جب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا آغاز ہوا ہے پاکستان کی ایک مذہبی سیاسی جماعت اور فرقہ پرستوں نے پاکستان کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ میں اسلام آباد میں رہتا ہوں۔ احتجاج پسندوں کے شر سے بچنے کے لیے شہر کے بڑے راہ گزر اکثر بند رہتے ہیں۔ بالخصوص جمعہ اور اتوارکو۔ متبادل راستوں پر گاڑیوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ دس منٹ کا راستہ بیس تیس منٹ میں طے ہوتا ہے۔ یہی نہیں‘ متبادل راستے تک رسائی کے لیے دُگنا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اس پریشان کن اضافے کے بعد‘ اگر اس کا استعمال بھی بڑھ جائے تو ہوش کہاں ٹھکانے رہ سکتے ہیں۔ دوسرے شہروں بالخصوص کراچی کا حال بھی یہی ہے۔ عام آدمی سوچتا ہے: کیا یہ جنگ میں نے شروع کی؟ اگر نہیں تو مجھے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ کیا ریاستِ پاکستان نے یہ فساد برپا کیا؟ اگر نہیں تو پاکستان کو کیوں برباد کیا جا رہا ہے؟
میں سوچتا ہوں: کیا مذہبی سیاسی جماعتوں اور فرقہ پرستوں کو ان سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟ کیا انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ عام آدمی کو کس اذیت میں مبتلا کر رہے ہیں؟ کیا ان کو پاکستان اور یہاں بسنے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں؟ وہ معاشرے کو کس عذاب سے دوچار کر رہے ہیں؟ ان سوالات کے مخاطب احتجاج پسند اہلِ سیاست بھی ہیں مگر آج وہ میرا موضوع نہیں۔ ان مذہبی راہنماؤں کو چند مزید سوالات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ پاکستان میں فساد پیدا کرنے سے ایران کو کیا فائدہ ہوگا؟ امریکہ اور اسرائیل کو کیا نقصان پہنچے گا؟ کیا دوسرے مسلم ممالک کے مذہبی گروہ اپنے ملک اور عوام کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟ یہ المیہ دوچند ہو جاتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ میڈیا سے وابستہ بعض افراد بھی ان کی ہم نوائی کر رہے ہوتے ہیں۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ کوئی سوچی سمجھی رائے ہے یا مقبول ہونے کی خواہش؟
چند باتیں بتکرار کہی جا رہی ہیں۔ احتجاج کی خوگر طبیعت کو ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ اس وقت دنیا میں امتِ مسلمہ نام کی کوئی سیاسی وحدت نہیں پائی جاتی۔ آج مسلمانوں کی قومی ریاستیں ہیں۔ کئی اقوام ہیں جن کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ ایک مخصوص علاقے میں خود مختاری رکھتی ہیں۔ ایران‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ پاکستان یہ سب قومی ریاستیں ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے مفاد کا تحفظ کرتی ہیں۔ ایرانی لیڈر جب مخالفین کو اپنی چھ ہزار سالہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہیں تو ایرانی سلطنت اور تہذیب کو اپنی شناخت بناتے ہیں‘ اسلام کو نہیں۔ آج ہم ایران اور سعودی عرب پر یہ قید نہیں لگا سکتے کہ وہ بھارت سے دوستانہ تعلقات کیوں رکھتے ہیں۔ ہم ایران سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ وہ آبنائے ہرمز میں سب کے جہاز روک رہا ہے لیکن بھارت یا ترکیہ کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟ اسی طرح ہم سے بھی کوئی یہ سوال نہیں کر سکتا کہ ہم فلاں ملک کے ساتھ دفاعی یا اقتصادی معاہدہ کیوں کرتے ہیں؟ ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور اسے یہ حق ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے‘ ہماری مذہبی جماعتیں جس کا ادراک نہیں رکھتیں۔ اگر رکھتی ہیں تو تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہی ہیں۔
دوسرا یہ کہ ہر ریاست اپنے حالات کے مطابق یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اسے عالمی امور میں کس طرح کی مداخلت کرنی ہے۔ کہاں محض مذمتی بیان پر اکتفا کرنا ہے اور کہاں عملی اقدام کرنا ہے۔ ایران کے معاملے میں ان ممالک کی تعداد کم نہیں جو امریکی حملے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہ سب مگر مذمتی بیان سے آگے نہیں بڑھے۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جو عملی مدد کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی طرح جب پاکستان پر بھارت نے حملہ کیا تو اکثریت اس سے لاتعلق رہی۔ ہم کسی ریاست کے اس حق کو چیلنج نہیں کر سکتے کہ اس نے فلاں مؤقف کیوں اپنایا۔ ان ریاستوں پر ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ظلم پر سوال اٹھائیں۔ اکثر ممالک یہ کام کرتے ہیں مگر زبانی کلامی۔ بعض یہ زحمت بھی نہیں کرتے۔ رہا اقدام تو اس کے لیے لوگ سو بار سوچتے ہیں۔ پاکستان اپنی حیثیت اور مفاد کے مطابق ایک کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ توازن کی ایک نادر مثال ہے جس کی تحسین کی جا رہی ہے۔ ریاست کا یہ عزم عیاں ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران سمیت تمام مسلم ملکوں کی سلامتی چاہتی ہے۔ اس کی پوری کوشش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے عذاب سے نکلے۔ اس کے ساتھ وہ پاکستان کے معاشی مفادات کو بھی دیکھ رہی ہے۔ اس لیے مذہبی گروہوں کو ریاست پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
تیسری بات: ہر ملک کے اہلِ دانش حالات کا تجزیہ کرتے اور اپنی رائے دیتے ہیں۔ یہ سماج کی فکری بلوغت کے لیے ضروری ہے۔ ان کی رائے ریاستی مؤقف کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔ یہ اختلاف مگر اس دائرے میں ہوتا ہے کہ ریاست کی پالیسی ریاستی مفادات کے تابع رہے۔ اگر اہلِ دانش یہ محسوس کرتے ہیں کہ ریاست کا کوئی اقدام ریاستی مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہے تو وہ اختلاف کر سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ بین الاقوامی امور پر بھی اپنی رائے دیتے ہیں تاکہ واقعات کی درست تفہیم ممکن ہو۔ ان کا دائرہ بس یہی ہے۔
اہلِ دانش نے تجزیہ کر کے بتا دیا ہے کہ اس قضیے میں امریکہ اور اسرائیل نے کس طرح بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی۔ ایران میں مداخلت کی اور اس سے پہلے وینزویلا میں بھی۔ امریکہ نے اپنے اقدام سے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی اخلاقی ضابطے کو نہیں مانتا۔ یہ ایک بے مہار قوت ہے جس کا تہذیب وتمدن سے دور کا واسطہ نہیں۔ اہلِ دانش اس کے ساتھ یہ بھی سمجھا رہے ہیں کہ کوئی قوم جب اپنی لگام مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھ میں دے دیتی ہے تو گویا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیتی ہے۔ پیغمبروں اور ان کے ہدایت یافتہ گروہ کے استثنا کے ساتھ‘ جب بھی اہلِ مذہب اور طاقت ملے‘ انسانی معاشرے برباد ہو گئے۔ دنیا کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔ اہلِ مذہب کو سمجھنا ہے کہ ان کا اصل کام سماج کی اخلاقی تربیت اور افراد کو اس کے لیے تیار کرنا ہے کہ وہ کل خدا کے حضور میں پیش ہوں تو سرخرو ہوں۔ وہ حکمران طبقے کو بھی انذار کریں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے وقت عدل سے کام لیں اور خدا کی نافرمانی سے بچیں۔ ان کا کام بس یہی ہے۔ سماج کو اضطراب میں مبتلا کرنا‘ ان حدود سے تجاوز ہے جو ان کے لیے طے ہیں۔
پاکستان میں ایک مذہبی طبقہ وہ ہے جن کے ہم مسلک افغانستان میں حکمران ہیں۔ اس وقت ریاست پاکستان ان کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے۔ اس طبقے کے ایک حصے کی ہمدریاں ان کے ساتھ ہیں لیکن انہوں نے صرف زبانی کلامی تنقید کی ہے۔ ریاست کو کسی مشکل میں ڈالا ہے‘ نہ کوئی دھمکی دی ہے اور نہ کوئی احتجاج کیا ہے۔ ان کے ایک گروہ نے تو ان معاملات میں اعلانیہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔ جن کے ہم مسلک ایران میں حکمران ہیں‘ ان کو بھی چاہیے کہ وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس نازک مرحلے پر ریاست اور عوام کو مشکل میں نہ ڈالیں۔ ایسے احتجاج سے گریز کریں جس کا ہدف پاکستان کے عوام اور ریاست ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ یہ جنگ پاکستان نے چھیڑی ہے نہ پاکستانی عوام نے۔ عوام میں شیعہ سنی سب شامل ہیں اور سب ہی اس احتجاج سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ازراہ کرم! اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اگر اس کی کسی پالیسی سے اختلاف ہے تو اُس دائرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں جو قانون نے کھینچ دیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved