تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     12-03-2026

میوزیم سے مسجد تک

10جولائی 2020ء کو ایک بار پھر وہ صدا فضا میں بلند ہوئی جسے 86سال پہلے جبراً بلند ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ ایک ترک عدالت نے اپنے فیصلے سے وہ رکاوٹ مسمار کر دی جس نے آیا صوفیہ کو مسجد کا تشخص دینے سے روک رکھا تھا۔ ترکی کی اعلیٰ ترین عدالت‘ کونسل آف سٹیٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ دستاویز کے مطالعے سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس عمارت کو مسجد کے لیے مختص کیا گیا‘ اس لیے اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ترک حکومت نے یہ مناسب فیصلہ بھی کیا کہ مسجد کی حیثیت بحال ہونے کے باوجود یہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کھلی رہے گی۔ آیا صوفیہ کے بالکل قریب نیلی مسجد اس کی ایک مثال ہے۔ نمازوں کے اوقات میں جماعت قائم ہوتی ہے لیکن مسجد کا ایک حصہ سیاحوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ آیا صوفیہ سے اذان کی صدا بلند ہوئی تو اس تاریخی لمحے کا عینی شاہد بننے کے لیے بہت سے لوگ اس کے سامنے جمع تھے۔ اپنے قومی پرچم لیے بہت سے ترک اپنی دیرینہ خواہش پوری ہونے کے منتظر تھے۔ یہ لمحہ 86برس کے بعد لوٹ کر آیا تھا۔
سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد آیا صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کا اعلان کیا اور جمعے کی نماز آیا صوفیہ میں ادا کی۔ لیکن شبہیں کھرچوائیں نہیں حالانکہ انہیں بآسانی ختم کیا جا سکتا تھا۔ انہیں رنگ کر کے چھپا دیا گیا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ استنبول میں آیا صوفیہ کے بعد دوسرا بڑا کلیسا یونانی کلیسا کے طور پر برقرار رکھا گیا۔ آیا صوفیہ اس کے بعد سے صدیوں تک مسجد رہی۔ 481سال یہاں اذان بلند ہوتی رہی اور نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ حتیٰ کہ کمال اتاترک نے 1934ء میں اس کی مسجد کی حیثیت جبراً ختم کر دی اور اسے میوزیم بنا دیا۔ مؤقف کئی طرح کے ہیں۔ باقی دنیا کی بات ایک طرف رہی مسلم دنیا میں بھی اس بارے میں کئی ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک اکثریتی طبقہ وہ ہے جسے آیا صوفیہ کی مسجد کی حیثیت بحال ہوتے دیکھ کردلی خوشی ہوئی۔ ان کے خیال میں یہی حق تھا۔ ایک طبقہ وہ ہے جو خود کو سیکولر کہتے ہوئے بھی بدترین تعصب کا شکار رہتا ہے۔ اس طبقے کو ہندوازم بدھ ازم‘ عیسائیت‘ یہودیت‘ قادیانیت وغیرہ کسی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ان سب مذاہب اور ان کے پیشواؤں کا احترام ان کی تحریروں سے پھوٹتا ہے‘ سوائے اسلام اور مسلمانوں کے۔ کوئی مسجد میوزیم میں بدل جائے یا مسمار کر دی جائے یا کسی ملک کا عدالتی فیصلہ اس کے خلاف آجائے تو ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ اس طبقے کا سیکولر ازم اس سے اوپر نہیں جاتا۔ ایک طبقہ وہ ہے جو اسلام اور مسلمان دشمن بہر حال نہیں ہے لیکن وہ کسی بھی مذہب اور عبادت گاہ کے ساتھ تعصب اور زیادتی کے خلاف ہے۔ ان کے ذہن میں آیا صوفیہ کے معاملے پر بھی یہ شکوک موجود ہیں۔ بیت المقدس کے حوالے سمیت بہت سے تاریخی حوالے بھی دیے جا رہے ہیں لیکن نوعیت اور اصولوں کو ملحوظ رکھے بغیر۔ میں ان لوگوں میں ہوں جو موجودہ دور میں کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کا تشخص اور حیثیت بدلنے کے خلاف ہیں۔ تاریخ کو ہم صدیوں کے بعد تبدیل نہیں کر سکتے اس لیے اتنی دور ماضی میں جا کر ناانصافیوں اور غلطیوں کا ازالہ (اگر وہ واقعی ناانصافیاں اور غلطیاں ہیں) کسی فرد یا حکومت کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ ماضی کو برا بھلا کہنے سے بھی حال کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ چاہے آپ ساری عمر ایک ہی معاملے پر ٹویٹس اور سٹیٹس کے ڈھیر لگا دیں۔ ممکن صرف یہ ہے کہ کوئی حکومت اور معاشرہ اپنے اختیار کے ساتھ کسی مذہب و مسلک کے ساتھ یا کسی عبادت گاہ کے ساتھ زیادتی نہ ہونے دے۔ خواہ وہ اکثریت ہو یا اقلیت۔ اکثریت اور اقلیت کا معاملہ بھی وہ خط عبور کر چکا ہے جسے خطِ اعتدال کہنا چاہیے۔ بہت سے معاشروں میں تو اقلیتوں کے ساتھ وہ سلوک ہے جہاں انہیں برابر کے انسانی اور شہری حقوق ملنا بھی عملی طور پر محال ہے خواہ وہ انہیں آئینی طور پر حاصل ہوں۔ دوسری طرف مسلم حکومتوں کا یہ بھی المیہ ہے کہ وہ مرعوبیت اور بیرونی دباؤ کے تحت اکثریت کی خواہشات کو پامال کر کے گزرتی رہی ہیں۔ وہ حقوق بھی اکثریت کو دینے سے انکار کر دیا گیا جو انہیں آئینی طور پر حاصل تھے اور جن کے لیے ریاستیں بنائی گئی تھیں۔ اور سچ یہ ہے کہ اکثریت کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف بہت کم کچھ کہا گیا ہے۔
ظلم چاہے اکثریت کے ساتھ ہو یا اقلیتوں کے ساتھ‘ ایک حد سے زیادہ نہیں چل سکتا۔ وہی ہوتا ہے جو ترکیہ میں ہوا جہاں اکثریت کی خواہشات کا بے دریغ قتل کیا گیا۔ آیا صوفیہ مسجد کو عجائب گھر میں بدل دیا گیا۔ تمام مسجدوں میں عربی زبان میں اذان پر پابندی لگا دی گئی‘ رسم الخط بدل دیا گیا اور قوم اپنے تہذیبی ورثے سے مکمل محروم کر دی گئی۔ روایتی اور دیرینہ لباس اتروا کر یورپین لباس پہنا دیا گیا اور یہی ترقی کا راستہ بتایا گیا۔ یہ اکثریت کے ساتھ وہ ظلم تھا جو انصاف کے نام پر روا رکھا گیا۔ کیا کوئی سوال کر سکتا ہے کہ رسم الخط کی تبدیلی‘ عربی اذان پر پابندی اور لباس کی تبدیلی سے ترکی نے کیا ترقی کی؟ کیا وہ اس عروج پر بلکہ اس کے عشر عشیر تک بھی پہنچ سکا جو اسے سلاطینِ عثمانی کے دور میں نصیب تھا؟ میں نے اوپر ذکر کیا کہ اس فیصلے پر شکوک و شبہات بھی موجود ہیں اور مؤقف بھی مختلف ہیں۔ کچھ سوالات میرے دل میں بھی ہیں‘ کیا ان پر توجہ مل سکے گی؟ اگر کسی عبادت گاہ کا تشخص بدل دینا جرم ہے اور عثمانی سلاطین اس کے مرتکب ہوئے تھے تو یہی جرم ترک انقلاب کے داعیوں کا بھی ہے۔ انہوں نے 481سالہ مسجد کی حیثیت بدل کر عجائب گھر بنانے کا جرم کیوں کیا؟ اگر آیا صوفیہ کی چرچ کی حیثیت میں بحالی ہی عدل و انصاف تھا تو یہ انصاف ان کے ممدوح کمال اتاترک نے کیوں نہیں کیا؟ اس انصاف کی رو سے اسے کلیسا کے بجائے عجائب گھر بنا دینا کون سا عدل تھا؟ کسی ملک کے باشندوں کا جبراً سرکاری طور پر صدیوں سے جاری رسم الخط‘ لباس اور مذہبی زبان بدل دینا کون سے سیکولر اصول کے تحت جائز ہے؟ جو لوگ بابری مسجد کے معاملے پر یہ کہتے تھے کہ یہ اعلیٰ ترین عدالت کا فیصلہ ہے‘ اس عدالت نے پوری تحقیقات کے بعد ہی نتائج نکالے ہوں گے‘ وہ اعلیٰ ترین ترک عدالت کے فیصلے پر نکتہ چینی کا کیا جواز رکھتے ہیں؟ دونوں معاملات میں کیا فرق ہے؟ اگر بابری مسجد بقول ہندوستان‘ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور باقی دنیا کو مداخلت کا حق نہیں تو آیا صوفیہ ترکی کا اندرونی معاملہ کیوں نہیں ہے؟ مسجد قرطبہ سمیت اندلس کی تمام سابقہ مساجد کلیسا میں بدل دی گئی تھیں حالانکہ ان میں اکثر جگہ عیسائی قبضے کے وقت یہ معاہدے کیے گئے تھے کہ مسلم عبادت گاہوں کو برقرار رکھا جائے گا۔ جو دوست صرف 86سالہ عمر کے عجائب گھر کی بحالی کے حق میں تھے‘ وہ ان سات سو سالہ مساجد کی بحالی کے بارے میں کب آواز اٹھائیں گے؟ اگر کمال اتا ترک 481 سال سے موجود مسجد کی حیثیت یہ سمجھتے ہوئے بدلنے کا حق رکھتے تھے کہ اسے مسجد بنانا غلط تھا اور کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کی پروا نہیں کرتے تو موجودہ ترک حکمران 86سالہ میوزیم کی حیثیت بدلنے کا حق کیوں نہیں رکھتے؟ کیا یہ حق 1931ء کے بعد ختم ہو گیا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved