دس برس‘ جی ہاں ہمیں دس برس کی ضرورت ہے‘ اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا اندازِ فکر بدل جائے۔
ہم نے گریہ کیا۔ ہم نے مرثیہ پڑھا۔ ہم نے احتجاج کیا۔ ہم نے کراچی اور گلگت سکردو میں‘ حسبِ توفیق مقتل بھی آباد کر لیے۔ اب ہمیں رکنا اور سوچنا ہے کہ عمر بھر گریہ کیا جا سکتا ہے نہ احتجاج۔ جن معاشروں میں شکایت اور احتجاج کلچر بن جائیں زندگی وہاں سے رخصت ہو نے لگتی ہے۔ زندہ لاشیں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں تو لوگ گمان کرتے ہیں کہ حیات حرکت میں ہے۔ کلچر کیا‘ ہم نے احتجاج کو مذہب بنا ڈالا۔ ہم خدا کی خوشنودی جلسوں اور جلوسوں میں تلاش کرتے ہیں اور پیغمبر رکوع وسجود اور دعا و مناجات میں۔
'انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے‘۔ یہی اس کا مستقبل ہے۔ اسی کا نام مقدر ہے۔ عالم کے پروردگار نے جو بات اپنے آخری صحیفے میں کہی‘ وقت نے بار ہا اس پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔ اپنی سنت کو وہ خود تبدیل نہیں کرتا‘ کسی دوسرے کی کیا مجال۔ میری بیٹی پڑھ پڑھ کر ٹی وی سکرین پر پھونکتی جب اسے پاکستان کا کھلاڑی نظر آتا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ بھارت کے کھلاڑی اگر زیادہ محنت کر کے آئے ہیں تو ان کی محنت کا پھل انہیں ضرور ملے گا۔ یہ اللہ کا وہ قانون ہے جس کا اطلاق مسلم اور غیرمسلم پر یکساں ہوتا ہے۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جب تک یہ ہماری سمجھ میں نہیں آئے گا‘ تہران عالمِ مشرق کا جنیوا نہیں‘ مقتل ہی بنے گا کہ دنیا خواہشوں سے نہیں سعی و جہد سے بدلتی ہے۔ ہمیں گریہ اور احتجاج کی فضا سے نکلنا اوراس نکتے پر غور کرنا ہے۔ اور ہاں‘ یہ سعی بھی لازم ہے کہ درست سمت میں ہو۔ غلط سمت میں اٹھنے والے قدم منزل سے دور کرتے ہیں۔ حادثۂ ایران نے یہ نکتہ زبانِ حال سے ایک بار پھر سمجھا دیا۔
ہمارا انتخاب جنگ نہیں‘ امن ہونا چاہیے۔ ہمیں امن کے کم ازکم دس سال کی ضرورت ہے جنہیں ہم صرف اپنی تعمیر پہ خرچ کریں۔ اس عرصے میں ہم ہر تصادم سے گریز کریں۔ اگر کوئی چاہے بھی تو ہم پہلو بچا کر نکل جائیں۔ دس سال اگرچہ کم ہیں لیکن اگر ہم اپنی سوچ کو تبدیل کر لیں تو دس سال بعد ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ امن نے ہمیں کیا دیا۔ اس کے بعد یہ امکان ضرور پیدا ہو جائے گا کہ لوگ آپ کے ساتھ اُلجھنے سے گریز کریں گے۔ لوگ سوال اٹھاتے ہیں: اگر دوسرے حملہ آور ہوں تو کیا کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی نوبت کم ہی آتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر آجائے تو پہلے مرحلے پر اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ ثالثی‘ حکمت‘ بے شمار راستے ہیں جن کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ تمام کاوشیں ناکام ہو جائیں اور میدانِ کارزار میں اترنا لازم ہو جائے تو پھر بہادری سے لڑنا چاہیے۔ اگر پہلے مراحل ہماری حکمتِ عملی کا حصہ ہوں تو یہ مرحلہ کم ہی آتا ہے۔ ایران اس جنگ سے بچ سکتا تھا اگر انقلاب کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات کو حکمت کے ساتھ آگے بڑھایا جاتا۔ جب انقلاب آ گیا تو 'مرگ بر امریکہ‘ کو تحریک بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔
اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ نے مشرکینِ مکہ کے ساتھ دس سال جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا۔ جنگ آپ کا کبھی انتخاب نہ تھی۔ قرآن مجید کی ہدایت تو یہ ہے کہ جنگ میں اگر کوئی صلح کا ہاتھ بڑھائے تو اسے فوراً تھام لینا چاہیے۔ گویا جنگ سے ممکن حد تک گریز۔ جنگ کیا ہوتی ہے‘ اس کی تپش کہاں تک پہنچتی ہے‘ آج ہمیں اس کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ میلوں دور بھڑکنے والے شعلے ہمیں بھی جلا رہے ہیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مقتل کی حالت کیا ہو گی۔ اگر آج جنگ ختم ہو جائے تو ایران کو تعمیرِ نو کے لیے کئی دہائیوں کی ضرورت ہے۔ حکمت سے عاری شجاعت کا حاصل صر ف پُر اثر نوحے ہیں۔
لہٰذا‘ پہلی بات یہ کہ ہمیں کم ازکم امن کے دس سال کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ کہ مسلم دنیا میں اتحاد لازم ہے۔ اس کے لیے عرب و عجم‘ شیعہ سنی‘ ہر طرح کی تقسیم سے بلند ہونا پڑے گا۔ اگر انقلاب کے بعد‘ امریکہ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک کو بھی امن کا پیغام دیا جاتا تو آج وہاں کا منظرنامہ مختلف ہوتا۔ عراق ایران جنگ سے بچا جا سکتا تھا۔ اس سرد مہری سے بھی‘ جس کا ایران کو اس وقت سامنا ہے۔ اگرچہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے اس حملے کے بعد اس سرد مہری کا جواز نہیں تھا۔ لیکن دوسری طرف کے لوگ بھی اس عالی ظرفی کا مظاہرہ نہ کر سکے جس کی ضرورت تھی۔ ماضی کی تلخیوں سے بلند ہونا آسان نہیں ہوتا۔
تیسری بات یہ کہ امریکہ اپنے اڈوں کے لیے آپ کی سر زمین استعمال تو کر سکتا ہے‘ مشکل وقت میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔ عربوں کو خود انحصاری اور خطے میں ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر عرب و عجم کا مسئلہ نہ ہو تو پھر انہیں خطرہ صرف اسرائیل سے ہو سکتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تصادم کی صورت میں امریکہ ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے؟ اس لیے اگر ایران کے ساتھ عربوں کے تعلقات اچھے ہوں اور باہمی اختلافات بھی نہ ہوں تو پھر انہیں کسی خارجی قوت کو مدد گار بنانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ انہوں نے امریکہ کی خو شامد کی۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ قیمتی تحائف دیے مگر دفاعی معاہدہ پاکستان ہی سے کرنا پڑا۔ جو سرمایہ کاری انہوں نے امریکہ پر کی‘ اگر اس سے آدھی پاکستان پر کرتے تو آج چین کی نیند سو رہے ہوتے۔ اسی طرح ایران اور عرب ممالک‘ دونوں کو اس کا بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ بھارت کی دوستی بھی مشکل میں ان کے کسی کام کی نہیں۔
یہ تین باتیں ہیں جو وقت نے ہمیں سمجھا دی ہیں۔ اپنی تعمیر اور امن کی تلاش‘ باہمی اتحاد اور امریکہ و بھارت پر انحصار سے گریز۔ حادثۂ ایران کے بعد بھی اگر کوئی اس بات کے لیے دلیل طلب کرے تو اس کی جگہ ذہنی امراض کا ہسپتال ہے۔ اس بات کی تفہیم کے لیے اس ذہنی کیفیت سے نکلنا لازم ہے جس میں ہم کم و بیش ایک صدی سے مبتلا ہیں۔ فلسطین اور ایران کے مقتل آباد تو امریکی اور اسرائیلی قاتلوں نے کیے مگر ان کی سہولت کاری ہمارے نعرہ باز راہنماؤں نے کی۔ ان کا جرم بھی کم نہیں جنہوں نے مسلمانوں کو مسلسل احتجاج اور جنگ و جدل کے راستے پر لگایا۔ نئی نسل کے جذبات کا استحصال کیا۔ ان کو مومن اور مسلمان بنانے کے بجائے‘ مجاہد کے خوبصورت عنوان دے کر جنگجو اور فسادی بنایا۔ مسلم معاشروں کو مسلسل حالتِ اضطراب میں رکھا۔ ان کے لیے زندگی کے بجائے موت کو گلیمرائز کیا۔ جس نے زندگی کی بات کرنا چاہی‘ اسے مادہ پرست اور مغرب کا ایجنٹ قرار دے دیا تاکہ لوگ اس کی بات پر کان نہ دھریں۔ اس اندازِ فکر سے نجات حاصل کیے بغیر یہ تین باتیں سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔
بربادی کو بچشمِ سر دیکھنے کے بعد بھی‘ اگر اس کوعقل نہ آئے تو پھر اسے معذور سمجھنا چاہیے۔ یہ دنیا معذوروں کے لیے نہیں بنی۔ معذوری عقلی ہو یا جسمانی‘ خود انحصاری میں مانع ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ دوسروں کے رحم وکرم پر رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا انحصار اغیار پر ہوتا ہے۔ وہ گریہ کرتے ہیں یا شکایت۔ چالاک لوگ ان کی معذوری کا فائدہ اٹھاتے اور اس معذوری کو اشتہار بناکر مفادات حاصل کرتے ہیں۔ ایسے راہنما‘ مذہبی ہوں یا سیاسی‘ جرائم پیشہ گروہ کی طرح ہیں جو ہر چوک میں ایک معذور کو بٹھاتے اور شام کو اس کی کمائی سمیٹ لے جاتے ہیں۔ وہ معذور اگلے دن پھر اپنے زخم اور بے چارگی بیچ رہے ہوتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved