تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     15-03-2026

مشرقِ وسطیٰ کا آتش فشاں اور پاکستان کا سفارتی مشن

عالمی سیاست کی بساط پر اکیسویں صدی کی تیسری دہائی ایک ایسے تزویراتی موڑ کی نشاندہی کر رہی ہے جہاں برسوں پرانے علاقائی تنازعات اب عالمی بحرانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری محاذ آرائی کو محض ایک علاقائی جنگ قرار دینا خام خیالی ہو گی۔ درحقیقت یہ اُس عالمی نظمِ نو ( New world order) کا نقطہ آغاز ہے جس میں عالمی طاقت کا محور مغرب کے ہاتھوں سے نکل کر مشرق کی طرف سرک رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جو پہلے ہی شام‘ یمن اور غزہ کے رِستے ہوئے زخموں سے نڈھال تھا اب ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے جس کی تپش پاکستان کی سرحدوں تک محسوس کی جا رہی ہے۔ اس سنگین بحران میں پاکستان کا کردار ایسے کلیدی کھلاڑی کا ہے جسے اپنی جیو پولیٹکل اہمیت‘ ایٹمی وقار اور برادرانہ مراسم کے درمیان توازن کی ایک باریک لکیر پر قدم رکھنا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیاں کا وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ ایک رسمی سفارتی کال نہیں تھی بلکہ یہ اس تزویراتی تناؤ کو کم کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے پاک ایران تعلقات میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ کہنا کہ ایران کسی نئے تنازع کا ارادہ نہیں رکھتا دراصل عالمی برادری کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ تہران اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہوئے بغیر خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے خطے میں قیامِ امن کو تزویراتی ضرورت قرار دینا ہماری خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔ اسلام آباد کا یہ بیانیہ کہ سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے‘ ان بین الاقوامی قوتوں کے عزائم کے سامنے ایک بند باندھنے کے مترادف ہے جو خطے میں ہیجانی کیفیت اور انتشار کو اپنی پالیسی کے طور پر دیکھتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بہت اہم پیش رفت ثابت ہوا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے صدر خالد الہمدان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس میں خطے کے نئے سکیورٹی نقشے پر بھی بحث کی گئی۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کو باور کرایا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی اسرائیلی مہم جوئی میں فریق بننا پورے مسلم بلاک کے لیے خودکش ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں ایندھن تو عرب ریاستوں کا ڈالا جا رہا ہے مگر اس کی تپش میں اسرائیل اپنے لیے وہ تزویراتی نقشہ تیار کرنا چاہتا ہے جس کا خواب وہ دہائیوں سے دیکھ رہا ہے۔
پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد خطے میں توازن برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ یہ تینوں ممالک دفاعی صنعت اور سکیورٹی تعاون میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اگر ایران اور اسرائیل کی جنگ کا دائرہ بڑھتا ہے اور ایران کی جانب سے ردِعمل کے طور پر سعودی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ پاکستان اور ترکیہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ پاکستان کبھی نہیں چاہے گا کہ دو برادر اسلامی ملک آپس میں برسرِ پیکار ہوں۔ ترکیہ اور پاکستان دونوں کا اثر و رسوخ ایران کو یہ سمجھانے میں کلیدی ہے کہ جنگ کا پھیلاؤ خود اس کے اسلامی انقلاب کے ثمرات کو ختم کر سکتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ مغرب کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اسرائیل کو لگام دی جائے۔ پاکستان کی سب سے بڑی تشویش اس جنگ کے بالواسطہ اثرات بھی ہیں جو ہماری مغربی سرحدوں پر پڑ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا‘ بھارت نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ اگر ایران کے اندرونی حالات خراب ہوتے ہیں یا اس کی توجہ اپنی سرحدوں سے ہٹتی ہے تو بھارت ایران کی سرزمین کو بلوچ علیحدگی پسندوں کے لیے استعمال کرنے کی اپنی کوششیں تیز کر دے گا۔ پاکستان پہلے ہی افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہے۔ ہم قطعی طور پر نہیں چاہیں گے کہ
بیک وقت دو فعال جنگی محاذوں پر مصروف ہوں۔ ایرانی سرحد کے قریب کوئی بھی بدامنی سی پیک اور گوادر پراجیکٹ جیسے منصوبوں کے لیے خطرات پیدا کرے گی۔ پاکستان نے حال ہی میں افغان سرحد سے آنے والے ڈرونز کو گرا کر اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے لیکن ایک مکمل جنگی صورتحال میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے چیلنجز کئی گنا بڑھ جائیں گے۔
پاکستان کی معیشت نازک موڑ پر ہے اور چین کی سرمایہ کاری ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ گوادر کی بندرگاہ اور سی پیک کے دیگر منصوبے براہِ راست مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر خلیج فارس میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے یا ایران میں بدامنی پھیلتی ہے تو چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ چین اس وقت پاکستان کے ساتھ مل کر ایک بڑے امن پلان پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ شخصیت کا عنقریب بیجنگ کا متوقع دورہ اس سلسلے کی کڑی ہے جہاں چین‘ پاکستان اور ترکیہ مل کر ایران ‘ افغانستان کے درمیان جاری سرد جنگ کو رکوانے کی کوشش کریں گے۔ چین کو معاشی برتری حاصل ہے جبکہ پاکستان کے پاس سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ سکیورٹی ڈائیلاگ کا تجربہ ہے۔ یہ اشتراک خطے میں امن کا نیا راستہ کھول سکتا ہے۔
عالمی طاقتیں اسرائیل کی جارحیت پر خاموش تماشائی بنی ہوئے ہیں۔ ایران پر پابندیاں اور اسرائیل کو جدید ترین اسلحے کی فراہمی نے عالمی طاقتوں کی ترجیحات کو عیاں کر دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے عالمی فورمز پر مسلسل یہ آواز اٹھائی ہے کہ جب تک مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر جیسے بنیادی تنازعات حل نہیں ہوتے‘ دنیا میں پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران مسلم اُمہ کے اتحاد کا امتحان ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ امن پسندی کی طرف مائل ہے۔ ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی بھی بلاک کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ ہم وہ پل بنیں گے جو دوریوں کو کم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کی صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک صلح جُو کا ہے جو اپنے قومی مفادات کو عزیز رکھتے ہوئے خطے کی سلامتی کا علمبردار ہے۔ اگر پاکستان ان سفارتی کوششوں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے لیے استحکام کا پیغام ہو گا۔ پاکستان کی خاموش سفارت کاری دراصل عالمی ضمیر کے لیے ایک پیغام ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقت کے زور پر جغرافیہ بدلنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تاریخ کو درست کیا جائے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو اس خطے کو راکھ کے ڈھیر میں بدلنے سے بچا کر ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved