رہبرِاعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے امریکہ نے سمجھا تھا کہ اس نے ایران پر فتح پا لی ہے‘ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ اب ہر ایرانی آیت اللہ خامنہ ای کا نظریاتی وارث بن کر سامنے آیا ہے اور سامراجی قوتوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی عوام میں اتحاد کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ایران اور مشرقِ وسطیٰ ہی کیلئے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک جانب غاصب اور قابض اسرائیل اور اس کا سرپرستِ اعلیٰ امریکہ ہے تو دوسری جانب ایران اپنے تمام تر محدود وسائل کے ساتھ عالمی سامراج کے سامنے سینہ سپر ہے‘ جس کی سوچ یہی تھی کہ اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد ایران میں عوامی بے چینی حکومت کیلئے خطرہ بن جائے گی‘ تاہم تہران نے شدید نقصان کے باوجود جس سرعت اور شدت سے امریکہ اور اسرائیل کو جواب دیا اس نے یہ سارے تخمینے غلط ثابت کر دیے۔ وہ اس خام خیالی کا شکار تھے کہ تہران کی قیادت پر کاری ضرب لگا کر اس نظام کو ریت کی دیوار کی طرح ڈھا دیں گے اور پھر اپنے گماشتوں کے ذریعے ایک کٹھ پتلی حکومت ایران پر مسلط کر دیں گے۔ مگر ایران کی سرزمین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی جڑیں عوامی شعور اور مضبوط ریاستی اداروں میں پیوست ہیں۔ یہ وہ چٹان ہے جس سے ٹکرا کر امریکی خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔
امریکہ ایران پر حالیہ جارحیت کو کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے بروقت خاتمے اور کبھی نظام کی تبدیلی کا نام دے رہا ہے‘ لیکن اس جنگ نے امریکہ کی نام نہاد پالیسیوں کا بھی پول کھول دیا ہے۔ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ یہ امریکہ کی اپنی جنگ نہیں بلکہ وہ محض قابض اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور سفاکیت کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ امریکہ نے دنیا کو دکھانے کیلئے پہلے ایران کیساتھ مذاکرات کا ڈرامہ رچایا اور مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ کے آغاز سے قبل ایران پر فضائی حملے کر کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا ۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے اسماعیل ہنیہ‘ حسن نصر اللہ‘ عماد مغنیہ اور محسن فخری زادہ جیسے رہنماؤں کو بھی ان کے محفوظ ترین ٹھکانوں پر نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
میں نے اپنے پچھلے کالم میں واضح کیا تھا کہ تہران کا جوہری پروگرام‘ اسرائیل کی سلامتی‘ خلیجی ممالک کی بے چینی اور امریکہ کی بالادستی‘ان سب عوامل نے مل کر خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے خلاف کوئی بھی عسکری کارروائی صرف ایک ملک کے خلاف جنگ نہیں ہو گی بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے مفادات کی جنگ بن جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ اگر ایران میں براہِ راست یا بالواسطہ فوجی کارروائی کرتی ہے تو یہ جنگ صرف تہران تک محدود نہیں رہے گی۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی عالمی ترسیل میں رکاوٹ اور توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا‘ موجودہ حالات نے یہ بات ثابت کر دی ہے۔ عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اسی طرح قدرتی گیس کی ترسیل کیلئے بھی آبنائے ہرمز ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان نقل و حرکت ممکن ہوتی ہے۔ 33سے 39کلومیٹر تک چوڑی یہ اہم گزرگاہ اب ایران کی دسترس میں ہے۔ اس بین الاقوامی راستے کی بندش کا سلسلہ کتنا طویل ہوتا ہے‘ یہ کہنا قبل از وقت ہے۔
دوسری جانب خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈے ان کیلئے رحمت کے بجائے زحمت ثابت ہوئے ہیں۔ امریکی حملوں کے بعد ایران نے بحرین‘ کویت اور قطر میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈوں اور تنصیبات کو خاک کا ڈھیر بنا دیا جبکہ ریاض میں امریکی سفارت خانے کو بھی ہدف بنایا ۔ آج تک دنیا یہ سمجھتی تھی کہ امریکہ کے پاس ایسا جدید اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی موجود ہے کہ کوئی ملک اس پر حملہ آور نہیں ہو سکتا لیکن خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور ابراہیم لنکن جہاز پر لگنے والے ایرانی میزائلوں نے اس خیال کو ہوا میں تحلیل کر دیا ہے کہ امریکہ کی دفاعی طاقت ناقابلِ تسخیر ہے۔ لہٰذا مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی ان ریاستوں کے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔ ایران نے پہلے ہی وضاحت کر دی تھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا ٹارگٹ امریکی فوجی اڈے ہیں لیکن اسرائیل نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سعودی عرب کی آرامکو ریفائنری پر حملہ کرکے اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی‘ جس کی ایران نے فوراً تردید کر دی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو یومیہ تقریباً نوے ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ اسرائیل کو بھی تین ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
عالمی اقتصادی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ یہ طویل جنگ امریکہ اور اسرائیل کیلئے معاشی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ میں کل قومی قرضوں کا تناسب جی ڈی پی کے لحاظ سے فروری 2026ء تک 136 فیصد تھا۔ اسرائیل کی معیشت بھی غزہ جنگ کے بعد سے غیر مستحکم ہے‘ اس کے قومی قرضوں کا تناسب جی ڈی پی کے لحاظ سے غزہ وار سے پہلے چھ فیصد تھا جو فروری 2026ء میں 70.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور ایران کی جنگ میں یہ 80 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کی فروری 2026ء کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ جنگ جاری رہی تو اسرائیل کی معیشت مزید متاثر ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ یہود و نصاریٰ پر انحصار کرنے کے بجائے خلیجی ریاستیں اپنی صفوں کو مستحکم کریں۔
امریکہ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل دیا ہے اور لاکھوں شہریوں کو تکلیف اور عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر فضائی حملے کیے۔ جب ایران نے پلٹ کر وار کیا تو اس نے سارے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران جانتا ہے کہ اس کی اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں طاقت کم ہے تاہم اس نے جس حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔ اس نے باطل قوتوں کے سامنے جھکنے اور ان کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ طاقت کے آگے جھکا نہیں جا سکتا اور باطل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
صہیونی جارحانہ کارروائیوں کا ساتھ دے کر امریکہ جارحیت کے سلسلے کو طول دے رہا ہے جو صرف ایران ہی نہیں بلکہ پورے خلیجی خطے کیلئے خطرہ ہے۔ ایران پر ناکام جارحیت کے بعد داخلی انتشار پیدا کرنے کیلئے کرد ملیشیا کی فوجی مدد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی ایران کے سربراہ مصطفی ہجری سے رابطہ کیا۔ اس جنگ کی وجہ مڈٹرم انتخابات بتائے جا رہے ہیں جو نومبر میں ہیں۔ ادھر اسرائیل میں بھی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے لیے دونوں ملکوں کے سربراہوں نے مشترکہ طور پر یہ کھیل کھیلا ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور اپنی معاشی حالت کی وجہ امریکی عوام ٹرمپ سے نالاں ہیں جبکہ ادھر نیتن یاہو کو بدعنوانی اور وار کرائم کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ امریکی صدر کے سابقہ اور موجودہ دورِ اقتدار کا بغور جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کی سفارتی‘ عسکری اور مالی حمایت میں اضافہ کر کے اس کی انتہا پسند پالیسیوں کو شہ دی گئی۔
افسوس کہ او آئی سی جیسے فورمز مسلم ممالک کے خلاف ایسی کارروائیوں پر بیانات تو جاری کرتے ہیں مگر عملی اتحاد آج تک کہیں دکھائی نہیں دیا۔امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ اگر بڑی طاقتیں یونہی اپنے مفادات کو عالمی استحکام پر فوقیت دیتی رہیں تو ایران میں رجیم چینج کے خواب اور عسکری مہم جوئی کا خمیازہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورا خطہ بھگتے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved