لگتا تو ایسا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے اثرات پورے خطے کے علاوہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ تو شاید ان کی منصوبہ بندی میں ہی نہ تھا اور نہ ہی کوئی تزویراتی پیش گوئی ان سے ہو سکی کہ خطے میں ان کی فوجی تنصیبات اور اتحادی اس قدر ایرانی گولا باری کی زد میں آئیں گے۔ ان کے گرد حفاظتی حصار اور جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی کے باوجود ڈرون اور میزائل حملے نہیں روک پائے۔ یہ تو ایک عام شخص کو بھی معلوم تھا کہ ایران کے سینکڑوں ڈرونز کو ایک ساتھ نہیں گرایا جا سکتا۔ دو چار بھی انٹرسیپٹروں کے فائر سے نکل جائیں تو زمین پر تباہی یقینی ہو گی۔ ایرانیوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی میں زبردست سرمایہ کاری کی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف مہارت بلکہ پیداواری استعداد اور اہداف کو درست نشانہ بنانے کی بھی صلاحیت حاصل کی۔ یوکرین کے خلاف جنگ میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرونز کی خریداری کی۔ طاقت کے توازن میں جب زمین آسمان کا فرق ہو تو جنگی حکمت عملی کو ان معروضی حالات کے مطابق ترتیب دینا پڑتا ہے جو ایران کی قیادت نے دہائیوں سے کر رکھی تھی۔ روایتی جنگ میں حریفوں کا پلڑا بہت بھاری ہو تو غیر روایتی ذرائع بھی متحرک کیے جاتے ہیں‘ جن میں پورے خطے میں خفیہ طور پر پھیلے ہوئے ایران کے غیر ریاستی اتحادی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس جنگ سے پہلے گزشتہ دو برسوں سے اسرائیل اور ایک حد تک امریکی بھی ان کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور اس وقت بھی اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فوجی چڑھائی شروع کر رکھی ہے۔ لیکن ہر جنگ کے بعد یہ اتحادی کہیں نہ کہیں سے پھر نکل کر مقابلے کیلئے آجاتے ہیں۔ ایران نے اپنے اوپر عرصے سے منڈلاتے خطرات کے پیشِ نظر طویل جنگ لڑنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے جو ابھی تک فعال اور مؤثر نظر آتی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے ہر حصے اور ہر ممکنہ فوجی ٹھکانے پر مستقل بمباری کی جا رہی ہے جس میں شہری آبادیوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ آسمان سے اتنا قہر برسانے اور صف اوّل اور دوم کی عسکری و سیاسی قیادت کے خاتمے کے بعد بڑے اعتماد سے امریکی صدر نے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ اس کا جواب انہوں نے سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کر کے دیا ہے۔ ساتھ ہی جنگ کا دائرہ امریکہ کے حلیف علاقائی ممالک تک پھیلا کر ثابت کر دیا ہے کہ اگر وہ محفوظ نہیں تو دوسرے بھی اپنی سلامتی کی فکر کریں۔
اس بحث اور تنقید کا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ ایران نے جوابی کارروائی کو اسرائیل اور امریکہ تک کیوں محدود نہیں کیا۔ یہاں دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ امریکی اڈے اور فوجی تنصیبات جہاں سے حملے ہو رہے ہیں اور فوجیں دہائیوں سے کچھ عرب ممالک کی سرزمین پر مقیم ہیں‘ ابھی تک جو اطلاعات ہیں ایرانیوں نے ان کو ہی ٹارگٹ کیا ہے۔ دوسرے‘ ایرانیوں کے تیل کے ذخائر کو تباہ کیا گیا تو اس کے ردِ عمل میں انہوں نے بھی کچھ ملکوں کی تیل کی صنعت پر وار کیا ہے۔ ایران کے مبصرین ایک عرصے سے پوری دنیا کے سامنے یہ بات تواتر سے رکھ رہے ہیں کہ ہم محفوظ نہیں تو کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ایران کی تیل کی صنعت کو فی الحال مکمل تباہ نہیں کیا جا رہا کہ تبدیلی کی امید ابھی قائم ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمزکو تیل بردار اور دیگر جہازوں کیلئے ایران بند نہ کر سکے تاکہ عالمی معیشت کسی بہت بڑے بحران کا شکار نہ ہو۔ ابھی تک تو وہ اس مقصد میں ناکام نظر آتے ہیں۔ جنگ میں تیل بردار جہازوں کی بیمہ کی شرح آسمان کو چھونے لگی ہے۔ پوری دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہونے کے خدشے نے سٹاک مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عالمی منڈی میں تیل فی بیرل 100ڈالر کی حد کو پار کر کے واپس آیا ہے۔ آگے کیا ہو گا‘ سوچ کر تو معاشی طور پر کمزور ممالک کے لوگوں کو غش پڑ رہے ہیں۔
کسی کو معلوم نہیں کہ یہ جنگ کب ختم ہو گی اور کس نتیجے پہ ہو گی۔ جس قسم کے اندازے ایران کے رجیم کو گرانے اور ایک نئے نظام کو وہاں پیدا کرنے کے لگائے جا رہے تھے‘ وہ ابھی تک ناکام نظر آرہے ہیں۔ اس جنگ میں البتہ حریفوں کی کامیابی کا آسان پیمانہ تو سامنے دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایران گھٹنے نہیں ٹیکتا اور اس کی مزاحمت جاری رہتی ہے تو سب جانی اور فوجی نقصان کے باوجود یہ اس کی فتح ہو گی۔ دوسری طرف امریکی اور اسرائیلی فتح اس بات پر منحصر نہیں کہ انہوں نے ایران کے اندر کتنی تباہی پھیلائی اور وہاں کتنی شہری آبادیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ ان کیلئے پیمانہ ایران کی مذہبی قیادت کے زیر سایہ رجیم یا سیاسی نظام کا خاتمہ ہے۔ اس کے کوئی آثار کسی کو نظر نہیں آرہے۔ ابھی تک ایران کا سیاسی نظام فعال ہے۔ نظام جو پاسداران کی زیر نگرانی ملک میں قائم ہے‘ اس کی جڑیں عوام کے کئی حلقوں اور نچلی سطح سے لے کر اوپر کی فیصلہ سازی‘ صنعت اور معیشت تک قائم ہیں۔ نظام کے مخالفین کی ایران میں کمی نہیں مگر جب معاملہ ایران کی سلامتی اور نظام کا ہو تو سب ایرانی اپنے اپنے ملک کے ساتھ ہوں گے۔ کوئی بھی ایرانی بے شک وہ نظام کا مخالف ہو‘ اپنے ملک کو کئی جغرافیائی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ ولی رضا نصر کی اس رائے میں وزن ہے کہ ایرانی ریاستی اداروں اور معاشی انفراسٹرکچر کی تباہی سے حملہ آور طاقتوں کے خلاف مزاحمت نہ صرف بڑھے گی بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع ہو گا۔ امریکہ کے سرکاری حلقوں میں یہ مغالطہ ہے کہ جب قیادت ختم کر دی جائے گی اور معاشی طور پر اتنا بڑا نقصان ہو گا تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے جن میں پولیس اور فوج کے لوگ بھی شامل ہوں گے اور ریاست منہدم ہو جائے گی۔ پہلے تو ایسا ممکن نہیں معلوم ہوتا۔ اگر ہو بھی جائے تو سوائے بدامنی‘ افرا تفری اور خانہ جنگی کے ان کے ہاتھ فوری طور پر کچھ نہیں آئے گا۔
میرے خیال میں ایران اس بڑی جنگ کی تباہی کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ اس کی جنگی حکمت عملی حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہے گی اور اس کے حریفوں کی بھی۔ یہ تو فطری بات ہے کہ مقابلے کیلئے تدبیر موجود اور زیر استعمال وسائل اور دوسروں کی طاقت سامنے رکھتے ہوئے بدلتی رہتی ہے۔ ایران کیلئے گزشتہ کئی صدیوں سے یہ مشکل ترین وقت ہے۔ جب اس جنگ کے بادل چھٹیں گے تو اس کے اثرات پورے خطے پر آئندہ کی تزویراتی صف بندی پر نمایاں ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پرانا ایران مذہبی قیادت کے زیر اثر رہتا ہے یا اندر سے مخالف اور فطری طور توڑ پھوڑ یا امریکی جنگ کے دباؤ کے اثر میں تبدیل ہوتا ہے۔ جنگ کے دونوں اطراف سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے کہ نتائج دونوں صورتوں میں دور رس ہوں گے۔ ایران میں رجیم چینج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہو گا۔ وہ اس خطے کا شاید بادشاہ گر بن جائے گا اور پورے خطے کے ممالک کھل کر بات کرنے کے بھی قابل نہ رہیں گے۔ دوسری صورت میں اگر ایرانی رجیم اپنی بقا کی کوئی صورت نکال سکتی ہے تو پھر ایران ایک بہت بڑی علاقائی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔ ابھی تک امریکی اور ان کے علاقائی دوست خوش فہمیوں میں ہیں کہ جنگ کے ملبے سے ایک نیا ایران پیدا ہو گا جو مزاحمت چھوڑ کر شمولیت کی خوشحالی کے دائرے میں آ جائے گا‘ وہاں بھی بُرج بنیں گے‘ کئی دبئی بسائے جائیں گے‘ ایئر لائنوں کا مرکز بھی وہاں ہو گا اور سب امریکہ کے خواب میں ترقی کے اگلے مراحل طے کریں گے۔ کیا کریں‘ خواب خواب ہی ہوتے ہیں۔ زمینی حقائق کا ادراک اور ان کے مطابق تزویراتی حکمت عملی کی اساس بنانے کیلئے جذباتیت اور نفرت کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ خواب شاید ایران کے صحراؤں میں ریت کا ڈھیر بن جائیں یا پھر دھوئیں کے بادلوں میں تحلیل ہو جائیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved