یہ مجبوری کے سودے ہیں اور ہماری ملکی ذہانت اور قابلیت کے پیمانے ہیں کہ ہم نے اپنے اوپر مجبوریوں کا بوجھ کچھ زیادہ ہی لاد رکھا ہے۔ آج کی دنیا میں ایک یا دو ارب ڈالر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ایک ایک‘ دو دو ارب ڈالر ہمارے دوست سالانہ رول اوور نہ کریں تو معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے۔ یو اے ای نے تو سالوں کا تکلف ہی ختم کر دیا ہے اور رول اوور ایک یا دو مہینے کا کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سارا سال ہمارے حکامِ بالا اُن کی منتیں ہی کرتے رہیں۔ پھر بھی مانا کہ ہماری حالتِ زار کی مجبوریاں بہت ہیں لیکن قومی عزت کا کچھ تو خیال رکھا جائے اور کہیں خوشامد کرنی ہی پڑے تو کسی حساب کتاب سے کی جائے۔ لیکن ہم ہیں یا یوں کہیے سلاطینِ اختیار و اقتدار کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مکھن لگانے کے تمام ریکارڈ ہی توڑ دیے گئے۔
کم از کم چھ بار میں نے کوشش کی ہو گی کہ یوٹیوب پر جنابِ وزیراعظم کے وہ الفاظ سنوں جو اُنہوں نے شرم الشیخ میں صدر ٹرمپ کی شان میں ادا کئے۔ لیکن یقین مانیے کہ پہلے دو یا اڑھائی جملوں کے بعد میرے گناہگار کان وہ الفاظ سن نہ سکے اور ہر بار وہیں مجھے وڈیو بند کرنی پڑی۔ بولنا شروع ہی ہوئے تو ادا ایسی تھی کہ پیچھے کھڑی اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی اپنا ہاتھ منہ پر لے گئیں اور ان کی آنکھیں ان کی حیرانی کی ترجمانی کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں صدر ٹرمپ کا چہرہ بھی دیکھا جائے‘ اس پر بھی ایک خاص تاثر اُبھر رہا تھا کہ اس حد تک بھی کوئی جا سکتا ہے۔ پتا نہیں کیا کیا کہہ دیا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ بڑا اہم لمحہ ہے اور آپ مردِ امن ہیں اور آپ کی کاوش سے پچیس ملین جانیں بچ گئیں‘ نہیں تو ہندوستان اور پاکستان میں پتا نہیں کون سی جنگ چھڑ جانی تھی۔ اطالوی وزیراعظم تو سامنے کھڑی تھیں ان کے تاثرات وڈیو میں نظر آتے ہیں لیکن دیگر سربراہان پر بھی کیا کیفیت گزری ہو گی۔ صدر ٹرمپ جیسے شخص کو مردِ امن کے لقب سے نوازنا اور یہیں تک نہیں‘ فخریہ انداز میں اعلان فرمانا کہ پاکستان نے اس شخص کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ہے۔ کسی نے انٹرنیٹ پر صحیح کہا کہ صرف صدر ٹرمپ کو اس اعزاز کیلئے نامزد کرنا کافی نہیں‘ اب تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھی اس اعزاز کیلئے نامزد کرنا چاہیے۔ امریکی صدر کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو بات سمجھ آتی ہے لیکن جیسا عرض کیا کہ مکھن لگانا بھی کسی حساب کتاب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔
سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے اور ہمیشہ سے ہمارے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن پرانی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں کہ جب سعودی بادشاہ صدر ایوب خان یا بعد کے وقتوں میں دورے پر پاکستان آتے تو لگتا کہ برابری کا میلہ ہے۔ اب جو ملاقاتیں ہوتی ہیں تو ان میں ایسا لگتا ہے کہ ہم نیچے لگے ہوئے ہیں۔ وجہ پھر وہ مجبوری والی کیونکہ ہماری ضرورتیں ختم نہیں ہوتیں اور ان کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کے ہاتھ ان کے سامنے کھلے رہتے ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کے زمانے میں مراکش کے شہر رباط میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی تھی۔ اس کانفرنس میں مبصر کے طور پر ہندوستان کو دعوت دی گئی۔ جنرل یحییٰ اَڑ گئے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور کسی صورت ہندوستان کو دعوت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات مانی گئی اور دعوت نامہ منسوخ ہوا۔ شراب کے رسیا جنرل یحییٰ بعد میں مشہور ہوئے لیکن پہلے پہل عرب سربراہان سے ملتے تو برابر کے لگتے تھے۔ یہ درست ہے کہ وہ زمانہ رہا نہیں اور تیل بردار عرب بادشاہتوں کے پاس بہت پیسہ آ گیا ہے۔ لیکن جہاں اس دولت کی وجہ سے ان عرب ملکوں کی حیثیت بڑھی ہے پاکستان کی حیثیت جملہ نالائقیوں کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔ وہ بڑے ہو گئے ہم نے اپنے آپ کو چھوٹا کر لیا۔ لطف کی بات یہ کہ ضروریات کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی گئیں۔ اس لیے ہاتھ پھیلانا اور کشکول کو آگے کرنا قومی شناخت بن گیا۔ پھر کوئی عجب نہیں کہ بات ترلوں پر آ جاتی ہے اور ہمارے سربراہان ترلے کرنے میں خاص ہنر پا چکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں جو سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہوا وہ بھی ہماری معاشی مجبوریوں کا شاخسانہ ہے۔ سوائے پیسے کے سعودی عرب ہماری کیا مدد کر سکتا ہے؟ کارگل میں کوئی بات ہوتی ہے سعودی فوجوں نے تو وہاں آنا نہیں۔ نہ پکتیکا اور ننگرہار میں طالبان کے خلاف ہمارے کام وہ آ سکتے ہیں۔ معاہدہ طے ہوا تو چہ مگوئیاں ہوئیں کہ کہیں پاکستان کی جوہری صلاحیت تو سعودی عرب کو درکار نہیں۔ لیکن یہ فضول کی قیاس آرائیاں تھیں کیونکہ سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل سے تو کوئی خطرہ نہیں۔ سعودی حکمرانوں کا پرابلم ایران رہا ہے اور اس معاہدے کا کوئی معنی ہے تو وہ ایران کے تناظر میں ہی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں تو ایران کے جی سی سی ملکوں پر حملوں کے بعد دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات بھی ہوئی۔ مطلب یہ کہ پاکستان نے اپنے آپ کو ایک پیچیدہ صورتحال میں ڈالا ہوا ہے۔ بھولے سے بھی ایران کے خلاف کوئی اقدام ہوتا ہے تو مصیبت‘ سعودی عرب سمجھے کہ مدد مانگنے پر مدد نہیں آ رہی‘ وہ الگ مصیبت۔ پاکستان کو ایسی پوزیشن میں نہیں آنا چاہیے تھا لیکن جیسے عرض کیا کہ مجبوری کے سودے ہیں۔
یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ پاکستان دیوار سے سر ٹکرائے۔ لیکن یہ جو ہماری ایٹمی صلاحیت ہے کس کام کی جب حق اور باطل میں فرق واضح نہ رکھا جا سکے۔ اتنا تو کہنے کی ہمت ہو کہ ایران پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے۔ مذاکرات چل رہے تھے اور جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں جوہری پروگرام پر معاہدہ قریب تھا جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اگر جی سی سی ممالک آج مشکل میں ہیں اور جنگ کے شعلے ان تک پہنچ رہے ہیں تو بنیادی وجہ اس صورتحال کی ایران کا ردِعمل نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کا حملہ ہے۔ اتنا تو کوئی کہہ سکے کہ جارحیت کس نے کی۔ لیکن عملیت پسندی کے نام پر گول مول بات ہی یہاں سے آتی ہے کہ کہیں سعودی عر ب اور دیگر جی سی سی ممالک ناراض نہ ہو جائیں‘ کہیں صدر ٹرمپ ناراض نہ ہو جائیں۔ سفاک حملے میں ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای مارے جاتے ہیں تو ایرانی سفارت خانے پر کوئی بڑی حاضری نہیں ہوتی۔اسحق ڈار گئے اور اب سنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کو تعزیت اور مبارکباد کا خط لکھا ہے۔لیکن ایرانی شہر میناب میں ایلیمنٹری سکول پر امریکی حملہ ہوتا ہے‘ 170 بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں اور مذمت کا ایک لفظ یہاں سے نہیں نکلتا۔ مانا مجبوری لیکن اتنی بھی کیا۔
ایران کے پاس کچھ افزودہ یورینیم ادھر اُدھر پڑی ہے پر ایٹم بم نہیں۔ لیکن ایرانی قوم کی ہمت تو دیکھیں‘ گیارہ بارہ دن کی وحشیانہ بمباری سہہ رہی ہے اور ہمت ٹوٹنے کے بجائے لوہے کی مانند ہو رہی ہے۔ ایران کی مشکلات ہم سے کہیں زیادہ‘ خوشامد کی ادائیں وہ بھی دکھا سکتا تھا۔ گھٹنے ٹیکنے ہوں تو عملیت پسندی کا عذر مل ہی جاتا ہے۔ سوچا جائے تو حسینؓ بھی ''عملیت پسندی‘‘ دکھا سکتے تھے‘ جان شاید بچ جاتی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved