تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     08-03-2026

ہمتِ مسلمہ کی کوئی حد نہیں

بات سادہ سی ہے لیکن بہت سے سیانوں کو سمجھ نہیں آ رہی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے پاکستان کا دفاع مضبوط نہیں ہوا ‘کمزور ہوا ہے۔ ایران کو کچھ ہوا یا وہاں تباہی زیادہ مچی تو بیرونی خطرہ ہمارے قریب‘ ہماری سرحدوں تک آ جائے گا۔ اسلامی اخوت کی بات نہیں‘ ہمارے قومی مفاد میں ہے کہ ایران میں ایک مستحکم حکومت ہو۔ امریکی اور اسرائیلی طیارے ایرانی فضاؤں میں کھلے پھریں اور آگ اور تباہی پھیلائیں اور پاکستان سمجھے کہ اُس کا اس جارحیت سے کوئی لینا دینا نہیں‘ پرلے درجے کی بیوقوفی ہوگی۔
افغانستان میں جو کچھ چالیس سال سے ہوتا رہا اُس کا ہم پر اثر نہیں پڑا؟ افغانستان کی شورشوں نے پاکستانی مزاج اور پاکستانی ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ جس مذہبی انتہا پسندی کا آج رونا رویا جاتا ہے اس کی جڑیں افغانستان کی شورشوں سے جا ملتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے چھوٹے موٹے لالچ کے لیے اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں جس کے نتیجے میں تباہی کو یہاں آنے کی دعوت ملی۔ ایران کی وحدت اور استحکام کو موجودہ جنگ سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یوں سمجھنا چاہیے کہ ہماری مغربی سرحد یعنی بلوچستان کا بارڈر جتنا اب ننگا ہے اُس سے کچھ زیادہ ہو جائے گا۔ یہ چیز دیکھنے کے لیے کسی بھاری بھرکم ٹیلی سکوپ کی ضرورت نہیں۔ ایرانی حکومت کہیں نہیں جا رہی‘ سات آٹھ دنوں میں ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنے کی اُس میں صلاحیت ہے۔ لیکن مفروضے کے طور پر اگر یہ مان لیا جائے کہ موجودہ حکومت کہیں جاتی ہے تو بعد میں جو بندوبست ہو گا اُس پر امریکی اور اسرائیلی اثر حاوی ہوگا۔ کیا یہ ہمارے فائدے کی بات ہوگی؟ کیا ہم چاہیں گے کہ اسرائیلی خفیہ سروس موساد کی پہنچ بلوچستان اور پاک افغان بارڈر تک ہو؟
اسلامی دنیا کے انفرادی ممالک کو حالیہ تاریخ سے کچھ سبق تو سیکھنا چاہیے۔ موقع ملا تو لیبیا کو بخشا گیا؟ معمر قذافی نے مغربی طاقتوں کی ہر بات مان لی تھی لیکن ان طاقتوں نے جب کرنل قذافی کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو اُسے نہ بخشا گیا۔ سرتے شہر جو کہ لیبیا کے مغرب میں ہے وہاں سے کرنل قذافی ایک کانوائے میں بھاگ کر جا رہا تھا اور فرانسیسی جہازوں نے اُس کانوائے پر حملہ کر دیا اور کرنل قذافی کو قریب ایک پانی کی لائن میں پناہ لینی پڑی۔ مغرب کے حمایت یافتہ باغی اُس مقام پر پہنچے تو وہاں سے کرنل قذافی کو گھسیٹ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عراق کے ساتھ جو ہوا ہم بھول گئے ؟ کون سے صدام حسین کے پاس جوہری یا اُس قسم کے ہتھیار تھے لیکن جھوٹ کا پلندہ اکٹھا کیا گیا اور جھوٹ کی بنیاد پر عراق پر حملہ داغا گیا۔ شام کے ساتھ کیا ہوا؟ حافظ الاسد شام کا سربراہ تھا تو شام کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک طاقت کے طور پر مانا جاتا تھا۔ اب کیا حالت ہے شام کی؟ اب کیا حالت ہے حزب اللہ کی؟ 2006ء میں حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے دانٹ کھٹے کیے تھے لیکن آج طاقت کا توازن اُس خطے میں اس بری طرح متاثر ہوا ہے کہ اسرائیل مخالف قوتیں ایک ایک کرکے پِٹ رہی ہیں۔
ان سارے معاملات میں ایران کی غلطیاں ہوں گی۔ اپنے استحکام پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ایران بیرونی جھمیلوں میں پڑا رہا۔ انقلاب کی زبان اور انقلابی نعروں سے گلف بادشاہتوں کو ایران سے شکایات رہیں۔ لیکن بہت پانی سمندروں میں بہہ چکا ہے اور اس حملے کی صورت میں نئی حقیقتیں سامنے آ گئی ہیں۔ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ عرب بادشاہتوں کا احساسِ تحفظ بری طرح مجروح ہوا ہے۔ اورا ن بادشاہتوں نے دیکھ لیا ہے کہ امریکی تحفظ بے معنی چیز ہے اور ان ممالک کو خطرہ ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ سے ہے۔ امریکہ کو سعودی عرب‘ قطر‘ بحرین‘ کویت اور یو اے ای کی اتنی فکر ہوتی تو ایران پر حملے سے پہلے کچھ تو ان ممالک سے صلاح مشورہ کر لیا ہوتا۔ لیکن اسرائیل نے ارادہ بنایا ایران پر حملہ کرنے کا اور امریکہ اُس کے ساتھ نتھی ہو گیا۔ بغیر کسی اور ملک کو بتائے یا کسی سے مشورہ کیے۔ نقصان ان ممالک کو اٹھانا پڑا ہے۔ ان سب کا تیل بند‘ آبنائے ہرمز بند‘ قطرکے گیس پلانٹ بند اور امریکہ اپنا تیل خوش و خرم بیچ رہا ہے۔ کرنل قذافی سے بھی عرب ممالک نالاں تھے۔ شام سے نالاں تھے۔ اپنے وقت میں صدام حسین سے بھی شکایات تھیں ۔ لیکن ان تینوں ممالک کی تباہی کے بعد عرب اور اسلامی دنیا کی حیثیت کمزور ہوئی ۔ رہی سہی کسر اس جنگ نے پوری کر دی ہے اور اس کے نتیجے میں لگتا تو یوں ہے کہ اس خطے کا سارا شیرازہ ہی بکھر گیا ہے اور امریکہ اور اسرائیل جو چاہیں کر رہے ہیں۔
ہاں‘ امریکہ اور ایران کے ارادوں کی تکمیل میں کوئی چیز حائل ہے تو ایران کی ہمت اور استقامت۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس جو کچھ ہے وہ ایران کی طرف پھینک رہے ہیں۔ سو سو اور دو دو سو جہازوں کے حملے ایران پر ہوئے ہیں لیکن ایران نہ صرف کھڑا ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچا رہاہے۔ کون سا امریکی اڈہ اس خطے میں ہے جہاں ایرانی میزائلوں نے حملہ نہیں کیا؟ کویت‘ بحرین‘ یو اے ای ‘ قطر اور سعودی عرب‘ ان سارے ممالک میں امریکی اڈے ہیں اور ان سب پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ آزاد ذرائع کے تخمینوں کے مطابق امریکہ کو روزانہ ایک بلین ڈالر کا خرچہ پڑ رہا ہے۔ ایرانی ڈرون تو سستے داموں بنتے ہیں لیکن انہیں روکنے کیلئے جو امریکہ اور اسرائیل کو میزائل مارنے پڑتے ہیں وہ دو دو تین تین ملین ڈالرز پر جا پہنچتے ہیں۔ خبریں آ چکی ہیں کہ میزائل اور ڈرون شکن راکٹوں کی امریکیوں کو کمی پڑ رہی ہے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ امریکی وزارتِ دفاع کانگریس کے سامنے پچاس بلین ڈالرکی ڈیمانڈ رکھنے جا رہا ہے۔ موازنہ کیا جائے تو ایران اور اُس کے حریفوں کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا‘ اسلحے کے لحاظ سے امریکہ اور اسرائیل اتنے حاوی ہیں لیکن پھر بھی ایرانی قوم کو داد دینی پڑتی ہے کہ اتنا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔
یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ آس پاس کے مسلم ممالک جن میں ہم بھی شامل ہیں اپنی فوجیں اس جنگ میں دھکیل دیں۔ لیکن اتنا تو بنتا ہے کہ کھل کے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی جائے۔ شاہ فیصل بھی تو تھے جنہوں نے 1973ء میں جب عرب ممالک اور اسرائیل میں جنگ چھڑی تو تیل کی برآمدات کی بندش کا اعلان کیا۔ اس بندش سے جیسے زلزلہ آتا ہے مغربی معیشتوں کو ایسا محسوس ہوا۔ لیکن شاید وہ وقت اور تھا اور آج کا وقت اور ہے کیونکہ عملی اقدامات تو دور کی بات ہے اسلامی دنیا کی حالت یہ ہے کہ مناسب الفاظ بھی اس سے ادا نہیں ہو رہے۔ یوکرین پر روس نے حملہ کیا تو پوری مغربی دنیا نے روس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یوکرین کے لیے امداد کے دریا بہا دیے۔ چار سال بعد بھی یوکرین کو مغربی ممالک سے امداد مل رہی ہے۔ یہاں ایران اکیلا کھڑا ہے۔ کوئی ایک مسلم ملک اُس کی امداد کو نہیں آ رہا۔ کسی ایک مسلم ملک نے کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت نہیں کی۔ سب عملیت پسندی کے مجسمے بنے ہوئے ہیں۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہ جذبات کی بات نہیں ہمارا بنیادی مفاد اس میں ہے کہ ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے ایران قائم و دائم رہے۔ نہیں تو بصورتِ دیگر پاکستان کی سالمیت اور وحدت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved