علامہ محمد اقبال نے ساقی نامہ میں لکھا:
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
ہوا اس طرح فاش رازِ فرنگ
کہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ
پرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں مِیر و سلطاں سے بیزار ہے
گیا دورِ سرمایہ داری گیا
تماشا دِکھا کر مداری گیا
لیکن ہم نے ان کے پیغام کو سمجھ نہیں سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی خوار و زبوں حال ہیں۔سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے لیے دشمن نے جو جو جال بچھائے اور جو جو تیاریاں کیں، انہیں سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو مائنڈ بلوئنگ ہی کہا جا سکتا ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ تہران میں سپریم لیڈرکی شہادت کے بعد مختلف ذرائع سے جو خبریں اور رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ کارروائی ایک طویل اور منظم خفیہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔
فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں اس حوالے سے کچھ انکشافات کیے ہیں، پہلے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں، پھر آگے بات کریں گے۔ جریدے نے لکھا ہے کہ اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو کئی برس قبل ہی ہیک کر لیا تھا اور ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کے لیے کئی برسوں پر محیط خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی۔ ان ٹریفک کیمروں سے حاصل ہونے والی تصاویر کو خفیہ طریقے سے تل ابیب اور جنوبی اسرائیل میں موجود Servers تک منتقل کیا جاتا رہا اور سکیورٹی اہلکاروں کی روزمرہ سرگرمیوں، گاڑیاں پارک کرنے کے مقامات اور کمپاؤنڈ کے اندرونی معمولات پر نظر رکھی جاتی رہی۔ ان کیمروں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے اسرائیلی انٹیلی جنس نے پیچیدہ لاگرتھمز اور سوشل نیٹ ورک انیلسز کے ذریعے سکیورٹی گارڈز اور دیگر متعلقہ افراد کی رہائش، ڈیوٹی اوقات، سفر کے راستوں اور ذمہ داریوں کا مکمل پیٹرن آف لائف تیار کیا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مخصوص وقت پر کون کہاں موجود ہوتا ہے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار کے بقول ہم تہران کو ایسے جانتے تھے جیسے یروشلم کو جانتے ہیں۔ اس پورے نیٹ ورک میں اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ، موساد کے انسانی ذرائع اور فوجی انٹیلی جنس کی روزانہ رپورٹس شامل تھیں جنہوں نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے اہداف کی نشاندہی کی۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ برس ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے سائبر حملوں، ڈرونز اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنایا اور متعدد سائنسدانوں اور فوجی افسران کو نشانہ بنایا۔ اسپارو نامی میزائل، جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس حکمت عملی کا حصہ تھا۔
اس رپورٹ کی تفصیلات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارا دشمن کتنی آگے کی سوچتا ہے اور ہم کہاں کہنہ روایات پر اڑے ہوئے ہیں۔ الکتاب میں پروردگار عالم کے حکم کا مفہوم یوں ہے: اور جہاں تک ممکن ہو کافروں کے مقابلہ کے لیے قوت اور جنگی گھوڑے تیار رکھو، جن سے تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے دشمنوں کو خوفزدہ کر سکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے، اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور تمہارے ساتھ کچھ بے انصافی نہ ہو گی۔ آج امت مسلمہ تمام تر وسائل کی حامل ہونے کے باوجود اگر پسماندہ اور درماندہ ہے تو اس کی بنیادی وجہ اس حکم سے روگردانی ہی ہے۔ ہمارے گھوڑے پتا نہیں کہاں کھو گئے ہیں۔ اتنی بھی کیا بے خبری کہ ٹریفک کیمرے ہیک ہو گئے اور کسی کی اس طرف توجہ ہی نہیں گئی۔ ویسے تو ہم انٹر نیٹ پر جو بھی ڈیٹا استعمال کرتے ہیں وہ سارے کا سارا دشمنوں کے پاس ہی جاتا ہے پھر بھی اب کم از کم دوسرے مسلم ممالک کو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کے کیمرے تو ہیک نہیں ہو چکے۔
واضح ہوا کہ ہم نے اپنا نقصان دشمن کے حملوں سے زیادہ اپنی غفلتوں سے کیا۔ اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حماس کے سربراہان اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ السنوار کو کیسے راستے سے ہٹایا گیااور لبنان میں حزب اللہ کے قائد حسن نصراللہ کو کیسے شہید کیا گیا۔ دشمن نے سب سے پہلے ایران کو نہتا کیا اور اب اس پر کاری ضرب لگانے کے در پے ہے۔ دشمن ہمارے شہروں، گلیوں بازاروں، گھروں اور کمروں تک پہنچ چکا ہے اور ہمیں علم ہی نہیں ہوا۔ ضروری ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ تمام مسلم ممالک اپنے اپنے ٹریفک سگنلز اور اپنی اپنی ویب سائٹوں کا از سر نو جائزہ لیں اور انہیں محفوظ بنائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ چیز حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس کی طرف علامہ اقبال نے اشارہ کیا تھا یعنی جدید علوم۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جدید مواصلات کی تمام تر ایجادات مغرب میں ہو رہی ہیں اور ہم ان ایجادات کو صرف اور صرف ایڈاپٹ کرنے پر مجبور ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک، خاص طور پر امریکہ، چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں، سائبر آپریشنز کو اپنی فوجی حکمت عملی اور دفاعی نظریے کا حصہ بنا چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے ہیں؟
حال ہی میں پاکستان نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے اینڈ پوائنٹ ڈیٹکشن اینڈ رسپانس اینٹی وائرس سسٹم تیار کیا اور اسے تمام سرکاری کمپیوٹرز پر انسٹال کر دیا گیا۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم اس سسٹم کو چلانے اور نگرانی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اینڈ پوائنٹ ڈیٹکشن اینڈ رسپانس سسٹم کمپیوٹرز، سرورز، موبائل اور آئی او ٹی ڈیوائسز کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور ہیکنگ اور دیگر سائبر حملوں کو بروقت روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔اچھی بات ہے لیکن دشمن جس حد تک گہری چالیں چلتا ہے، اس کو سامنے رکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا اتنے اقدامات کافی ہیں؟ میرے خیال میں تو اس سے بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ مغرب نے آئی ٹی اور اے آئی کو اپنا غلام بنا لیا ہے، ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟
علامہ نے یہ درس بھی دیا تھا:
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اَڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
یہ کاروانِ ہستی ہے تیز گام ایسا
قومیں کچل گئی ہیں جس کی رواروی میں
اب یہ ہم پر ہے کہ تیز رفتار کاروانِ ہستی کے شانہ بشانہ تیز گام ہو کر آگے بڑھنا ہے یا طرزِ کہن پر اڑے رہنا ہے۔ اگلے زمانوں میں جو جنگیں ہونے والی ہیں ان کے نتائج کا خاصا انحصار اس سلسلے میں ہمارے فیصلوں پر ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved