تحریر : جاوید حفیظ تاریخ اشاعت     09-03-2026

جنگ، سازشیں اور پاکستان

ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کئی علاقائی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزرنا ناممکن نہیں تو بیحد دشوار ضرور ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ رہی اور مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی وحشیانہ بمباری سے ایران میں کافی افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے تکلیف دہ تو سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ہے لیکن ایک اور روح فرسا شہادت ان معصوم بچیوں کی ہے جو میناب کے شجر طیبہ سکول میں زیر تعلیم تھیں۔
پچھلے چند روز سے ہمارے افغان بارڈر پر بھی جنگ کی سی صورتحال ہے۔ اٹھائیس فروری کے روز صبح سے لے کر رات گئے تک میں متعدد عربی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتا رہا۔ ان میں سے اکثر انٹرویوز مباحثوں کی شکل اختیار کر گئے کیونکہ کابل سے بھی ماہرین مدعو کئے گئے تھے۔ ان میں سے اکثر کا استدلال یہ تھا کہ ڈیورنڈر لائن عہدِ استعمار میں ہم پر زبردستی مسلط کی گئی۔ میرا جواب یہ تھا کہ موجودہ پاک افغان سرحد کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ اس طرح تو بھارت‘ چین بارڈر بھی متنازع ہے۔ امریکی صدر کیلئے کینیڈا کا بطور ملک وجود ناخوشگوار ہے۔ کرد عراق‘ ترکیہ‘ ایران اور شام کی موجودہ سرحدوں کو نہیں مانتے۔ دنیا میں کہاں کہاں نئے بارڈر بنائے جائیں گے؟ اس طرح تو پنڈورا باکس ساری دنیا میں کھل جائیں گے اور اکیسویں صدی میں یہ ناممکن ہے۔
دراصل افغان طالبان کی سٹریٹجی یہ ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع یا ایجنسیوں کو پھر سے علاقہ غیر میں تبدیل کیا جائے اور وہاں افغان طرز کا اسلامی نظام لایا جائے۔ یہ وہ نظام ہے جس پر قبائلی سوچ غالب ہے اور جس کا دینِ اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ لگتا ہے کہ ہمارے قبائلی اضلاع سے کابل حکومت نوجوانوں کو ریکروٹ کرنا چاہتی ہے کیونکہ اپنے ملک میں اس کی رٹ کمزور ہو رہی ہے۔ چونکہ سازش کا لفظ کالم کی سرخی میں شامل ہے تو انڈیا اور کابل حکومت میں نئی نئی محبت بھی آپ کو سمجھ آ جائے گی۔ یہ سب کچھ حبِ افغانستان میں نہیں بلکہ بغضِ پاکستان میں ہو رہا ہے اور اب اس مکروہ کھیل میں اسرائیل بھی شامل ہو گیا ہے۔
اب ایک اور گٹھ جوڑ کا ذکر ہو جائے‘ جو اہم مسلم ممالک کے خلاف تیار کیا جا رہا ہے اور یہ اسرائیل کے ذہنِ رسا کی اختراع ہے۔ نریندر مودی کے تل ابیب پہنچنے سے دو روز پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے شیعہ قوسِ مزاحمت پر قابو پا لیا ہے‘ اب سنی قوسِ مزاحمت سر اٹھا رہی ہے اس میں پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر شامل ہیں لہٰذا اب انہیں کنٹرول کرنا لازمی ہے اور اس کیلئے ایک Hexagon Alliance یعنی مسدسی اتحاد بنایا جائے گا جس میں انڈیا‘ اسرائیل‘ یونان‘ قبرص‘ ایک عرب اور ایک افریقی ملک شامل ہوں گے۔ ویسے اسرائیلی وزیراعظم کے حسنِ انتخاب کی داد دینی چاہیے۔ پاکستان کا کنٹرول براستہ انڈیا ہوگا‘ ترکیہ کیلئے یونان اور قبرص کا چنائو اس لیے کیا گیا کہ ان کی ترکیہ سے دیرینہ مخاصمت ہے۔ سعودی عرب کیلئے ایک خلیجی ملک کو چُنا گیا جبکہ مصر کا توڑ کرنے کیلئے ایک ایسے افریقی ملک کو شامل کیا جائے گا جس کا دریائے نیل کے پانی پر مصر سے تنازع ہو۔
میں نے مودی کے وزٹ کو غور سے دیکھا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (Knesset) میں تقریر بھی سنی۔ انڈیا‘ اسرائیل بڑھتی ہوئی دوستی میں دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون اہم ہے۔ انڈیا چاہتا ہے کہ اسرائیل اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی انڈیا کو ٹرانسفر کرے۔ اب جنگ کی نیچر سراسر تبدیل ہو گئی ہے۔ انڈیا اعلیٰ ترین وار ٹیکنالوجی حاصل کرکے پاکستان سے مئی 25ء کی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ مودی اور نیتن یاہو میں اتنی گاڑھی کیوں چھن رہی ہے؟ جواب یہ ہے کہ دونوں اسلام دشمن ہیں اور دونوں کے ہاتھوں پر مسلمانوں کا خون ہے۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے میرے ایک فلسطینی دوست کا کہنا ہے کہ غزہ میں کئی بھارتی شہری اسرائیلی فوج کے شانہ بشانہ لڑے۔ اسی طرح ہمیں معلوم ہے کہ اسرائیلی ایکسپرٹ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں انڈیا کو دائو پیچ بتاتے رہے ہیں۔ اپنے 2017ء کے اسرائیل کے دورے کے بعد مودی نے راملہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر جا کر صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی تھی مگر اس مرتبہ انہوں نے یہ تکلف بھی نہیں کیا۔ یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ 1948ء میں بھارت نے اسرائیل کی تخلیق کی شدید مخالفت کی تھی اور اقوام متحدہ میں اسرائیلی ممبرشپ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اب گویا انڈیا نے یوٹرن ہی نہیں لیا بلکہ قلا بازی لگا دی ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران نریندر مودی نے مسدسی اتحاد کا ذکر نہیں کیا۔ شاید اس وجہ سے کہ اس پیکٹ میں علی الاعلان شامل ہونا انڈین فارن پالیسی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوتا لیکن یہ آئیڈیا ختم نہیں ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ بغیر اعلان کے یہ مجوزہ معاہدہ ان چھ ممالک میں دفاعی تعاون کو فروغ دیتا رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔ بڑی قومیں ہر بڑے واقعے کے بعد اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرتی ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے؟ کیا حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر اردگرد کے گمبھیر حالات پر بات چیت کا سوچ رہی ہیں؟ کیا حکومت نے اپوزیشن کی ناک زمین کے ساتھ رگڑوانے کی پالیسی ترک کر دی ہے؟ اگلے روز صدرِ مملکت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تو 'گو زرداری گو‘ کے نعرے لگتے رہے۔ 1990ء کی دہائی میں جب غلام اسحاق خان صدرِ مملکت تھے تو 'گو بابا گو‘ کے نعرے لگا کرتے تھے۔ گویا سیاسی بلوغت کے ہدف میں ہم نے زیرو فیصد ترقی کی ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ خلیج کی موجودہ صورتحال کا عالمی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ خلیجی ممالک اقتصادی طور پر پیچھے چلے جائیں گے۔ انرجی کے بڑھتے ہوئے داموں کی لہر کہاں جا کر تھمے گی کچھ کہنا مشکل ہے۔ ان حالات میں یہ بھی لگتا ہے کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے کئی پاکستانی واپس آئیں گے۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ سرمایہ اور مہارت بھی لائیں گے‘ مگر کیا ہم نے ان کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع کی پلاننگ کر رکھی ہے؟ ہمارے ہاں جب بھی جنگی خطرات کی بات ہوتی ہے تو دو تین روایتی ردعمل سامنے آتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے اور بار بار کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ بھلا یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسرائیل بھی ایک عرصے سے ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے مگر اسرائیلی لیڈرشپ کبھی اس صلاحیت کا برملا اظہار نہیں کرتی۔ دوسرا یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی دنیا کا اتحاد ہو جائے تو تمام مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔ نظریاتی طور پر یہ بات درست ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ او آئی سی کے کتنے ہی ممبر ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ صرف چند ممبر ممالک او آئی سی کا سالانہ چندہ ادا کرتے ہیں۔ میں نے یہ سب کچھ او آئی سی کی میٹنگز میں دیکھ رکھا ہے۔ مسلم اُمہ صرف ایک نظریاتی ترکیب ہے‘ حقیقت میں عالم اسلام متحد ہے اور نہ ہی اس کے متحد ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔
وزیراعظم کو چاہیے کہ بیرونی دوروں پر کم جائیں اور اس کے بجائے کوئٹہ اور پشاور کا ہر ماہ دورہ کریں۔ قبائلی اضلاع کی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے‘ لوکل لیڈروں اور عمائدین سے باقاعدگی سے ملا جائے۔ پاکستان کو ایک نارمل ملک بنایا جائے جہاں ہر ادارہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے۔ صاف شفاف الیکشن ہوں اور نتائج ہر کوئی تسلیم کرے۔ تمام ملازمتیں میرٹ پر دی جائیں تاکہ غریبوں میں مستقبل کے بارے میں امید پیدا ہو اور وہ پاکستان سے پوری طرح ذہنی طور پر وابستہ ہو جائیں۔
اسرائیل کا خطے پر غلبہ مزید تباہی لا سکتا ہے لہٰذا پاکستان‘ سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر میں دفاعی اور اقتصادی تعاون اب وقت کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔ ترکیہ کے پاس ٹیکنالوجی ہے‘ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل۔ مصر اور پاکستان کے پاس تربیت یافتہ ورک فورس ہے۔ چاروں ملک مشترکہ طور پر حربی سامان تیار کر سکتے ہیں۔ مشترکہ عسکری مشقیں باقاعدگی سے ہونی چاہئیں۔ جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ جنگ کیلئے تیار رہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved