گھر کے پچھلے حصے میں ‘ ایک کمرہ بقیہ مکان سے الگ تھلگ ہے۔اس کمرے میں ایک طرف رائٹنگ ٹیبل ہے جس کے سامنے کرسی ہے۔ اس پر فرزند ارجمند بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک صوفہ ہے۔ دو نشستوں والا جسے ‘ فرنگی لغت میںTwo seater کہا جاتا ہے۔ یہ ٹُو سیٹر صوفہ اس فقیر کا رائٹنگ ٹیبل بھی ہے اور کرسی بھی۔ اس کے ساتھ میز کی ضرورت کبھی نہیں پڑی۔ کاغذ قلم بھی صوفے پر ہی رکھ دیے جاتے ہیں۔ ویسے اگر اس صوفے کے سامنے میز ہو بھی تو خالی کہاں رہے گا! یہی تو اہلیہ محترمہ کو شکوہ ہے کہ کوئی میز ہو ‘ الماری ہو‘ کافی ٹیبل ہو‘شیلف ہو‘ دیوان ہو‘ دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے لد جاتا ہے اور پھر خالی کبھی نہیں ہوتا۔ یہ شکوہ کم از کم میں‘ بذات خود‘ بنفس نفیس‘ تین نسلوں سے سُن رہا ہوں۔ دادی جان یہی شکوہ ذرا کھردرے لفظوں میں کرتی تھیں۔ کتابوں اور رسالو ں کے لیے وہ ''پھڑکے‘‘ کا لفظ اور دادا جان کے لیے ''بھاگوان‘‘ کا لفظ استعمال کرتی تھیں۔ ''بھاگوان جدھروں آنا‘ پھڑکے گھِدی آنا‘‘ یعنی جدھر سے بھی آئیں‘ رسالے اور کتابیں ساتھ لیے آتے ہیں۔ یہ پچاس کی دہائی ہو گی۔ دادا جان کے پاس متعدد جرائد آتے تھے جن میں ماہِ نو اور ظفر نیازی کا ''نقاد‘‘ ابھی تک یاد ہیں۔ شاید ماہرالقادری کا ''فاران‘‘ اور بھارت سے عامر عثمانی کا ''تجلی‘‘ بھی! سفر سے ساتھ آنے والی کتابیں ان کے علاوہ ہوتی تھیں۔ پھر والدہ محترمہ کا دور آیا۔ ان کی رنجش بھی یہی تھی مگر الفاظ کم کھردرے تھے۔ ان کا پوائنٹ یہ بھی تھا کہ ''جہاں بیٹھتے ہیں‘ وہاں ارد گرد کتابیں اکٹھی ہو جاتی ہیں جنہیں بعد میں ہٹاتا کوئی نہیں‘‘۔ پھر ہماری اہلیہ کا عہد آیا۔ جن کے شکوہ نما فقرے کی بُنت اوپر بیان ہو چکی ہے۔
میز کرسی پر بیٹھ کر لکھنے کا کام کرنے کی عادت نہیں۔ انگوٹھ ( آلتی پالتی) مار کر بیٹھنا آرام دہ لگتا ہے۔ پانچویں جماعت تک تو ٹاٹ پر بیٹھے۔ چھٹی جماعت سے لے کر سولہویں جماعت تک میز کرسی پر کیسے بیٹھے رہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ دفتروں میں میز کرسیوں پر بیٹھ کر کیسے گزار دیا؟ کئی کئی گھنٹوں کی طویل کانفرنسیں کیسے انٹینڈ کر لیں؟ یہ سب نہیں معلوم! مگر یاد نہیں کہ کوئی تخلیقی کام میز کرسی پر بیٹھ کر کیا ہو۔ کہیں پڑھا ہے کہ احمد ندیم قاسمی نے لکھنے کا کام ہمیشہ چارپائی پر بیٹھ کر کیا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ پہلے گھروں میں رائٹنگ ٹیبل کا اور کرسی کا رواج ہی کہاں تھا! یا تو فرشی نشست ہوتی تھی یا چارپائی! چارپائی رائٹنگ ٹیبل بھی تھی‘ کرسی بھی تھی‘ کھانے کی میز بھی تھی۔ کانفرنس ٹیبل بھی تھی۔ اور بیڈ بھی تھی۔ کھانا کھاتے ہوئے درمیان میں لکڑی کا ٹرے رکھا جاتا تھا جسے مقامی زبان میں ''مَجبا‘‘ کہتے تھے۔ دو افراد اس کے ایک طرف اور دو دوسری طرف بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ مہمان کو بھی اسی ''ڈائننگ ٹیبل‘‘ پر کھانا کھلایا جاتا تھا۔ تعداد زیادہ ہونے کی صورت میں فرشی دسترخوان بچھایا جاتا تھا جس پر بیٹھ کر کھانا کھانا میز کرسی پر بیٹھ کر کھانے کی نسبت ہزار مرتبہ زیادہ آرام دہ تھا۔ گرمیوں کی جو دو اڑھائی ماہ کی چھٹیاں گاؤں میں گزارتے تھے‘ سکول کالج سے ملاہوا ہوم ورک چارپائی پر ہی بیٹھ کر کرتے تھے۔ جولائی اگست کی دوپہر! درخت کی چھاؤں کے ساتھ ساتھ گھسٹتی چارپائی! ہوا اس قدر چلتی تھی کہ گرمی کا احساس کبھی دامن گیر ہوتا ہی نہ تھا۔ کتابیں کاپیاں ایک چارپائی پر نہیں سماتی تھیں تو دوسری ساتھ بچھ جاتی تھی۔ یہ حویلی مہمان خانہ بھی تھی یعنی یہاں خواتین نہیں ہوتی تھیں اس لیے گاؤں کے دوست احباب بلا تکلف آ جاتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دوپہر جب میں کام کر رہا تھا‘ ایک صاحب اپنے بیٹے کو کہہ رہے تھے کہ تم بھی اسی طرح پڑھائی کیا کرو۔ لیکن پڑھائی وڑھائی کوئی نہیں کرتا تھا۔ دوپہر کو گپیں چلتیں اور شام کو گلی ڈنڈا۔ بی اے کے زمانے کی بات ہے۔ گھوڑی پر سوار‘ ننھیالی گاؤں سے ایک اور گاؤں کو جا رہا تھا۔ نانا جان نے ایک آدمی ساتھ کر دیا تھا جو گھوڑی کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ راستے میں اس نے پوچھا: کس جماعت میں پڑھتے ہیں اب؟ بتایا کہ تیرہویں جماعت میں!! وہ حیران ہوا کہ اتنا زیادہ پڑھ ڈالا! پھر اس نے کہا کہ اب آپ ہمارے گاؤں میں پٹواری تو لگ ہی سکتے ہیں۔ پٹواری تو میں نہ لگ سکا مگر اپنے علاقے کے متعدد دیہات میں میں پہلا ایم اے بھی تھا۔ پہلا لیکچرر بھی اور سی ایس ایس کر کے پہلا سپیریئر سروس افسر بھی۔ یہ ریکارڈ سالہا سال نہ ٹوٹا یہاں تک کہ نئی نسل میں بینکار بھی آگئے‘ فوجی افسر بھی اور ایم بی اے بھی! گاؤں کے پہلے لڑکے نے جب بی بی اے کیا تو میرے پاس آیا کہ ایم بی اے کرنا ہے۔ میں نے کہا ضرور کرو! کہنے لگا کیسے کروں! پیسے کہاں سے لاؤں؟ میں نے حیران ہو کر کہا تمہیں پیسوں کی فکر کیوں ہے۔ داد ا تمہارے اتنے بڑے زمیندار ہیں۔ ایک دو کنال بیچ دیں گے اور تمہارا کام ہو جائے گا۔ اس نے جا کر دادا سے یہی کہا۔ دادا نے فوراً پوچھا یہ مشورہ تمہیں اظہار صاحب نے دیا ہے؟ اس نے کہا ہاں! ساتھ یہ بھی بتایا کہ اظہار صاحب نے شہر میں پلاٹ بیچ کر بیٹے کو پڑھنے لندن بھیج دیا ہے۔ دادا نے‘ جو اَب مرحوم ہیں کہا کہ اظہار صاحب بے وقوف ہیں! میں نہیں! میں نے اس بچے کو ایک بہت اچھے ادارے میں ملازمت دلوا دی۔ نہیں معلوم اس کا ایم بی اے کا خواب پورا ہوا یا نہیں۔ لیکن یہ تمام باتیں بر سبیل تذکرہ لکھنے میں آ گئیں۔ اصل بات جو بتانا تھی‘ ابھی رہتی ہے۔
جیسا کہ آغاز میں عرض کیا کہ گھر کے پچھلے حصے میں‘ ایک کمرہ الگ تھلگ ہے۔ اس میں ایک طرف میز کرسی ہے جس پر فرزندِ ارجمند بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک صوفہ ہے جو اس فقیر کا ٹِھیا ہے۔ یہ تین دن پہلے کا واقعہ ہے‘ سہ پہر کو میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ اچانک پورا دروازہ کھلا۔ ایک صاحب‘ قامت جن کی تین فٹ تھی یا پونے تین فٹ‘ نمودار ہوئے۔ تین پہیوں والی سواری پر کافی جارحانہ انداز میں بیٹھے تھے۔ میری طرف دیکھا۔ پھر گلے سے ایک آواز نکالی جو اصلی شیر کی آواز سے مشابہ تھی۔ اس کے فوراً بعد ایک للکار سنائی دی۔ ''یہاں سے اٹھیے‘‘! میں نے حیران ہو کر پوچھا کیوں؟ کہنے لگے یہ ان کے ابا کا آفس ہے۔ میں یہاں نہیں بیٹھ سکتا۔ میں نے دلیل دینے کی کوشش کی کہ ان کے ابا کا دفتر میز کرسی ہے‘ جبکہ یہ صوفہ میرا آفس ہے۔ اس پر ان کے گلے سے پھر شیر کی آواز نکلی۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرا آفس اندر لاؤنج میں ہے اور یہ کہ میں فوراً اٹھوں۔ اب کے آواز میں گرج‘ چمک زیادہ نمایاں تھی۔ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ ان کے ابا پہلے میرے بیٹے ہیں اور ان کے ابا بعد میں۔ اس کا جواب انہوں نے منطق سے دیا کہ میں غلط کہہ رہا ہوں۔ پہلے وہ ان کے ابا ہیں اور میرے بیٹے بعد میں ہیں۔ کوشش کی کہ مذاکرات سے مسئلہ سلجھ جائے۔ مذاکرات میں چاکلیٹ کا ذکر بھی ہوا۔ کلب کے پلے گراؤنڈ کا بھی جہاں جھولے اور سلائیڈ ہیں اور آئس کریم کا بھی مگر صاحب کی ایک ہی رَٹ تھی کہ میں اٹھوں کیونکہ کمرہ ان کے ابا کا ہے۔ آواز ان کی زور دار سے زوردار تر ہو رہی تھی۔ وہ تو بھلا ہو ان کی بڑی اماں کا کہ شور سن کر آ گئیں اور بیچ بچاؤ کرایا۔ تین فٹ لمبے صاحب نے سواری موڑی اور بڑی اماں کے ساتھ چلے گئے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ بڑی حویلی سے ایک کمرے میں اور چارپائی سے صوفے پر منتقل ہونے میں ثقافت کا نقصان تو ہوا‘ ملکیت کے جھگڑے بھی پیدا ہو رہے ہیں!!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved