وطنِ عزیز اس وقت جن حالات سے دوچار ہے ان سے نمٹنے کے لیے قومی مفاہمت کی ضرورت ناگزیر ہے۔ ایسی مفاہمت جو سیاسی جماعتوں میں اتفاقِ رائے کی سیاست کو فروغ دے۔ لیکن موجودہ منظرنامے میں ملک عزیز شدید سیاسی تقسیم کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی محاذ آرائی نے جماعتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ حکومت اپوزیشن کا اور اپوزیشن حکومت کا مینڈیٹ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے وجود کو بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی‘ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمانی سطح پر اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے بھی کیے گئے مگر ان کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ حالانکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے حوالے سے موجود ڈیڈ لاک بھی ختم ہو گیا‘ اس کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے سیاسی مفاہمت کا عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ تحریک انصاف کی قیادت بضد ہے کہ جب تک انہیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی‘ ہم مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ مذاکرات انہی قوتوں سے ہوں گے جو اصل فیصلوں کا اختیار رکھتی ہیں‘ یعنی وہ مقتدرہ سے براہِ راست بات چیت کے حامی ہیں۔ دوسری جانب مقتدرہ یہ کہتی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات نہیں کرے گی ‘ بات چیت ہونی ہے تو وہ سیاسی قوتوں کے درمیان ہی ہونی چاہیے۔
تحریک انصاف کے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے حامیوں میں وہ رہنما بھی شامل ہیں جو جیلوں میں قید ہیں اور بار بار پارٹی قیادت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ تاہم دوسرا گروہ مزاحمتی سیاست پر یقین رکھتا ہے اور وہ مفاہمت کے کسی راستے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب حکومت کے اندر بھی بہت سے لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت نہ ہونے کی وجہ سے ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان کے مطابق اگر مفاہمت کی سیاست آگے نہ بڑھی تو معیشت اور جمہوری نظام دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہ صورتحال اس وقت اور زیادہ حساس ہو جاتی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہو۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں تناؤ موجود ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پورے خطے میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے داخلی سیاسی استحکام انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ علاقائی حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات یقینا ملک کی معیشت اور داخلی سیاست پر بھی پڑیں گے۔
سیاست میں مفاہمت اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب سیاسی قیادت لچک کا مظاہرہ کرے۔ تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ موجودہ حالات میں سخت مؤقف پر قائم رہنا ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کے بعض وزرا کو بھی اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ سخت بیانات اور الزام تراشی سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بناتی ہے۔ اگر حکومت واقعی معاملات کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے سازگار سیاسی ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مفاہمت یکطرفہ عمل نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی سنجیدگی اور سیاسی بصیرت کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام اپوزیشن کو نظر انداز کر کے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
جمہوری نظام میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ خاص طور پر موجودہ حالات میں جب ملک کو دہشت گردی‘ معاشی مشکلات اور علاقائی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے‘ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ خیبرپختونخوا کی صورتحال بھی اس تناظر میں اہم ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ازحد ضروری ہے۔ حالیہ عرصے میں وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے مابین بعض معاملات میں تعاون دیکھنے میں آیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگر یہ طرزِ عمل جاری رہتا ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
بعض حلقے حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپوزیشن سے کسی بھی سطح پر مذاکرات کی ضرورت نہیں مگر یہ حکمت عملی زیادہ سود مند نظر نہیں آتی۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مفاہمت اور سیاسی استحکام کے لیے دروازے کھلے رکھے۔ محاذ آرائی کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان جمہوری نظام اور عوام کو ہوتا ہے۔ اس وقت ملک کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات‘ ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے اثرات اور داخلی سطح پر معاشی مشکلات‘یہ سب ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے سیاسی استحکام کا ہونا ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے معاشی اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ ان حالات میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مفاہمت اور مصالحت کا کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ ملک ماضی میں بھی سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے نقصان اٹھا چکا ہے۔ اس کشمکش نے جمہوری نظام کو کمزور کیا اور قومی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ عوام کی توجہ مہنگائی اور معاشی مشکلات پر ہے مگر سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ حکومت کو اپوزیشن کو سیاسی راستہ دینے کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن کو بھی قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سیاسی حکمت عملی میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ اگر دونوں فریق اپنی سیاسی انا سے بالاتر ہو کر بات چیت کا راستہ اختیار کریں تو موجودہ ڈیڈ لاک ختم ہو سکتا ہے۔ ملک کا مستقبل مفاہمت اور سیاسی برداشت کے ساتھ جڑا ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں باہمی تعاون اور مکالمے کے ذریعے آگے بڑھنے کا راستہ اختیار نہیں کریں گی‘ قومی مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں۔ اب گیند حکومت اور اپوزیشن دونوں کے کورٹ میں ہے کہ وہ محاذ آرائی کی سیاست جاری رکھتی ہیں یا مفاہمت کے ذریعے ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف لے جاتی ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved