تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     09-03-2026

بڑا جھوٹ

یہ کوئی نئی بات نہیں‘ ماضی میں بھی بڑی طاقتوں نے اپنے سے کمزور ممالک پر جنگ مسلط کرتے وقت بڑے بڑے جھوٹ پھیلائے۔ امریکی قیادت جو کچھ اس وقت ایران کے خلاف جنگ کے جواز میں کہہ رہی ہے‘ وہ اس کے ماضی سے ہم جدا نہیں کر سکتے۔ پہلا تو سب سے بڑا جھوٹ جو صدیوں پہلے شروع ہوا وہ ہمارے علاقوں میں استعماریت کی زبان تھی۔ بنیادی مقصد تو ہماری قدرتی دولت‘ صارفین کی منڈی اور وسائل کی لوٹ مار تھی‘ مگر نام اسے ''تہذیب‘‘ اور ہم ''گنواروں‘‘ کو ''مہذب‘‘ بنانے کا دیا۔ ان کے اور ان کے حواریوں کے نزدیک یہاں پہلے سے کوئی تہذیب نہ تھی۔ اگر تھی تو وہ صرف مغرب کی تھی جس کو ہمارے ہاں لانے کا وہ انسانی فریضہ انجام دے رہے تھے۔ طاقتور ملکوں کے اندر ہوں یا باہر‘ اس نوعیت کے بیانیے معاشرے کی ذہن سازی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ دنیا میں تمام ظالم اور جابر بادشاہوں سے لے کر استعماری طاقتوں تک ہمیشہ ''نجات دہندہ‘‘ کا لبادہ پہن کر ہی کمزور وں کو مغلوب کیے رکھا۔ جنہیں شعور کی روشنی کا فیض تھا وہ کبھی ایسے دھوکے میں نہ آئے‘ اور جس قدر ممکن تھا اپنے حالات کے مطابق ان کی مزاحمت کی۔
بہت عرصہ سے ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ استعماری دور ختم ہو چکا اور اپنی اپنی ریاست بنا کر ہم نے آزادی حاصل کر لی۔ دیکھنے میں اور ظاہری طور پر ایسا ہی ہے۔ جو بھی آزادی ہمیں حاصل ہے وہ بھی کئی لحاظ سے غنیمت ہے مگر یہ وہ نہیں جو موجود تھی اور وہ بھی نہیں جو ہم نے اپنے خوابوں اور جذبوں میں پال رکھی تھی۔ ریاستیں بعد از نو آبادیاتی نظام کی ہوں یا اس سے پہلے کی‘ وہ وقت کے معروضی حالات اور ایک عالمی نظام کے تناظر میں اپنی سیاسی آزادی اور اقتدارِ اعلیٰ کو استعمال کر سکتی ہیں۔ جب سے جدید ریاست وجود میں آئی ہے‘ بڑی طاقتیں یہ عالمی نظام اپنے نظریات اور مفادات کے تقاضوں کے تحت تشکیل اور تبدیل کرتی رہی ہیں۔ کوئی مقابلہ بازی جو اُن کے مفادات کو زک پہنچا سکے‘ انہوں نے طاقت سے دبانے میں کبھی لچک نہیں دکھائی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ریاستوں کے وجود اور اس کی سیاست سے لے کر بقا اور سلامتی‘ سب طاقت کا کھیل ہے۔ اگر یہ دولت حاصل ہے تو کوئی اخلاقی رکاوٹ جارحانہ پالیسیوں‘ فوجی مداخلت اور اب تو ریاستوں کے انہدام اور انسانی معاشروں کی تباہی میں رکاوٹ نہیں۔ اس کے لیے جو بھی بیانیے بنائے جاتے ہیں وہ سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہیں۔
ایران پر حالیہ جنگ مسلط کرنے کے بعد ہمارے ماضی اور حال کے امریکی دوست جو کہہ رہے ہیں وہ آپ نے دیکھ اور سن لیا ہو گا۔ موجودہ ایرانی ریاستی ڈھانچے اور مقتدر طاقت کو وہاں فوجی طاقت سے ختم کر کے نیا ایران بنانا چاہتے ہیں جو ''خوشحال‘‘ اور ''عظیم‘‘ ہوگا۔ وہاں ''آزادی‘‘ ہوگی اور لوگ امن وسکون سے رہیں گے۔ اس کے لیے فیصلہ امریکی قیادت کرے گی کہ ایران میں حکومت کون کرے گا۔ دیکھیں کتنا بڑا تضاد ہے! ایک طرف آزادی اور دوسری طرف وہاں پسندیدہ لوگوں کو مسندِ اقتدار پر بٹھا کر پیچھے سے ڈور ہلانے پر مکمل اختیار۔ اس طرح کی ترغیبیں اور پیغامات ایران کے اُن باشندوں کیلئے ہیں جو ممکنہ طور پر ان کے کھلم کھلا حلیف ہو سکتے ہیں‘ اور لاکھوں تارکین وطن کیلئے بھی جو موجودہ نظام کے مخالف خیال کیے جاتے ہیں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ ایسے حربوں کو تھوڑا سا تاریخ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صدیوں پرانی ایسی روایتوں اور مثالوں میں جانے کی ضرورت نہیں‘ صرف اس خطے میں سے تین مثالیں آپ کی نذر کرتا ہوں۔ تقریباً 25 سال پہلے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کی تو اس کا نام ''دائمی آزادی‘‘ رکھا کہ ہمیشہ کیلئے افغانستان کے لوگ آزادی کی زندگی گزاریں گے۔ جنگ کے دوران چار مختلف امریکی صدر آئے اور 20 سال تک یہ خوفناک جنگ ہمارے پڑوس میں جاری رہی۔ پہلے 10 سالوں میں وہ مسلسل کہتے رہے کہ وہ وہاں ایک نئی قوم اور ایک نئی ریاست تشکیل دے رہے ہیں۔ اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ اور وہ دن تو یاد ہوگا کہ ان کی نئی قوم اور نئی ریاست کے سربراہ اور دیگر طفیلی رہنما جو کچھ میسر آیا‘ لے کر ملک سے بھاگ گئے۔ آج وہی افغانستان دوبارہ سے ان کے قبضے میں ہے جن سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ہزاروں ارب ڈالر اور لاکھوں افغانوں کی قربانی دی گئی۔
اس سے بڑا جھوٹ کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ باہر کی کوئی طاقت‘ بیشک وہ موجودہ دور کی سب سے بڑی طاقت ہی کیوں نہ ہو‘ قوموں اور ریاستوں کی تعمیرِ نو کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ اس نکتے پر مزید کچھ کہوں‘ دو اور تجربے بھی آپ کو یاد دلاتا چلوں۔ عراق پر حملہ کر کے وہاں کی ریاست اور حکومت کو تباہ کیا تو اس کو ''آپریشن عراقی آزادی‘‘ اورجب لیبیا پر تباہ کن بمباری کر کے معمر قذافی کی حکومت ختم کی تو اسے ''نئی صبح کے سفر‘‘ سے تعبیر کیا گیا۔ لیبیا 15 سالوں کے بعد آج بھی تقسیم اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ عراق 23 سال سے داخلی طور پر بٹا ہوا ہے اور وہاں پر ہر قسم کا لشکر اپنی جگہ بنا کر اپنا حصہ وصول کرتا رہتا ہے۔ ایک دفعہ کسی معاشرے اور ریاست کا اندرونی توازن تباہ کر دیا جائے تو اسے سنبھالنے میں صدیاں لگتی ہیں‘ اور کچھ کشمکش کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ یہی کچھ اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف کر رہے ہیں۔ افغانستان‘ عراق اور لیبیا کی کہانی کا پہلا صفحہ یہاں بھی پڑھا اور دہرایا جا رہا ہے۔ ان ریاستوں میں حکومت اور ریاست کے سب کلیدی اداروں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ انارکی پھیلا کر قبائلی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر حکومت مخالف دھڑوں کی پشت پناہی کی گئی۔ انہیں افغانستان میں شمالی اتحاد کے لوگ طالبان کے خلاف اتحادی بلکہ آلہ کار کے طور پر میسر آئے۔ اس طرح عراق میں کرد اور شیعہ گروہ‘ اور لیبیا میں کئی قبائل جنہوں نے حکومتوں کی مخالفت میں امریکہ کے ساتھ خفیہ سازباز کر رکھی تھی۔
ایران کے خلاف بھی امریکہ کردوں کو شہ دے کر انہیں اندرونی طور پر خلفشار پھیلانے کیلئے استعمال کرنے کی حکمت عملی بنا چکا ہے۔ مداخلت عراقی کرد علاقوں کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ اس وقت تو ایرانی ریاست کا مکمل انہدام مقصد ہے‘ جس کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ کامیاب ہو سکے گا۔ جنگ کی موجودہ صورتحال ایران کیلئے مشکل نظر آتی ہے مگر کوئی حتمی رائے قائم کرنا آسان نہیں۔ جو بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے وہ تو تاریخی جھوٹ ہے کہ آزادی کی نیلم پری کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ لاکھوں لوگ ایک ہفتے کے اندر بے گھر اور ہزاروں شہید کیے جا چکے ہیں‘ اس تباہی اور بربادی کے دھوئیں سے آزادی کی روشنی تو دور کی بات‘ ریاسی انہدام کی صورت داخلی امن اور سلامتی قائم رکھنا ناممکن ہو گا۔ بہت کچھ لکھا اور کہا جائے گا مگر جو بات آپ شاید نہ سن اور دیکھ سکیں وہ معصوموں کی آہ وبکا‘ انسانی المیہ کی دل گداز داستانیں اور وہ جذبہ ہے جس سے ایرانی حکومت اپنی ریاست اور قوم کا دفاع کر رہی ہے۔ میرے دل میں نام نہاد باہر کی دنیا کے ایرانی لبرل اور روشن خیال دانشوروں کیلئے احترام کی گنجائش نہیں‘ جو ایران کے خلاف جنگ کی حمایت میں لکھ اور بول رہے ہیں۔ کوئی بھی دلیل اپنے وطن کی تباہی اور اپنے لوگوں کی بربادی میں حیثیت نہیں رکھتی۔ اندر سے تبدیلی ممکن تھی جو رجیم کے اندر سے اصلاح پسند کاوشیں کرتے چلے آئے ہیں۔ اب بھی یہ ممکن ہے اگر امریکہ جنگ بند کر کے اپنی خفت مٹانے کیلئے ''فتح‘‘ کا اعلان کر دے۔ لیکن مقصد کبھی یہ تھا اور نہ اب ہے۔ مقصد ایران کی ریاست کو مفلوج کرنا اور وہاں اندرونی خلفشار پھیلانا ہے۔ یہ کھیل ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں کہ ریاستوں کا انہدام صرف خانہ جنگی میں تبدیل ہوتا ہے اور باہر کی طاقتیں یہ سب کچھ کرنے کے بعد رفوچکر ہو جاتی ہیں۔ شاید ایرانی یہ بات سمجھتے ہیں اور ابھی تک مزاحمت کر رہے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved