باری شروع کر دی جس کے بعد پاکستانی ایئر فورس کے 26طیاروں نے افغان فوج کی پوزیشنز پر بمباری کی۔ 28ستمبر 1960ء کو افغان فوج نے چند ٹینکوں اور انفینٹری کی مدد سے باجوڑ ایجنسی پر حملہ کر دیا۔ پاکستان آرمی نے ایک مرتبہ پھر افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوئے واپس دھکیل دیا۔ 1960ء میں ہی افغانستان میں پاکستان کے خلاف شیر محمد مری کے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ مئی 1961ء میں افغانستان نے باجوڑ اور خیبر پر ایک اور محدود پیمانے کا حملہ کیا۔ اس مرتبہ اس حملے کا مقابلہ فرنٹیئر کور نے کیا اور اس دفعہ بھی پاکستانی فضائیہ کی بمباری نے حملے کا منہ موڑ دیا۔ 1965ء میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو افغانستان نے موقع غنیمت جان کر دوبارہ مہند ایجنسی پر حملہ کر دیا۔ لوگ حیران رہ گئے کہ انڈیا نے افغانستان کی طرف سے کیسے حملہ کر دیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ افغانیوں نے کیا ہے۔ اس حملے کو مقامی پشتونوں نے پسپا کر دیا۔ 1970ء میں افغانستان نے ''ناراض پشتونوں اور بلوچوں‘‘ کے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ عدم تشدد کے نام نہاد علمبردار اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک ان کیمپس کا حصہ تھے۔ 17جولائی 1973ء کو محمد داؤد خان نے افغانستان کا صدر بنتے ہی اپنے پہلے ریڈیو خطاب میں کہا کہ پختونستان ہمارے آباؤ اجداد کی کھوئی ہوئی میراث ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یہ مسئلہ صرف پختونوں کی خواہشات کے مطابق ہی حل ہو سکتا ہے۔ دنیا جان لے کہ افغانستان کا دنیا میں کسی ملک کے ساتھ کوئی تنازع نہیں سوائے پاکستان کے اور افغانستان اس تنازعے کے حل کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ اس کے بعد بھی جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے‘ افغانستان کی طرف سے کبھی ٹھنڈی ہوا نہیں آئی بلکہ تخریب کاری ہی ہوتی رہی‘ اور ہنوز جاری ہے جس کا جواب دینا اور قلع قمع کرنا اب ناگزیر ہو گیا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved