تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     12-03-2026

کام صرف دعاؤں سے نہیں چلتے

کاٹن لٹھے کا کلف لگا سوٹ پہن کر بازار سے پِسا ہوا آٹا لانے والوں کو کیا معلوم کہ کپاس کی فصل کس طرح پکتی ہے۔ انہیں قطعاً علم نہیں کہ انہوں نے کاٹن کا جو سوٹ پہن رکھا ہے اس میں بیج سے کپاس بننے تک کیا مراحل ہیں اور انہیں یہ بھی ادراک نہیں کہ دانے سے آٹا بننے کے دوران گندم کی فصل پر موسم کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔ ویسے تو موسم اور زراعت کے درمیان ایک خاص تال میل ہے تاہم کپاس موسم کے سلسلے میں بہت زیادہ حساس ہے۔ اب معاملہ یہ آن پڑا ہے کہ ہماری کپاس کی مروجہ اقسام اسی پرانے موسم کے مطابق ہیں جو اَب معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ انسانی بے اعتدالیوں کے طفیل صدیوں سے طے شدہ موسم کا سارا کیلنڈر اُتھل پتھل ہو گیا ہے۔ ہم ان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید ترین متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس سلسلے میں ایک عدد وزارت قائم کر کے اس پر ایک عدد پیارے کو ایڈجسٹ کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیا۔ اوپر سے ہمارے زرعی سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی اس نئی صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ایک پنجابی محاورے کے مطابق تنکا توڑ کر دوہرا نہیں کیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
گزشتہ سال کپاس کے طے شدہ اہداف اور پیداوار کے بارے میں لگائے گئے تمام تر سرکاری تخمینے حرفِ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ پیداوار اپنے ہدف سے تقریباً پچاس فیصد کم ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کی بہتری یا تبدیلی کا بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ کپاس اب نفع آور فصل کے طور پر بہت پیچھے چلی گئی ہے اور کپاس کی پیداوار کے روایتی علاقوں میں کاشتکار دیگر نفع آور فصلوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ کاشتکاری عبادت ضرور ہے لیکن یہ پیشہ بھی ہے اور کاشتکار کی زندگی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر کسی کو اس کی دن رات کی محنت کا اتنا معاوضہ بھی نہ ملے کہ اس کی زندگی کی ضروریات کو پورا کر سکے تو بھلا کوئی اس چیز سے کب تک جڑا رہ سکتا ہے؟
جنوبی پنجاب کبھی کاٹن کا گھر تھا لیکن اب صورتحال بہت مختلف ہے۔ کبھی صرف وہاڑی کی تحصیل میلسی اتنی کپاس پیدا کرتی تھی جتنی کپاس سارا صوبہ سندھ پیدا کرتا تھا۔ اب اس تحصیل میں شاید ہی کوئی کاشتکار کپاس کاشت کرتا ہو۔ ہمارا بہت پیارا دوست اطہر خان خاکوانی کپاس کا شیدائی تھا اور اس فصل کے حوالے سے بہت ہی مثالی کاشتکار کے طور شہرت رکھتا تھا۔ کپاس کے موسم میں اس کے رقبے پر تاحدِ نظر کپاس کی فصل دکھائی دیتی تھی۔ پھل گڈی کے موسم میں ہلکے جامنی رنگ کی آمیزش کے کھلنے والے سفیدی مائل پھول اور ٹینڈے کھلنے کے بعد سفید روئی کے گالے ایسا منظر پیش کرتے تھے کہ بندہ قدرت کی اس خوبصورتی کو محسوس تو کر سکتا ہے بیان نہیں کر سکتا۔ آج اطہر خان خاکوانی کے رقبے پر چاول‘ سورج مکھی‘ مکئی اور گنے کی فصل تو موجود ہے صرف کپاس ہی نہیں ہے۔ آخر یہ کیوں اور کیسے ہوا؟
کپاس کی فصل کیلئے ایسا خشک اور گرم موسم درکار ہے جہاں رات کو موسم تھوڑا خنک ہو جائے۔ یعنی دن کو گرمی ہو اور رات نسبتاً ٹھنڈی ہو۔ کپاس دن رات کی گرمی برداشت نہیں کر سکتی اور اس کے پھول زیادہ گرمی سے گر جاتے ہیں۔ تکنیکی زبان میں اسے Shedding کر جانا کہتے ہیں۔ جب پھول ہی گر جائیں تو ٹینڈے کہاں سے بنیں گے اور کپاس کہاں سے آئے گی؟ ہمارے ہاں کپاس کی فصل کا صدیوں پرانا روایتی موسم مئی تا نومبر دسمبر ہوتا تھا۔ یہ موسم جہاں کپاس کیلئے آئیڈیل تھا وہیں نئی نئی اقسام کے درآمدی ضرر رسان کیڑوں کیلئے بھی بہت سود مند تھا۔ سپرے کا خرچ آسمان کو چھونے لگا تو اس مصیبت سے جان چھڑوانے کیلئے اگیتی کپاس کے تصور نے جنم لیا اور کپاس کی کاشت مئی سے نیچے آ کر فروری مارچ تک پہنچ گئی۔ صورتحال وقتی طور پر بہتر ہو گئی لیکن اس کا دورانیہ چھ سات ماہ سے بڑھ کر نو دس ماہ ہو گیا۔ اوپر سے موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن نے کچھ بہتر ہوئی صورتحال کو پھر سے ابتر کر دیا۔ کپاس کی کاشت کا روایتی علاقہ یعنی جنوبی پنجاب جو اپنے خشک موسم کے باعث کپاس کیلئے مثالی تھا‘ آہستہ آہستہ اپنا خشک موسم کھو رہا تھا مگر کسی نے اس کی کوئی پروا نہیں کی۔ خشک موسم کی رخصتی نے اس علاقے کا سارا زرعی منظر نامہ بھی بدل کر رکھ دیا۔ اب چاول کی کاشت بالائی پنجاب سے نیچے کھسک کر جنوبی پنجاب تک آن پہنچی ہے۔
جنوبی پنجاب میں گرمیوں کے موسم میں دن شدید گرم اور راتیں ٹھنڈی ہوتی تھیں۔ دن کے بلند درجہ حرارت کے بعد رات کی خنکی اور چلنے والی ٹھنڈی ہوا کپاس کی فصل کیلئے آئیڈیل ہوتی ہے لیکن اب یہ سب کچھ خواب بن گیا ہے۔ نہ دن ویسے گرم رہے ہیں اور نہ رات اس طرح ٹھنڈی۔ اب بھی سندھ میں حیدرآباد سے نواب شاہ تک کا موسم کپاس کیلئے مثالی ہے۔ دن کی گرمی کے بعد ساحل سے آنے والی ٹھنڈی اور تیز ہوا جہاں کپاس کے پھولوں کو ''شیڈنگ‘‘ سے محفوظ رکھتی ہے وہیں یہ تیز ہوا کیڑوں کی افزائشِ نسل کیلئے قدرتی مدافعتی نظام کا کام بھی دیتی ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ ملک عزیز میں کسی بھی فصل پر کسی بھی وقت کسی بھی قسم کی افتاد کا وقوع پذیر ہونا اب قطعاً اچنبھے کے بات نہیں رہ گئی۔ کبھی گندم کی فصل رُل گئی اور کبھی آلو کا کاشتکار لُٹ گیا۔ کبھی گنے کی فصل نے کاشتکار کو برباد کر دیا اور کبھی مکئی کی فصل ٹکے ٹوکری ہو گئی۔ اس ساری غیر متوقع صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے کاشتکار ایک انگریزی محاورے کے مطابق اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈالنے کا رِسک لینے کے بجائے ''ملٹی کراپ سسٹم‘‘ کی طرف چلے گئے ہیں۔ اب کاشتکار نے اپنی زمیں کو ایک ہی فصل کیلئے مختص کرنے کے بجائے دو‘ تین یا چار مختلف اقسام کی فصلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ کپاس ایسی فصل ہے جو اس قسم کے کاشتہ نظام میں منفی نتائج دیتی ہے۔
کبھی اس ملک کی برآمدات کا بیشتر حصہ کپاس اور اس سے منسلک ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر مبنی تھا۔ دھاگہ‘ کپڑا اور دیگر اشیا ہمارے لیے زرِمبادلہ کمانے کا بنیادی ذریعہ تھے۔ اب حال یہ ہے کہ کپاس کی پیداوار میں کمی نے ٹیکسٹائل کی ساری ملکی صنعت کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کپاس کی پیداوار جو 2014-15 ء میں ایک کروڑ پچاس لاکھ گانٹھ تھی‘ سال بہ سال مسلسل کم ہوتے ہوتے 2024-25 ء میں محض پچپن لاکھ گانٹھیں رہ گئی۔ چین کی فی ایکٹر پیداوار ہم سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔چین کو چھوڑیں‘ بھارت کی فی ایکڑ پیداوار‘ جو ہم سے کہیں کم ہوتی تھی‘ ہم سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہو چکی ہے اور اس کی واحد وجہ صرف بہتر بیج ہے۔ جبکہ ہمارے زرعی سائنسدان دوسرے ملکوں سے چوری شدہ زرعی مٹیریل سے بیج تخلیق دے کر نئی ورائٹیوں کے نام پر نوٹ چھاپتے رہے تاوقتیکہ اس غیر مقامی مٹیریل کے ساتھ آنے والی بیماریوں از قسم وائرس نے تباہی مچادی۔
ہمارے پاس کپاس کیHeat Tolerant یعنی گرمی مدافعت والی ورائٹیوں اور ہائبرڈ و بی ٹی اقسام کے بیجوں کو متعارف کروانے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں۔ لیکن ہمارے زرعی سائنسدان اور ماہرین ستو پی کر سو رہے ہیں۔ بیوروکریسی دفتروں میں بیٹھ کر فائلوں کا منہ کالا کر رہی ہے۔ ہر آنے والا سال کپاس کیلئے مزید بری خبریں لا رہا ہے۔ ملکی معیشت صنعتی برآمدات کے بجائے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے جانے والے زرِمبادلہ پر انحصار کر رہی ہے۔ نہ کسی کو فکر ہے اور نہ بہتری کے امکانات ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے ارادے عمل کے بجائے خوابوں پر منحصر ہیں‘ اوپر سے ہم گنہگاروں کی دعائیں بھی فلک سے ٹکرا کر ناکام و نامراد واپس آرہی ہیں۔ میرا دعا پر یقین ہی نہیں ایمان بھی ہے لیکن نظام قدرت میں کام صرف دعاؤں سے نہیں چلتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved