ایران کی ہمت اور استقامت کو سلام! لیکن بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ نظریے کی بنیاد پر جنگیں لڑی اور جیتی جا سکتی ہیں اور جیتی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی جنگ خوش فہمیوں کی بنیا د پر نہ لڑی جا سکتی ہے نہ جیتی جا سکتی ہے۔ ایران‘ امریکہ واسرائیل جنگ مسلسل جاری ہے۔ دونوں طرف سے کامیابیوں کے دعوے ہیں۔ دونوں طرف سے ہلاکتوں کے اعداد وشمار دیے گئے ہیں لیکن آزادانہ تحقیق کس حد تک ان کی تصدیق کر سکتی ہے‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جنگ کے گرد وغبار میں حقیقی نتائج نکالنا مشکل ہوتا ہے اور یہاں تو خاص طور پر اسرائیل میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اتنی کڑی پابندیاں ہیں کہ درست خبریں اور حقیقی وڈیوز بھی خال خال ہی ملیں گی۔ ایران پر کیے جانے والے حملے اور ان سے ہونے والی تباہی زیادہ نظروں کے سامنے آ رہی ہے لیکن تل ابیب کن حالات میں ہے؟ یہ تخمینہ زیادہ تر اندازوں اور قیاسات کی مدد سے لگایا جا رہا ہے۔ ہم مسلمان اور پاکستانی ایسی ہر خبر پر خوش ہوتے ہیں جن سے ایران کے مخالفوں کی تباہی نظر آئے۔ سوشل میڈیا ایسی وڈیوز اور خبروں سے بھرا پڑا ہے جس میں اسرائیل میں عمارتوں کی تباہی دکھائی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی میزائل اپنے ا ہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان خبروں میں سچائی ہو سکتی ہے لیکن خوش فہمیوں کی مدد سے جنگ نہ جیتی جا سکتی ہے نہ حقائق سمجھے جا سکتے ہیں۔ جنگ نہایت تلخ حقیقتوں کا نام ہے۔ ایسی برہنہ‘ سفاک اور سنگین حقیقتیں جو ہمیں پسند ہوں یا نہیں‘ زمین پر اپنا وجود رکھتی اور منواتی ہیں۔ ہمیں ایران کی اس جنگ کو بھی جذباتی کیفیات سے نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پہلی بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ ایرانی قوم نے اس مشکل وقت میں بڑی استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ بنیادی امریکی اسرائیل منصوبہ ناکام نظر آتا ہے جس کے تحت ایران میں حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لاکرحکومت کی تبدیلی کی جانی تھی۔ اسرائیل نے سوچا تھا کہ چوٹی کی قیادت کے ختم ہو جانے کے بعد عوام اس لہر میں شامل ہو جائیں گے جو حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے۔ مذہبی قیادت اور سوچ کے خلاف ایران میں یہ لہر زیر زمین موجود ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انتہا درجے کی مہنگائی‘ معاشی گراوٹ اور سخت گیر حکومتی بندوبست نے ایرانیوں کو حکومت مخالف کر رکھا ہے۔ لیکن ایرانی قوم نے بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے غیر ملکی بندوبست کے ذریعے تبدیلی کو مسترد کر دیا ۔ یہ حقیقت ایرانیوں کے سامنے رہی کہ عراق‘ شام‘ لیبیا وغیرہ‘ جہاں امریکی مداخلت کے نتیجے میں قیادتیں تبدیل کی گئیں‘ انہیں خانہ جنگی اور انتشار کے سوا کچھ نہیں مل سکا؛ چنانچہ وہ حکومت سے کتنے ہی ناخوش ہوں‘ خوش نما نعروں کے فریب میں ایک نئی آگ میں جھونکے جانے کے لیے تیار نہیں۔ قوم پرستی جو اُن کے خون میں شامل ہے‘ مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ مل کر ہر اُس بیرونی تسلط کو مسترد کر رہی ہے جو ان پر اسرائیل یا امریکہ کی طرف سے مسلط کیا جائے۔ اسرائیل اور امریکہ کا یہ اندازہ غلط نکلا کہ وہ اس طرح اپنی من مانی حکومت ایران میں لا سکتے ہیں
دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ ایران نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے یہ حیران کن ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران کا اس جنگ میں بے پناہ نقصان ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ یہ نقصان ہر سطح اور ہر شعبے کا ہے۔ عسکری سطح پر ایران کو بے شمار زخم لگے ہیں۔ پچھلی جنگ میں جوہری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا تھا یا کم از کم کئی عشرے پیچھے دھکیل دی گئی تھیں۔ موجودہ جنگ میں میزائل لانچرز اور دیگر تنصیبات نشانہ ہیں۔ بظاہر جنگ ختم ہونے تک ان میں سے بیشتر یا تو تباہ ہو چکے ہوں گے یا فائرکیے جانے کے بعد خالی ہو چکے ہوں گے۔ ایران میزائل اور ڈرنز پر بھروسا کرتا ہے؛ چنانچہ موجودہ جنگ کے اختتام پر اسے یہ بہت بڑا چیلنج درپیش ہوگا کہ وہ آئندہ اپنا دفاع کس سے کرے۔ اس شعبے میں ایران ممکنہ طور پر کئی عشرے پہلے کی سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ ایرانی معیشت کا جو حال اس وقت ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک امریکی ڈالر 13 لاکھ 20 ہزار سات سو ایرانی ریال کے برابر ہے۔ تیل پر ایران کا بڑا انحصار ہے اور سخت پابندیوں کے باوجود ایران اسی پر گزارہ کرتا آیا تھا‘ تاہم ان دنوں تیل کی برآمد نہ ہونے کے برابر ہے اور جنگی حالات کے پیش نظر ایران نے پھلوں اور سبزیوں کی برآمد بھی بند کر دی ہے۔ ایسے میں ایران کے اخراجات کیسے پورے ہو سکیں گے‘ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران اپنے میزائل حملوں سے اب تک کسی بڑی اسرائیلی شخصیت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ اسرائیلی فوجی بھی ان حملوں میں اکا دکا ہی ہلاک ہوئے ہوں گے۔ عمارتوں کی تباہی اور مالی نقصانات اسرائیل کے لیے بہت بڑے زخم نہیں ہیں۔ یہ سب سوچ کر ہی اسرائیلی حملے کیے گئے ہوں گے۔ اسی طرح امریکی ریڈارز کی تباہی اور خلیج میں فوجی اڈوں پر میزائل حملے بھی کسی خاص پریشانی کا سبب نہیں ہو سکیں گے۔ کوئی چیز امریکہ کے لیے سخت تکلیف دہ ہو سکتی تھی تو وہ جانی ہلاکتیں ہیں۔ اور ابھی تک معلوم نہیں کہ ایران جو امریکی فوجی ہلاکتیں بتا رہا ہے وہ کس حد تک مصدقہ ہیں۔ حالیہ جنگ کے دنوں میں میرا بیٹا بھی دبئی میں تھا اور فلائٹس بند ہو جانے کی وجہ سے کئی دن وہاں پھنسا رہا لیکن اس نے واپسی کے بعد بتایا کہ وہاں روزمرہ زندگی اور معمولات پرکوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اب ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا ہے‘ اس لیے بظاہر وہاں بھی زندگی معمول پر آ جائے گی بلکہ آچکی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ کے دوررس نتائج یہ نکل سکتے ہیں کہ خلیجی ممالک امریکہ پر بھروسا ختم کر دیں اور امریکی اڈے ختم کر دیے جائیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہونے والا نہیں۔ خلیجی ممالک کو اپنے دفاع کے لیے کوئی سہارا چاہیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آئندہ خلیجی ممالک اسلحہ زیادہ خرید کر خود کو محفوظ کریں گے۔ لیکن بظاہر وہ اسلحہ امریکی اور مغربی ممالک کے ایما پر خریدیں گے تو ضرور لیکن صرف دکھانے کے لیے۔ زیادہ اسلحہ خریدنے کے مطلب ہوگا کہ زیادہ فوج۔ اور وہ بوجوہ ملکی فوجی طاقت کے خلاف ہیں۔ بظاہر آئندہ بھی یہی پالیسی رہے گی اور وہ غیر خلیجی طاقتوں پر انحصار کریں گے‘ ان میں پاکستان بھی ہو سکتا ہے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایرانی قوم اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے لیکن معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اس کی واحد وجہ مذہبی اور سیکولر فکر کا تصادم نہیں بلکہ معاشی حالات‘ بدانتظامی اور سخت گیر اقدامات ہیں۔ خارجہ پالیسیاں بھی انہی کا حصہ ہیں۔ میرے خیال میں ایران کو اب اس بات کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ ماضی میں اس کی پالیسیوں نے اسے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اسے پڑوسی ممالک سے اپنے تعلقات اور دوستی دشمنی کے پہلوؤں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایران کو دوررس نتائج کی روشنی میں پراکسیز بنانے کا فائدہ نہیں ہوا اور اس کی خطیر رقم بھی اس پر خرچ ہوتی رہی ہے اور مختلف عرب ممالک سے دشمنیاں بھی اس کا لازمی نتیجہ تھیں۔ وقت آ چکا کہ ایران اپنی بحالی‘ اپنی طاقت اور اپنے ملک کی ترقی پر توجہ مرکوز کرے۔ اب ملک میں ایسی سکت نہیں ہے کہ وہ یہ سارے گروہ پال سکے۔ لیکن اگر ایرانی قیادت دیگر ممالک میں ہم خیال گروپس تشکیل دیتے رہنے پر مصر رہے تو کون جانتا ہے کہ ہر کچھ دہائیوں بعد تباہی کا یہی منظر اس کے پیش نظر ہوتا رہے جو آج درپیش ہے۔ میرے خیال میں ایران کو اس آزمائش کے وقت بالغ نظر‘ ہوش مند اور مدبر قیادت کی ضرورت ہے جو اسے منجدھار سے نکال کر عالمی منظر نامے پر وہ اہمیت دلا سکے جو اس قوم کی تاریخ بھی ہے اور اس کا حق بھی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved