ماہِ رمضان ہر سال آتا ہے اور بے انتہا برکات وانعامات تقسیم کرتا ہے۔ کتنے بدنصیب ہیں وہ بندے جو اس مہمانِ مکرم کی قدر نہیں کرتے! دوسری جانب اللہ کے وہ بندے کس قدر خوش بخت ہیں جو دن اور رات‘ ہرگھڑی اپنا دامن نیکیوں سے بھرتے رہتے ہیں۔ ماہِ رمضان کے دوران دوزخ کی آگ سے نجات پا لیتے ہیں اور جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ اس مہینے میں اعتکاف اور لیلۃ القدر کی تلاش اتنا عظیم عمل ہے کہ آنحضورﷺ نے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان مواقع پر اللہ اپنے بندوں پر فخرکرتا ہے۔ امام بیہقی نے حضرت انس بن مالکؓ کی روایت نقل کی ہے جس کا ترجمہ یوں ہے: ''رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبریل علیہ السلام ملائکہ کے ایک جھرمٹ میں (زمین پر) اترتے ہیں اور ہر اس بندے کیلئے دعا کرتے ہیں جو اس وقت کھڑاہوا یا بیٹھا ہوا اللہ عزوجل کا ذکر کر رہا ہو (جاگ رہا ہو اور عبادت کر رہا ہو)‘ پھر عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر کرتا ہے اور انہیں مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! اس اجیر (مزدور) کی جزا کیا ہے جس نے اپنے ذمے کا کام پورا کر دیا۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ اے میرے ملائکہ! میرے ان بندوں نے اپنا وہ فرض ادا کر دیا جو میں نے ان پر عائد کیا تھا۔ پھر اب یہ گھروں سے (عید کی نماز ادا کرنے اور) مجھ سے گڑگڑا کر مانگنے کیلئے نکلے ہیں اور میری عزت اور میرے جلال کی‘ اور میرے کرم اور میری علوِّ شان کی‘ اور میری بلند مقامی کی قسم ہے کہ میں ان کی دعائیں ضرور قبول کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے: جائو میں نے تمہیں معاف کر دیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ اس حالت میں پلٹتے ہیں کہ انہیں معاف کر دیا جاتا ہے‘‘ (سنن بیہقی) ۔سید مودودیؒ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں: ''اللہ تعالیٰ سال کے سال اپنے مومن بندوں کے ساتھ یہ معاملہ کرتا ہے کیونکہ انہوں نے رمضان کے روزے رکھے اور لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو عبادت کرتے رہے۔ پھر عید کے روز نماز کیلئے نکلے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اس کے ہاں سے مغفرت اور مہربانیاں حاصل کرکے پلٹتے ہیں‘‘۔
نبی اکرمﷺ عام دنوں میں بھی عبادت کا بڑا اہتمام فرمایا کرتے تھے مگر رمضان میں تو شان ہی نرالی ہوتی تھی۔ شعبان ہی میں کمرِ ہمت باندھ لیتے اور رمضان کی آمد کے ساتھ نیکیوں میں یوں مشغول ہو جاتے جیسے تند وتیز ہوا چلنے لگتی ہے۔ پھررمضان کا آخری عشرہ تو بالخصوص آپﷺ کے انہماک و وارفتگی کی ایسی تصویر پیش کرتا کہ سبحان اللہ! حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زبانی امام مسلم نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرے میں عبادتِ الٰہی میں جس قدر محنت ومشقت فرمایا کرتے تھے‘ اس کی مثال کسی اور زمانے اور ایام میں نہیں ملتی۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف رسول اللہﷺ کی سنت مؤکدہ ہے۔ آپﷺ نے ایک سال کے سوا ہمیشہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارا۔ ایک سال آپﷺ جہاد پر نکل جانے کی وجہ سے اعتکاف نہ کر سکے تو اگلے سال آپﷺ نے دس کے بجائے بیس روز کا اعتکاف فرمایا۔ اتفاق سے یہی حضورﷺ کا آخری اعتکاف تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت پاکستان میں لاکھوں مرد مساجد میں اور ہزاروں خواتین اپنے گھروں میں اعتکاف میں بیٹھتی ہیں۔ پوری دنیا میں کروڑوں افراد اس سعادت سے اپنا دامن بھرتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ اہلِ ایمان‘ مرد وخواتین جو اعتکاف کی روح کے مطابق اپنا وقت گزارتے ہیں۔
رمضان المبارک میں امتِ مسلمہ کیلئے اللہ نے اپنی بے پایاں رحمت سے لیلۃ القدر کی نعمتِ عظمیٰ مقدر کر رکھی ہے۔ اس کی تلاش پورے رمضان المبارک میں ہونی چاہیے مگر آخری عشرہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ جو مسلمان بھی اعتکاف کر سکتا ہو اُسے اپنا دامن بھرنے کیلئے ضرور اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ مردوں کے اعتکاف کیلئے لازمی شرط ہے کہ وہ اُس مسجد میں اعتکاف کریں جس میں پنج وقتہ نماز باجماعت کا مستقل اہتمام ہو۔ محلے کے لوگوں میں سے کوئی ایک بھی اعتکاف میں نہ بیٹھے تو محلے کے سب مسلمان گنہگار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ایک شخص اعتکاف میں بیٹھ جائے تو ثواب تو اسی کو ملے گا لیکن اہلِ محلہ گناہ اور عذاب سے بچ جائیں گے۔ اعتکاف کے دوران موبائل کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اعتکاف میں اپنے موبائل پر مختلف عزیز واقارب اور احباب سے گپ شپ لگا رہے ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ البتہ موبائل میں قرآن پاک اور مسنون دعائیں ریکارڈ ہوں تو ان کو پڑھنے کیلئے موبائل استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آپ دس روز اعتکاف نہ بھی کر سکیں تو مسجد میں کچھ دیر کیلئے بھی اعتکاف کی نیت سے بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ معروف معنوں کے دس روزہ اعتکاف کے علاوہ ایک مستحب عمل ہے۔ بہرحال مطلوب تو یہی ہے کہ اعتکاف میں دس روز لگائیں‘ یہی مسنون اعتکاف ہے۔ یہ اعتکاف اجتماعی ہو تو اس کے نتائج وثمرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ ترجیح ہے کہ اپنے محلے یا بستی کی مسجد میں اعتکاف کریں۔ اعتکاف کیلئے اپنے ساتھی پہلے سے تلاش کر لیجیے۔ جو ساتھی آپ کی نظر میں ہیں اور جن کو آپ دینِ حق کا کارکن اور ہمسفر بنانا چاہتے ہیں ان سے رابطہ کر لیجیے۔ اعتکاف کے دس دنوں میں اپنے اندر جتنا ذہنی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے‘ شاید پورے سال میں اتنا ممکن نہ ہو۔
اعتکاف کے دوران دنیوی باتوں اور دلچسپیوں سے مکمل اجتناب کیجیے۔ اعتکاف سنت کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ معتکِف انتہائی اشد ضرورت کے تحت اپنے معتکَف (اعتکاف کیلئے مختص گوشہ) سے باہر نکل سکتا ہے؛ مثلاً قضائے حاجت اور وضو وغیرہ کیلئے یا غسل واجب ہو جائے تو غسل کیلئے۔ اگر کوئی شخص کھانا پہنچانے والا نہ ہو تو کھانا لانے کیلئے جا سکتا ہے مگر کسی سے کوئی غیر ضروری بات وغیرہ نہیں کر سکتا۔ یہ سارا عرصہ ذکر وفکر‘ نفل وعبادت‘ تلاوتِ قرآن‘ تعلیم وتعلّم اور خیر وبھلائی کیلئے وقف کر دینا چاہیے۔ سہولت کے مطابق پورے چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل پہلے ہی سے بنا لیجیے۔ دورانِ اعتکاف اس میں ردوبدل کرنا پڑے تو بھی مضائقہ نہیں۔ اعتکاف کو محض استراحت اور نیند کا ذریعہ نہ بنائیے۔ اس کے دوران خیر وبرکت سے اپنا دامن بھرنے کی فکر کیجیے۔ لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو بیشتر حصہ عبادت اور تلاوت میں گزاریے۔ دل میں یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے آپ کو لیلۃ القدر کی نعمت عطا فرمائے گا۔ لیلۃ القدر نصیب ہو جائے تو سنت کے مطابق خوب دعائیں کیجیے۔ خصوصاً اللہ سے عفو ودرگزر اور دوزخ سے نجات کی التجا کیجیے۔ کشمیر وفلسطین‘ مشرقِ وسطیٰ‘ بھارت وبرما اور دیگر علاقوں کے ان مظلوم مسلمانوں کو جو آج ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے‘ ضرور اپنی دعاؤں میں یارکھیے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے آنحضورﷺ سے پوچھا: مجھے لیلۃ القدر نصیب ہو جائے تو کیا دعا مانگوں؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنا۔ (مسنداحمد) اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے معاف کر دینا تجھے محبوب ہے؛ پس ہمیں معاف فرما دیجیے۔ یہ بہت جامع دعا ہے۔ لیلۃ القدر کے علاوہ بھی بندۂ مومن کو اسے مستقل معمول بنا لینا چاہیے۔ خواتین کا اعتکاف گھروں میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی اسلامی ادارہ یا مرکز ہو اور وہ وہاں مقیم ہوں تو وہ اجتماعی اعتکاف کرسکتی ہیں اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ تاہم خاتون کا بہترین اعتکاف اس کے اپنے گھر ہی میں ہوتاہے۔ اعتکاف مرد کا ہو یا عورت کا‘اس میں روزہ بنیادی شرط ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved