قارئین! کچھ لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر ہنسنے کے بجائے صرف رویا ہی جا سکتا ہے۔ دہرے معیار اور تضادات سے بھرپور چند بونگیاں پیشِ خدمت ہیں۔ سلامتی کونسل میں پڑوسی ممالک پر ایرانی حملوں کے خلاف قرارداد منظور کر لی گئی ہے‘ پاکستان نے اپنا وزن قرارداد کے پلڑے میں ڈالے رکھا جبکہ روس اور چین غیر حاضر رہے۔ یاد رہے! پاکستان ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت بھی کر چکا ہے۔ زہران ممدانی کو نیویارک کا میئر بننے سے روکنے میں ناکام ٹرمپ بہادر کو آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کی تقرری پر شدید اعتراض ہے۔ کہتے ہیں کہ نئی قیادت کا انتخاب میری تائید کا مرہونِ منت ہونا چاہیے۔ اس جنگ نے کیسے کیسوں کے بھید بھاؤ کھول ڈالے ہیں‘ دونوں طرف کھیلنے والے عجیب کشمکش سے دوچار ہیں۔ خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو جارحیت قرار دینے والوں کو ایران کے ان حملوں کا جواز تلاش کرنا چاہیے۔ ایران ان سبھی معاونین کے چھکے نہ چھڑواتا تو ایران کی اپنی چھٹی ہو چکی ہوتی‘ تاہم امریکی صدر کی افتادِ طبع کے نت نئے روپ بہروپ آئے روز سامنے آرہے ہیں۔ کہیں اتحادیوں کو آزمائش سے دوچار کر ڈالا ہے تو کہیں سہولت کاروں کو۔ ایران کو ترنوالہ سمجھنے والوں کے لیے تابڑ توڑ جوابی حملے اور جنگی حکمتِ عملی بہت بڑا سرپرائز بنتی چلی جا رہی ہے۔ ایران پر مشترکہ حملے جنگی جرائم کی وہ ہیبت ناک داستان ہیں جس پر کوئی کونے جھانک رہا ہے تو کوئی بغلیں‘ بچیوں کے سکول پر وحشیانہ بمباری جیسے خون آلود داغ ماتھے پر سجائے کس ڈھٹائی سے سلامتی کونسل میں قراردادیں فکسڈ کر رہے ہیں جبکہ ایرانی بھائی چارے کا چارہ امریکہ ایک بار پھر چَر گیا ہے۔ ایرانی مندوب بھی قرارداد کی کارروائی میں دوستی کا دم بھرنے والوں کو مسکراتے ہی ملے ہوں گے۔ بقول شاعر:
مسکرائے ہم اس سے ملتے وقت
رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی
خطے میں جنگ مسلط کرنے والے کیسے کیسے بھونڈے جواز اور بے تکی توجیہات پیش کر رہے ہیں۔ عالمی غنڈہ گردی پر بضد ٹرمپ بہادر بالحاظ پیشہ بڑے کاروباری ہیں۔ کاروبار کا حجم اور منافع بڑھانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اجناس اور دیگر مصنوعات کی مد میں عالمی منڈی سے ہونے والے منافع سے ڈونلڈ ٹرمپ یقینا غیر مطمئن ہوں گے اسی لیے ان پر جنگ کو معیشت بنانے کا جنون سوار ہے۔ مخصوص خطے کو وار زون بنا کر نہ صرف مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کے اسباب پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ ان کے قیمتی معدنی وسائل اور ذخائر سمیت بے تحاشا دھن دولت کا بینی فشری بھی بنا جا سکتا ہے۔ جنگی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے ہونے والی فوری آمدن کئی دہائیوں کی تجارتی سرگرمیوں پر بہت بھاری ہے جبکہ بڑے پیمانے پر تباہی اور بربادی کے بعد تعمیر نو اور آبادکاری کے علاوہ بھوک اور بیماری جیسے عذابوں کا بینی فشری بھی امریکہ اور اس کے تابع عالمی ادارے ہی ہوں گے۔ گویا: آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔
یہ جنگی تھیوری کئی اہداف کے تعاقب میں ہے۔ خطے میں غلبہ اور اجارہ داری کے علاوہ قدرتی وسائل کے انبار پر قبضہ امریکہ اور اس کے حواریوں کا دیرینہ خواب ہے۔ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بھی اسی جنگی جنون کا حصہ ہے۔ ان سبھی مذموم مقاصد کی فصل کاٹنے کے لیے کئی دہائیوں سے کاشت جاری تھی۔ عرب ممالک دفاع سمیت سبھی امور میں امریکہ پر تکیہ کرنے کے علاوہ اس کی خوشنودی اور پذیرائی کے لیے سمجھوتوں سمیت وسائل تک رسائی کو اپنی خوش بختی ہی سمجھتے رہے۔ ٹرمپ بہادر کو بیش قیمت تحائف سے بھرے جہازوں کے نذرانوں اور چڑھاووں کو اپنی عافیت سے منسوب کرتے رہے۔ عالمِ اسلام کے حالاتِ حاضرہ ٹرمپ بہادر کی افتادِ طبع کا مزید بوجھ اٹھانے کے ہرگز قابل نہیں ہیں۔ اس کی خواہشات کے گھوڑے اس قدر بے لگام ہیں کہ کب کہاں کسے روند ڈالیں کچھ پتا نہیں۔ ایسے میں ایران ایک ایسی توانا آواز تھی جسے امریکہ خطے میں واحد مزاحمت سمجھتا تھا۔ اسے سرنگوں کرنے کے لیے پہلے بھی کئی حربے اور ہتھکنڈے آزمائے جا چکے ہیں۔ رجیم چینج کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کی ضد میں اپنے لیے کئی شرمندگیوں کے اسباب تو پیدا کر چکا ہے لیکن اس کا جنون اہداف کی طرف سرپٹ دوڑے چلا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اس منظرنامے کو مذہبی عقائد کے تناظر میں دیکھیں تو سبھی پیش گوئیاں اور نشانیاں پوری ہوتی نظر آرہی ہیں۔ بالخصوص مرحوم مذہبی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے خطبات اور لیکچرز پر مبنی وڈیو کلپس ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ جس میں اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ سے منسوب سبھی پیش گوئیاں موجودہ منظرنامے کا طے شدہ سکرپٹ نظر آتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ازخود بنے جنگی صحافی اس طرح اَپ ڈیٹس دے رہے ہیں جیسے میدانِ جنگ سے براہِ راست کوریج کر رہے ہوں جبکہ سیاسی جماعتوں سے مرعوب و منسوب ''میڈیا سکالرز‘‘ بھی صبح وشام تجزیے اور تبصرے کیے چلے جا رہے ہیں‘ کوئی تہران اور تل ابیب میں ملبوں کے ڈھیر سے خبر نکال کر لا رہا ہے تو کوئی بارود کی بو سونگھ کر اَپ ڈیٹس دے رہا ہے۔ نیتن یاہو کے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟ ٹرمپ اگلی چال کیا چلے گا؟ یہ سبھی بخوبی جانتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل کیا ہو گا؟ سعودی عرب‘ ایران امریکہ جنگ میں کیا حکمتِ عملی اختیار کرے گا؟ آبنائے ہرمز کی بندش کا پریشر امریکہ کو کب جھکنے پر مجبور کرے گا؟ چین اور روس کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ آنے والے دنوں میں دنیا کو کیسے کیسے بحرانوں کا سامنا ہو گا؟ یہ سبھی معلومات ان دانشوروں کو نامعلوم ذرائع سے لمحہ بہ لمحہ موصول ہو رہی ہیں۔ زمانے بھر سے باخبر ان چیمپئنز کو مملکتِ خداداد کے نازک حالات اور چیلنجز شاید اس لیے نظر نہیں آرہے کہ ان کی دانشوری فی الحال بین الاقوامی امور پر مرکوز ہے۔
چلتے چلتے ایک اور جنگی لطیفہ شیئر کرتا چلوں جس پر رونے یا ہنسنے کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں‘ نہ ہنسنے اور قہقہے لگانے میں کوئی حرج ہے‘ نہ ہی رونے اور فکرمندی پر کوئی پابندی ہے۔ برطانوی ادب میں دوسری عالمی جنگ سے منسوب ایک قصہ بہت مشہور ہے کہ جنگ کے دوران ایک فوجی نے اپنی پڑوس میں فون کر کے اپنے گھر کی خیریت دریافت کی تو جواباً پڑوسی نے کہا: کہ سب خیریت ہے بس آپ کا کتا مر گیا ہے۔ فوجی نے حیران ہوکر سوال کیا: ہمارا پالتو کتا کیسے مر گیا۔ پڑوسی نے جواب دیا: کہ وہ آپ کے مرے ہوئے گھوڑے کا گوشت کھا کر کیونکر زندہ رہ سکتا تھا۔ فوجی نے پھر سوال کیا: کیا میرا گھوڑا بھی مر گیا ہے؟ پڑوسی نے جواب دیا: جی ہاں وہ بھوک سے مر گیا تھا۔ فوجی نے کہا: ابھی چند روز قبل ہی خرچہ بھجوایا تھا۔ اس پر پڑوسی نے جواب دیا: وہ پیسے تو آپ کی والدہ کے کفن دفن پر خرچ ہو گئے تھے۔ فوجی چیخ پڑا‘ میری ماں کیسے مر گئی۔ پڑوسی نے پھر جواب دیا: کہ وہ دو ماہ کے پوتے کی موت کا غم برداشت نہ کر پائیں۔ فوجی تڑپ اُٹھا: اُف خدایا! کیا میرا بچہ بھی دنیا میں نہیں رہا۔ پڑوسی نے جواب دیا: بن ماں کا بچہ کتنے دن زندہ رہ سکتا تھا۔ صدمے سے نڈھال فوجی نے بمشکل سوال کیا: کیا اب میری بیوی بھی زندہ نہیں ہے۔ پڑوسی بولا: گھر کی چھت گرنے سے کیسے زندہ بچ پاتی لیکن باقی سب خیریت ہے۔ خاطر جمع رکھیے! پورا خطہ اَنگار وادی بن چکا ہے لیکن ہمارے ہاں سب خیریت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved