تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     08-03-2026

دیوارِ کابل میں دراڑیں

جنگ انسانیت کے لیے دہشت اور بربادی کی وہ علامت ہے جس کا نام سنتے ہی ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ آباد بستیوں کو کھنڈرات میں بدلنے اور ہنستی کھیلتی زندگیوں کو سسکتی موت دینے کا دوسرا نام ہے جو ممالک براہِ راست جنگ کا حصہ بنتے ہیں‘ ان کی معیشت کا زمین بوس ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن جدید دور میں سپلائی چین کے متاثر ہونے اور تجارتی راستوں کی بندش سے درجنوں دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال میں اگرچہ بظاہر جنگ امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہے مگر اس کے منفی اثرات پورا خطہ محسوس کر رہا ہے۔ ان نامساعد حالات میں پاکستان کو خطے کا ایک پُرامن ملک قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود پاکستان بھی اس عالمی بے چینی سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مقامی سطح پر قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور پاکستان جیسے ممالک‘ جہاں سٹوریج کی گنجائش محدود ہے‘ وہاں ایندھن کی قلت کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ملک جنگ کو آخری آپشن سمجھتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ تنازعات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ اس کی واضح مثال ہے‘ جہاں میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہونے کے باوجود جب عالمی قوتوں نے جنگ بندی پر زور دیا تو پاکستان نے اسے فوراً قبول کر لیا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ جنگوں کو طول دینا کسی کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ آج ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے معاملے میں بھی عالمی برادری کی یہی کوشش ہے کہ آگ کے اس الاؤ کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ زندہ قومیں ہمیشہ امن کے موقع سے فائدہ اٹھاتی ہیں‘ تاہم اس روئے زمین پر کچھ خطے اور قیادتیں ایسی بھی ہیں جو دانستہ طور پر جنگوں کو طول دینا چاہتی ہیں اور جب بھی قیام امن کیلئے مذاکرات کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے سبوتاژ کر کے تصادم کی راہ اختیار کر لیتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان اس وقت اپنی تاریخ کے نہایت حساس اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ بظاہر کابل میں اقتدار ایک ہی قوت کے ہاتھ میں ہے مگر زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔ سیاسی بے چینی‘ کمزور معاشی نظام اور غیرمنظم سکیورٹی ڈھانچے نے افغان ریاست کو اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو عدم استحکام کی نئی لہر میں دھکیل سکتا ہے۔ طالبان قیادت کے اندر سب سے بڑا بحران سیاسی ساکھ کا ہے۔ اقتدار سنبھالتے وقت جو وعدے کیے گئے تھے ان میں امن‘ نظم اور استحکام کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے‘ مختلف مسلح گروہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور داخلی نظم مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکا۔ طالبان کے بعض حلقے نجی گفتگو میں اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ تمام مسلح نیٹ ورکس پر ان کا مکمل کنٹرول نہیں۔ افغان معاشرہ بھی اس صورتحال کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ ازبک‘ تاجک‘ ہزارہ‘ ترکمان‘ حتیٰ کہ بڑی تعداد میں پشتون بھی طالبان قیادت کی بعض پالیسیوں سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ کئی حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ضد‘ انا اور طاقت کے استعمال پر مبنی حکمت عملی افغانستان کو طویل اور نہ ختم ہونے والی ایک اور جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کو بعض افغان حلقے ایک انتباہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
افغانستان کے سابق سیاسی اور سکیورٹی رہنماؤں کی جانب سے بھی نئی آوازیں سامنے آ رہی ہیں۔ احمد شاہ مسعود جونیئر اور امر اللہ صالح جیسے رہنما کھل کر یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ موجودہ بحران کی بنیادی ذمہ داری طالبان قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ امر اللہ صالح ماضی میں افغان انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ رہے اور بعد میں اشرف غنی حکومت میں نائب صدر کے عہدے تک پہنچے‘ وہ بھی بار بار اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر افغانستان کو نئی تباہی سے بچانا ہے تو سیاسی قیادت کو خاموشی توڑنا ہو گی۔ اسی طرح دیگر افغان رہنماؤں پر بھی نظریں مرکوز ہیں۔ انجینئر گلبدین حکمت یار‘ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ‘ حامد کرزئی‘ استاد عبدالرسول سیاف‘ استاد برہان الدین ربانی کے سیاسی و فکر سے وابستہ حلقے اور مارشل عبدالرشید دوستم جیسے رہنماؤں کے بارے میں افغان عوام میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ وہ اس مرحلے پر کیا کردار ادا کریں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی اور مذہبی دھڑوں ‘جیسے جمعیت اسلامی‘ حزب اسلامی‘ جنبش ملی‘ وحدت اسلامی‘ حرکت اسلامی‘ افغان ملت اور دیگر قومی و علاقائی جماعتوں کے کارکن بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی سیاسی تاریخ میں لویہ جرگہ ہمیشہ ایک اہم قومی فورم رہا ہے۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک جامع لویہ جرگہ ہی وہ راستہ ہو سکتا ہے جہاں مختلف قومیتوں‘ سیاسی جماعتوں‘ مذہبی حلقوں اور قبائلی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ اگر ایسے کسی جرگے سے کوئی مشترکہ قومی فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف کابل کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
طالبان قیادت کے لیے اس وقت سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ افغانستان کو مزید کشیدگی کی طرف لے جاتے ہیں یا ایک ذمہ دار ریاستی کردار اختیار کرتے ہیں۔ خطے کے حالات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے جو پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بنے۔ اگر افغانستان ایک بار پھر ایسے راستے پر چلا جاتا ہے جہاں مسلح گروہوں کو جگہ ملتی ہے تو اس کے نتائج ماضی کی طرح تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ افغان معاشرے کے مختلف طبقات اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ مسلسل جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ افغانستان کو اس وقت سیاسی بصیرت‘ قومی مفاہمت اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر مختلف افغان رہنما اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ قومی حکمت عملی تشکیل دیتے ہیں تو یہ نہ صرف افغانستان کو ایک نئی تباہی سے بچا سکتا ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام کیلئے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
افغانستان کی تاریخ طویل جنگوں سے عبارت ہے‘ لیکن ہر دور میں اس کی بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ وہاں کی قیادت کو جب بھی امن کا موقع ملا‘ انہوں نے اس سے اعراض برتا۔ افغان قیادت کی مثال ایسی ہے کہ بیرونی دشمن کو شکست دینے میں تو متحد رہے مگر آپس کے اختلافات کو ختم کرنے میں شکست کھا گئے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور فیصلہ اب کابل کے حکمرانوں پر ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بننے دیتے ہیں یا ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ حالات اور افغان قیادت کے رویے کو دیکھ کر یہ تاثر پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ تمام تر عالمی و علاقائی دباؤ کے باوجود ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے افغانستان کی موجودہ قیادت مصالحت کے ہر دروازے پر تالا لگا کر تاریخ کی اسی بند گلی میں دوبارہ داخل ہو رہی ہے جہاں ضد اور انا کی پالیسیاں نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کو ایک نئے انسانی المیے اور لامتناہی جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved