مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب محض معمولی فوجی جھڑپوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ایسی طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے جو روایتی فوجی حکمت عملیوں کو چیلنج کر رہی ہے۔ آج‘ جنگ کے پندرہویں روز تک‘ اس تنازع کی پہچان مغربی ٹیکنالوجی کی برتری سے زیادہ ایران کی غیرروایتی جنگی حکمت عملی اور واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے واضح حکمتِ عملی کے فقدان سے ہو رہی ہے‘ جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جنگ کا فیصلہ صرف ہتھیاروں کی برتری سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کم وسائل رکھنے والا فریق غیرروایتی حکمت عملی کے ذریعے طاقتور حریف کو بھی طویل جنگ میں الجھا دیتا ہے۔
موجودہ صورتحال کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس اس جنگ کا کوئی واضح سیاسی یا فوجی اختتامی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ ایران پر حملے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مختلف اور متضاد بیانات دیے جاتے رہے۔ پہلے انہوں نے ایران کے جوہری ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا وعدہ کیا‘ پھر وینزویلا طرز کی رجیم چینج کی بات کی اور بعد میں ایرانی افواج کو غیرمشروط ہتھیار ڈالنے کا کہا۔ یہ بدلتی ہوئی حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ امریکی انتظامیہ ابھی تک یہ طے نہیں کر پائی کہ اس جنگ میں ان کیلئے فتح کیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکہ کو اس تنازع میں گھسیٹنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن خود اسرائیلی قیادت کے پاس بھی ایران کے اتحادی گروہوں کو کمزور کرنے کے علاوہ کوئی طویل مدتی حکمت عملی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنازع ایک ایسی جنگ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جس میں ہر روز جنگی اہداف بدل جاتے ہیں۔ مغربی فوجی نظریہ Decapitation‘ یعنی دشمن کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں کو ختم کرنے اور کمانڈ مراکز کی تباہی کو ترجیح دیتا ہے تاہم موجودہ جنگ نے اس حکمت عملی کی حدود کو بھی ظاہر کر دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے کئی اعلیٰ ایرانی حکام کو نشانہ بنایا ہے لیکن ایرانی ریاستی نظام اور اس کا مزاحمتی نظام کا مرکز اب بھی حیرت انگیز طور پر مضبوط ہے۔ فوجی تنصیبات پر حملے اور چند اعلیٰ شخصیات کو قتل کرنے کو جنگ جیتنا نہیں کہہ سکتے۔ مسلسل دباؤ کے باوجود ایرانی سسٹم بدستور قائم ہے اور خطے میں موجود امریکی اثاثوں سمیت اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف اپنی طاقت کا اظہار جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران نے براہِ راست فضائی لڑائی سے گریز کرتے ہوئے میزائلوں کی جنگ میں مہارت حاصل کر لی ہے اور ایران کی طرف سے کم قیمت‘ مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز کے Swarm attacksکی تکنیک نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔ایران کی یہ حکمت عملی مغرب کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ ایک ایرانی شاہد136ڈرون کی قیمت تقریباً 20 سے 50ہزار ڈالر ہے جبکہ اسے روکنے کے لیے امریکہ اکثر پٹریاٹ PAC-3 MSE میزائل استعمال کرتا ہے‘ جس کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر فی میزائل ہے۔ اس فرق کو عسکری ماہرین ''لاگت کے عدم توازن‘‘ کے نام سے بیان کرتے ہیں۔ جب ایک سستا ہتھیار دشمن کو مہنگے دفاعی وسائل استعمال کرنے پر مجبور کر دے تو طویل مدت میں طاقتور فریق بھی معاشی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب ایران اسرائیل یا امریکی اڈوں پر سینکڑوں ڈرونز لانچ کرتا ہے تو اس کا مقصد صرف فوجی ہدف نہیں بلکہ امریکی مالی وسائل کو بھی کمزور کرنا ہوتا ہے۔
ایران کی حکمت عملی صرف فضائی میدان تک محدود نہیں بلکہ سمندر میں بھی اس نے ایک اہم سٹریٹجک برتری حاصل کی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20فیصد سپلائی گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران اس جغرافیائی حقیقت سے بخوبی واقف ہے اور اسی لیے اس راستے کو ایک سٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اس راستے سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں تقریباً 94فیصد کمی آ چکی ہے۔ اوسطاً روزانہ صرف آٹھ جہاز گزر رہے ہیں اور ان میں بھی کوئی تیل بردار جہاز شامل نہیں۔ اس کے عالمی توانائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایل این جی کے 13جہاز جن پر تقریباً 1.056 ملین میٹرک ٹن گیس لدی ہوئی ہے‘ خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت پر مہنگائی کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور حساس عنصر پانی ہے۔ خلیجی ممالک کی بڑی آبادی پینے کے پانی کی ضرورت سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کے ذریعے پوری کرتی ہے۔ اگر جنگ کے دوران ان تنصیبات کو نقصان پہنچے تو اس کے اثرات صرف فوجی نہیں بلکہ انسانی بحران کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ایران جانتا ہے کہ صرف ان پلانٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ظاہر کرنا بھی خطے کے ممالک پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے کافی ہے کہ خلیجی حکومتیں امریکہ اسرائیل مہم جوئی کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں۔ مغربی ممالک کی ایک بڑی غلطی یہ رہی ہے کہ انہوں نے ایرانیوں کو بہت کمزور سمجھا۔ ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے‘ جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اس خطے میں مختلف سلطنتیں ابھرتی اور ختم ہوتی رہی ہیں لیکن ایران کی قومی شناخت ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ حالیہ تاریخ میں جب عراق کے صدر صدام حسین نے 1980ء کی دہائی میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو انہیں یقین تھا کہ وہ جلد ہی کامیابی حاصل کر لیں گے لیکن آٹھ سال تک جاری رہنے والی اس جنگ نے ثابت کیا کہ ایران کو زیر کرنا آسان نہیں۔
موجودہ تنازع کا ایک اور پہلو خلیجی ممالک کی بدلتی ہوئی پالیسی ہے۔ ماضی میں خلیجی ریاستیں امریکہ کو اپنے سب سے مضبوط سکیورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھتی تھیں‘ تاہم حالیہ حالات نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا امریکہ واقعی ان کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ خلیجی ریاستیں اب اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس طویل جنگ کی سب سے بڑی قیمت انہیں ہی ادا کرنا پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض خلیجی ممالک اس جنگ میں مزید الجھنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے اہم سفارتی چیلنج بھی بن چکی ہے۔ اگر خطے کے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو وہ نئی شراکت داریوں کی تلاش شروع کر سکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن اکثر اسی طرح تبدیل ہوتا ہے جب اتحادیوں کا اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔
موجودہ جنگ ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ فوجی طاقت ہمیشہ سٹریٹجک کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ جدید ہتھیار اور طاقتور فوجیں اہم ضرور ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ واضح سیاسی حکمت عملی موجود نہ ہو تو جنگ طویل اور پیچیدہ صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ایران نے کم قیمت ٹیکنالوجی‘ جغرافیائی محلِ وقوع اور قومی یکجہتی کے ذریعے ایک ایسے تنازع کو جنم دیا ہے جس میں طاقتور فریق بھی فوری فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ ایک سٹریٹجک تعطل کی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ تمام فریق زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسا سیاسی راستہ تلاش کریں جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکے۔ بصورت دیگر یہ جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک طویل عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ اب عالمی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جنگ کو مزید طول دیا جائے یا ایک حقیقت پسندانہ امن کی طرف قدم بڑھایا جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved