ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبصروں میں آج کل یہ سوال بھی تواتر سے اٹھایا جا رہا ہے کہ دنیا کی دیگر دو بڑی طاقتیں‘ روس اور چین ایران کی حمایت میں کھل کر سامنے کیوں نہیں آتیں؟ اگرچہ ان دونوں ملکوں نے سرکاری طور پر ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت کی ہے اور تیزی سے پھیلتی ہوئی اس جنگ کو فوراً بند کر کے مذاکرات کی طرف آنے کا مطالبہ کیا ہے مگر بین الاقوامی برادری کو توقع تھی کہ روس اور چین سفارتی حمایت سے بڑھ کر عملی طور پر ایران کی مدد کو پہنچیں گے کیونکہ اگر امریکہ ایران میں اپنے اعلان کردہ اہداف کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وینزویلا اورشام کے بعد روس کے لیے یہ تیسرے اتحادی ملک سے محرومی کے مترادف ہوگا۔ ایران اور روس 2024ء کے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے سٹرٹیجک پارٹنر ہیں۔ دوطرفہ بنیادوں پر مختلف شعبوں مثلاً دفاع‘ تجارت‘ ٹیکنالوجی‘ توانائی بشمول جوہری توانائی میں قریبی تعاون کے علاوہ روس ایران کو مختلف قسم کے ہتھیار‘ اسلحہ اور گولا بارود فراہم کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے اور یوکرین جنگ کو جاری رکھنے کے لیے روس کیلئے ایران کا تعاون خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ روس کی طرف سے ایران کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا سے ملانے کیلئے اکنامک اور تجارتی کاریڈور کی تعمیر میں مدد دی جا رہی ہے۔ روس‘ چین اور ایران کی خلیج فارس اور اس کے ساتھ ملنے والی خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں مشترکہ بحری مشقوں سے تینوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن میں اضافہ ہوا ہے‘ مگر روس کی جانب سے ایران کو کسی قسم کی ٹھوس اور مادی امداد جو اسے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمتی جنگ میں مدد دے سکے‘ کی فراہمی کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ سوشل میڈیا پر اس قسم کی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ روس ایران کو اپنے اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے میں مدد دینے کے لیے انٹیلی جنس تعاون کر رہا ہے مگر صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی تردید کے بعد یہ افواہیں دم توڑ گئیں۔ روس کی طرف سے جنگ میں ایران کی مدد کے لیے کھلم کھلا آنے کے امکانات اس لیے کم ہیں کیونکہ 2024ء کے معاہدے کے تحت ایران اور روس ایک دوسرے کے سٹرٹیجک پارٹنر ضرور ہیں مگر فوجی اتحادی نہیں۔ یہی صورتحال چین کے بارے میں بیان کی جا سکتی ہے۔ چین اس وقت ایران کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔ 2025ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا کل حجم 34 بلین ڈالر تھا‘ جس میں سب سے بڑا حصہ ایران سے خام تیل کی درآمد کا ہے جو چین کی خام تیل کی کل درآمدات کا 12 فیصد ہے۔ دونوں ملکوں نے 2021ء میں 25 سال کی مدت کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت چین نے اس مدت کے دوران ایران میں 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ اس کے بدلے ایران چین کو اپنے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ کرے گا۔ اس وقت چین ایران سے اس کے خام تیل کی برآمدات کا 80 سے 90 فیصد حصے کا خریدار ہے مگر روس کے ساتھ معاہدے کی طرح چین کے ساتھ ایران کا معاہدہ بھی فوجی اتحادکا نہیں۔ لیکن خلیج فارس اور اس کے اردگرد پانیوں میں روس اور ایران کی مشترکہ بحری مشقوں میں چین بھی شریک رہا ہے۔ مغربی حلقوں کے بیانات‘ جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین نے ایران کو کروز میزائل فراہم کئے ہیں‘ کو چین نے مسترد کیا ہے مگر چین ایران کے میزائل پروگرام میں بالواسطہ طور پر مددگار رہا ہے۔ اس میں ایرانی انجینئرز کی تربیت اور ایران کو میزائلوں کے آلات کی فراہمی شامل ہے۔ ایران کے میزائل چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہو رہے ہیں مگر چین اپنی سرحدوں سے باہر اپنی فوجی طاقت کو نہ تو استعمال کرتا ہے اور نہ اس کی نمائش کے حق میں ہے۔
روس اور چین دونوں ایران کے بارے میں خطرات سے آگاہ ہیں اور وہ امریکہ کے مقابلے میں کھڑے ہو کر ان خطرات کو مول نہیں لینا چاہتے کیونکہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے مگر سپر پاور نہیں۔ روس ایک زمانے میں سپر پاور تھا مگر سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد سپر پاور نہیں رہا۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس کو امریکہ اور یورپی ممالک کی طر ف سے اقتصادی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ فروری 2022ء میں یوکرین کے ساتھ جنگ چھیڑنے پر امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اس پر مزید پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں جن کی وجہ سے اس کی معیشت اور بھی کمزور ہو چکی ہے۔ اس لیے روس اور چین دونوں ایران سے وابستہ اہم جیو پولیٹیکل اور معاشی مفادات کے باوجود امریکہ سے ٹکر نہیں لینا چاہتے بلکہ عالمی امن اور معیشت کو درپیش مسائل پر اسے اپنی پالیسی لائن پر لانا چاہتے ہیں۔ روسی صدر پوتن کو یقین ہے کہ ٹرمپ یوکرین کے مسئلے کو روس کی شرائط پر حل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اسی طرح ایران پر سخت مؤقف اختیار کر کے چین اپریل میں صدر ٹرمپ کے متوقع چینی دورے کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ چین کو امید ہے کہ ٹرمپ چین کے ساتھ برابری کے اصولوں کی بنیاد پر تجارتی معاہدہ کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ایک حالیہ قرارداد جس میں خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا کو ویٹو کرنے کے بجائے صرف ووٹنگ میں حصہ نہ لینے پر اکتفا ایران جنگ پر روس اور چین کے محتاط رویے کی ایک واضح مثال ہے‘ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ روس اور چین ایران میں امریکہ کی مکمل کامیابی سے پہنچنے والے دور میں نقصانات سے بے خبر ہیں۔ روس میں امریکہ کے بارے میں سخت گیر مؤقف کے حامل عناصر کی طرف سے صدر پوتن پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ یوکرین میں جنگ کو تیز کر کے جلد از جلد اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ٹرمپ پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں کیونکہ وہ ایک ناقابل اعتبار شخص ہے۔ اس طرح ایران میں مزاحمت ختم ہونے سے نہ صرف ایران بلکہ اس کے اردگرد کے خطوں مثلاً افریقہ میں چین نے گزشتہ ایک دہائی میں جو اہم تجارتی اور معاشی فوائد حاصل کئے ہیں وہ تحلیل ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور چین نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے نہ صرف انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دیا ہے بلکہ اسے فوری طور پر بند کرنے اور مذاکراتی عمل کی طرف لوٹ آنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ابھی تک روس اور چین دونوں کی کوششیں سفارتی ذرائع پر مرکوز ہیں لیکن اگر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملے جاری رکھے اور ایران کے جوابی حملوں کی وجہ سے جنگ کا دائرہ پھیلتا نظر آیا تو روس اور چین ایرانی مزاحمت کاروں کو خفیہ طور پر ہتھیار یا ٹیکنیکل امداد فراہم کرنا شروع کر دیں گے۔ یہ دونوں ممالک شام اور وینزویلا کے بعد ایران کو بھی روس اور چین امریکہ کے کنٹرول میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ روس میں یہ احساس ابھر رہا ہے کہ ایران کے بعد ان کی باری بھی آ سکتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved