جب ہم آخری حدِ خوشامد پار کر کے ٹرمپ کو ریاستی طور پر امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کر رہے تھے‘ یقینا تقدیر ہم پر قہقہے لگا رہی تھی۔ خوشامد کی وبا میں مبتلا مگر گیسوئے یار کے اسیر درجہ بہ درجہ مسلسل گرتے چلے گئے۔ صدر ٹرمپ آپ سے بڑا امن کا محسن اور کوئی نہیں۔ آپ نے 35 ملین لوگوں کی زندگیاں بچائیں‘ آپ کو نوبیل انعام دینے سے اس انعام کی عزت میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کے 25 کروڑ لوگوں کے اصلی تے وڈّے نمائندے آپ کو نوبیل کے لیے نامزد کرتے ہیں۔ پھر قدرت کا اصل قانون حرکت میں آ گیا۔ اسرائیل اور امریکہ بہادر غزہ کے بچوں‘ خواتین اور نہتے فلسطینیوں کا قتلِ عام کروانے کے بعد اس پر پیس بورڈ بنانے لگے‘ مگر جلد ہی خدائے لم یزل کے اٹل قانون کی پکڑ میں آ گئے ''تلک الایام نداولھا بین الناس‘‘۔
اسرائیل پچھلے 30 سال سے ایران پر حملہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا تھا۔ یہ منصوبہ امریکی Neoconsکے ایک گروپ نے 1996ء میں بنایا۔ رچرڈ پَرلے‘ ڈگلس فیٹ‘ ڈیوڈ وام سر نے نیتن یاہو کے لیے گریٹر اسرائیل کا پالیسی پیپر تیار کیا جس کا نام تھا A clean break... new strategy for securing the realm‘ جس میں واضح طور پر درج ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
کلین بریک کا پہلا قدم: عراق کے لیڈر صدام حسین کے خلاف طاقت کے ذریعے رجیم چینج کرانے کے لیے عراق پر بلا وجہ کا حملہ کرنا۔ دوسرا قدم: شام کو مختلف وار لارڈز کے ذریعے غیر مستحکم کر کے وہاں اپنی مرضی کا نظام لانا۔ تیسرا قدم: لبنان اور عراق کے خلاف ملٹری ایکشن کے ذریعے دونوں ممالک کو زمین بوس کرنا۔
مشرقِ وسطیٰ کے مسلم رہنماؤں کے خلاف اس سٹرٹیجی کے کاتب جلد ہی بُش ایڈمنسٹریشن میں سینئر آفس ہولڈر بن گئے جن میں سے پَرلے رمز فیلڈ کا ایڈوائزر‘ فیٹ وزارتِ دفاع میں انڈر سیکرٹری‘ وام سر ڈِک چینی کا مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایڈوائزر لگایا گیا۔ یہ منصوبہ امریکہ میں پبلک کیا گیا‘ مگر امریکی عوام امریکہ کی جنگوں سے سخت بیزار تھے؛ چنانچہ عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے The Project for the New American Century (PNAC) کے نام سے ایک اور ادارہ بنا جس کے بانی ڈِک چینی‘ پال وولف وٹز‘ رمز فیلڈ نے ستمبر 2000ء میں ایک چشم کشا رپورٹ بنائی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی طنابیں تب ہاتھ میں آئیں گی جب اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نیا ''پرل ہاربر‘‘ وقوع پذیر ہو گا۔ اس منصوبے کے 11 ماہ بعد نیا پرل ہاربر بُش حکومت کے ہاتھ آ گیا۔ اس وقت تک PNAC میں 25 ایسے بارسوخ امریکی شامل ہو چکے تھے جنہیں بُش ایڈمنسٹریشن میں مقاصد کے حصول کے لیے سٹرٹیجک عہدوں پر بٹھایا گیا۔ نئے پرل ہاربر کا نام تھا نائن الیون۔ یہی 25لوگ کردار بدل بدل کر اگلے 20برسوں تک کلین بریک لسٹ کا مشن آگے بڑھاتے رہے‘ جس کا آغاز 2003ء میں عراق پر تباہ کن امریکی حملے سے ہوا۔ اسی سال شام میں وار لارڈز متحرک ہوئے جس کے نتیجے میں شدید خانہ جنگی شروع ہوئی۔ لبنان پر 2006ء میں وحشیانہ بمباری کی گئی جس کو 2024ء اور 2026ء میں پھر دہرایا گیا۔ اسی ایکشن پلان کو آگے بڑھاتے ہوئے ایران پر پچھلے سال جون میں حملہ ہوا۔ ایران پر تازہ بمباری آج تک جاری ہے۔ یہ کوئی الزام بازی یا تہمت نہیں بلکہ واقعات کے تسلسل کا دستیاب دستاویزی ریکارڈ ہے۔ اسی بارے میں چند ہفتے پہلے نیتن یاہو نے شام میں اسد رجیم کا ہٹانا مشرقِ وسطیٰ کے لیے اسرائیل کی لانگ ٹرم پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ (قارئینِ وکالت نامہ آپ کلین بریک (یکم جون 1996ء) بارے میں تفصیلی رپورٹ انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس سٹرٹیجک اور پولیٹکل سٹڈیز امریکہ سے شائع شدہ سے خود بھی پڑھ سکتے ہیں)۔
اب آئیے وزیراعظم پاکستان کے 2019ء کے دورۂ ایران کی طرف‘ جب پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت برسر اقتدار تھی۔ اس موقع پر جو تقریر کی گئی اس کا کلپ ایران پر تازہ امریکی حملے کے بعد سے وائرل ہو رہا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران ہمارا پڑوسی ملک اور اسلامی بھائی ہے‘ سعودی عرب ہمارا بہترین پرانا دوست۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایران اور سعودی عرب آپس میں لڑیں کیونکہ ایسی کوئی بھی جنگ ان دو ملکوں تک محدود نہیں رہے گی‘ اس جنگ کے خوفناک نتائج نکلیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان میں مہنگائی اور اس کے نتیجے میں غربت کا طوفان آ جائے گا۔ اس لیے ہم نے دو دفعہ دونوں ملکوں میں جا کر صورتحال کو ٹھنڈا کیا۔ ہمارے وہ عاقبت نااندیش غیرنمائندہ منیجرز جو ٹرمپ کی خوشنودی کے لیے اس کے دورۂ مشرقِ وسطیٰ کے بعد دوڑ دوڑ کر سعودیہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ جنگوں کے خلاف باہمی تحفظ کے معاہدے کر رہے تھے‘ ان کے پیچھے ایسے دماغ بیٹھے تھے جنہیں آج درپیش آنے والے حالات کا ذرہ برابر ادراک نہیں ہوا۔ وہ ادراک جو 2019ء میں تھا‘ اس تک موجودہ رجیم 2026ء تک بھی نہ پہنچ سکی۔ مشرقِ وسطیٰ کے باخبر صحافی کھل کر بتا رہے ہیں کہ سعودی عرب اور عرب امارات دونوں ہی ہم سے حملوں کے خلاف 'عملی مدد‘ چاہ رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی بتانے والی بات ہے کہ بمباری اور عین جنگ کے بیچ عملی مدد کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک کو انگریزی اصطلاح میں بُوٹ آن گراؤنڈ کہتے ہیں۔ دوسرے کا نام نیو کلیئر ٹیکنالوجی ہے۔ اسی لیے موجودہ رجیم کے جہاز اب فراٹے بھرتے ہوئے اکثر ملک سے باہر ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں موجودہ رجیم کا پاکستان میں بیانیہ اور ہے‘ سعودیہ میں اور‘ اور متحدہ عرب امارات پہنچ کر دونوں سے ہٹ کر اور۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے وقت کہا گیا تھا کہ پاکستان میں تیل کا کوئی بحران نہیں ہو گا‘ ہم محفوظ ہیں۔ پورے خطے میں تیل کی قیمت میں کہیں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا‘مگر پاکستانی حکومت نے عام پاکستانیوں پر تیل لیوی کی صورت میں 22 فیصد جنگی جرمانہ عائد کر دیا‘ وہ بھی عید سے تھوڑے دن پہلے۔ موجودہ نظام معیشت کو گڑھے سے اٹھانے میں ناکام ہوتا ہے تو بربادی سے توجہ ہٹانے کے لیے عوام پر پٹرول بم پھینک دیتا ہے۔
ہماری تاریخ ہے کہ عام آدمی نے ہمیشہ قربانی دی۔ اب اشرافیہ کا مفت پٹرول‘ بابوؤں کی دو دو گاڑیاں‘ وزیروں کے لمبے پروٹوکول فوراً بند کریں۔ انڈیا میں پٹرول ہم سے آدھے ریٹ پر بِک رہا ہے جہاں تیل کی کھپت ہم سے پانچ سو گنا زیادہ ہے۔ موجودہ نظام نے عوام کی نیندیں اُڑا دیں۔ کل کہیں گے آبنائے ہرمز میں جنگ بانی پی ٹی آئی کے مشورے سے شروع ہوئی۔
آ کر بہار کو تو جو کرنا تھا کر گئی
الزام احتیاطِ گریباں کے سر گیا
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved