دنیا اس وقت صرف جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں نہیں توانائی کی قیمتوں اور معیشت کی بے چینی اور عالمی منڈیوں کے اضطراب میں بھی مبتلا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران‘ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب بھی اس خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھتا ہے تو اس کے سب سے پہلے اثرات تیل کی قیمتوں پر نظر آتے ہیں‘ یہی کچھ اس وقت بھی ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چند دنوں میں تیزی سے اوپر گئی اور100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ معاشی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہا تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ عالمی توانائی بحران کا سب سے بڑا اثر ان ممالک پر پڑتا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں‘ پاکستان انہی ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے خریدتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھتے ہی اس کا اثر براہ راست پاکستانی معیشت اور عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں جو فیصلہ سامنے آیا اس نے حکومتی ترجیحات پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ 7 مارچ کو حکومت نے اچانک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافہ کر دیا۔ یہ اضافہ تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ عام پاکستانی کے لیے یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے اخراجات میں ایک شدید جھٹکا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی‘ اشیائے خورونوش مہنگی ہوں گی اور صنعت و زراعت کی لاگت بھی بڑھے گی۔
حکومت نے اس فیصلے کا جواز یہ پیش کیا کہ چونکہ مارکیٹ میں پندرہ مارچ کو قیمتوں میں اضافے کی توقع تھی‘ اس لیے ذخیرہ اندوزی شروع ہو گئی تھی اور قلت کے خدشے کو روکنے کے لیے فوری اضافہ ضروری تھا۔ یہ دلیل بظاہر معقول لگتی ہے‘ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اگر قیمت بڑھانا ہی ضروری تھا تو حکومت نے پٹرولیم لیوی بڑھا کر اضافی آمدن اپنے پاس کیوں نہیں رکھی اور اس کے بجائے تیل کمپنیوں کو اضافی منافع کمانے کا موقع کیوں فراہم کیا؟ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے تقریباً 19 ارب روپے سے زائد کا اضافی فائدہ تیل کمپنیوں اور ڈیلرز کو منتقل ہو گیا۔ اگر حکومت یہی رقم پٹرولیم لیوی کے ذریعے وصول کرتی تو یہ قومی خزانے میں جاتی اور عوامی فلاح یا بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی تھی۔ موجودہ صورتحال میں حکومت پٹرول اور ڈیزل دونوں پر تقریباً 105 روپے فی لیٹر تک لیوی وصول کر رہی ہے۔ مارچ کے آغاز میں پٹرولیم لیوی 85 روپے فی لیٹر تھی جسے بڑھا کر 105 روپے کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2022 ء میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر تھی‘ کیونکہ اُس وقت پٹرولیم لیوی صفر کر دی گئی تھی۔ آج عالمی قیمتیں اس سے کم ہونے کے باوجود لیوی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 50 ملین لیٹر کے قریب پٹرول اور ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ اگر فی لیٹر105 روپے لیوی وصول کی جائے تو حکومت روزانہ اربوں روپے جمع کرتی ہے۔ سالانہ بنیاد پر یہ رقم تقریباً 1300 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ یعنی عوام کی جیب سے نکالا جانے والا ایک بڑا حصہ براہ راست ٹیکس کی شکل میں حکومت کے پاس جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام سے اتنی بڑی رقم لی جا رہی ہے تو کیا ریاستی اخراجات میں بھی اسی تناسب سے کمی کی جا رہی ہے؟ عوام کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے‘ پٹرول بچانے کی اپیلیں کی جاتی ہیں اور بجلی کم استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے مگرحکومتی اخراجات کے حوالے کچھ اور طرح کی خبریں ہی سامنے آتی ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ریاست خود اس اصول پر عمل نہیں کر رہی۔
اطلاعات کے مطابق بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں میں ایک اہم تقریب کے لیے مہنگے ہوٹلوں کی بکنگ کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کے اندر پٹرول 322 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے اور عوام مہنگائی کے شدید دباؤ میں ہیں تو یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایسی تقریبات ضروری ہیں؟ اگر قومی وسائل بچانے کی بات کی جا رہی ہے تو یہ تقریبات سفارتخانوں کے اندر بھی منعقد ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی معاشی صورتحال پہلے ہی کمزور ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ملک کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بیروزگاری کی شرح بھی 20 فیصد سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں اچانک 20 فیصد اضافہ معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس بحران کا ایک اور پہلو عالمی معاشی خطرات بھی ہیں۔ پاکستان کی توانائی ضروریات کا تقریباً 25 فیصد حصہ تیل اور گیس کے ذریعے پورا ہوتا ہے جو خلیج فارس کے راستے آتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہا تو پاکستان کی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ سے تقریباً 21 ارب ڈالر سالانہ ترسیلاتِ زر بھی ملتی ہیں اور تین ارب ڈالر کے قریب برآمدات بھی اسی خطے کو جاتی ہیں۔ اگر جنگ پھیلتی ہے تو ان ذرائع پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہو تو پاکستان کے درآمدی بل میں کم از کم ڈیڑھ ارب ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے اور بعض دنوں میں یہ اضافہ 75 فیصد تک بھی پہنچا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان کا درآمدی بل کئی ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔ ان حقائق کے باوجود حکومت کی طرف سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو یہ پیغام دینا کہ جنگ کا پاکستانی معیشت پر بڑا اثر نہیں پڑے گا‘ کئی ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔ معاشی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے درآمدی معیشت والے ملک پر توانائی بحران کا اثر براہ راست پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے شعبے کا بحران بھی ختم نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بجلی کے شعبے میں نقصانات کے ازالے کے لیے 500 ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس اضافی بوجھ کو پورا کرنے کے لیے صارفین سے سات سے 12 روپے فی یونٹ تک اضافی وصولی کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بجلی کے بلوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔
یہ اعدادوشمار ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں معاشی بحران کا بوجھ مسلسل عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ ریاستی اصلاحات کی رفتار بہت سست ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے‘ زراعت کی لاگت بڑھتی ہے اور صنعت کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ آخرکار اس کا نتیجہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کی صورت میں نکلتا ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ معاشی بوجھ کس طرح تقسیم کیا جائے۔ اگر تمام بوجھ صرف عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جائے تو یہ معاشی انصاف نہیں بلکہ معاشی ناانصافی ہوگی۔ ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ بحران کے وقت وہ سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرتی ہے اور کمزور طبقے کو ریلیف دیتی ہے۔ دنیا اس وقت توانائی کے ایک غیر یقینی دور میں داخل ہو چکی ہے۔ جنگ کے سائے میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں‘ عالمی تجارت دباؤ میں ہے اور مہنگائی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا معاشی بحران کا حل صرف عوام کی جیب پر ایک اور وار ہے یا ریاست بھی اپنی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved