تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     16-03-2026

پٹرولیم مصنوعات، ایف بی آراور آئی ایم ایف

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اب ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے۔ ملک بھر کے پٹرول پمپ مالکان نے عیدالفطر کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی فروخت بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ اعلان پی ڈی اے کی جانب سے کیا گیا‘ جس کے مطابق اگر 26 مارچ تک حکومت ان کے منافع کے مارجن میں اضافہ نہیں کرتی تو ملک بھر میں پٹرول پمپ بند کیے جا سکتے ہیں۔ اس وقت فی لیٹر تقریباً 8.64 روپے مارجن ملتا ہے جو پٹرول کی قیمت کا تقریباً 2.59 فیصد ہے۔ مطالبہ ہے کہ اس مارجن کو بڑھا کر آٹھ فیصد کیا جائے۔ بظاہر یہ مطالبہ معاشی منطق سے خالی نہیں‘ کاروبار کی بقا کیلئے منافع کا مارجن مناسب ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر واقعی اخراجات بڑھ چکے ہیں تو مارجن پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو زیادہ اہم ہے۔ پمپ مالکان سے پوچھا جانا چاہیے کہ ایک ہی رات میں پٹرول کی قیمت 55 روپے بڑھنے سے انہوں نے کتنا منافع کمایا؟ اس کا آڈٹ ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر گزشتہ دو سال سے ڈیلرز مارجن بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت نے مطلوبہ اضافہ نہیں کیا تو اس مسئلے کو نظر انداز کرنا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ شفاف طریقے سے اخراجات کا جائزہ لے‘ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز دونوں کے مارجن کا آڈٹ کرے اور ایک ایسا فارمولا طے کرے جس میں کاروبار بھی چلتا رہے اور عوام پر اضافی بوجھ بھی نہ پڑے۔
حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے مگر آج تک ہم نے سٹرٹیجک آئل ریزروز نہیں بنائے۔ پچھلے چالیس سالوں میں تقریباً چھ مرتبہ تفصیلی منصوبہ بندی کے تحت سٹرٹیجک آئل ریزرو بنانے کا فیصلہ ہوا اور دو مرتبہ عوام سے اس مد میں پیسے بھی وصول کر لیے گئے لیکن وہ پیسہ سرکاری عیاشیوں کی نذر ہو گیا۔ پہلا منصوبہ 1986ء‘ دوسرا 1990ء‘ تیسرا 2002ء میں عراق جنگ کے دوران‘ چوتھا 2006ء میں‘ پانچواں 2015ء اور چھٹا منصوبہ 2023ء میں بنایا گیا۔ لیکن آج تک کوئی بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ 2023ء میں ایک روپیہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی لگائی گئی تاکہ سٹرٹیجک آئل ریزور پر کام شروع ہو لیکن اس مد میں اکٹھا کیا گیا تقریباً 22 ارب روپیہ مبینہ طور پر سرکاری عیاشیوں میں اڑا دیا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر اسے اخراجات میں شامل کر کے اکاؤنٹس بیلنس کر دیے گئے۔ آج کی تاریخ میں حکومتی فائلوں میں سٹرٹیجک آئل ریزور کا ایک بھی منصوبہ زیر غور نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اگر سرکار آج دوبارہ منصوبہ بندی کرے تو تیس دن کے سٹرٹیجک آئل ریزرو پر تقریباً سات سال لگ سکتے ہیں اور اس کیلئے 500 ارب کا بجٹ درکار ہو سکتا ہے۔ ان ریزور کا فائدہ یہ ہوگا کہ عالمی سطح پر اچانک قیمتیں بڑھنے کا فوری اثر عوام اور حکومت پر نہیں پڑے گا‘ جیسا کہ بھارت میں ہوا۔ ان کے پاس 70 دنوں کے آئل ریزروز ہیں اس لیے وہاں فوری طور پر قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک ہی جھٹکے میں 55 روپے بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ایف بی آر کی ناکامی بھی ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکس اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ سے آئی ایم ایف پٹرولیم لیوی مزید20 روپے بڑھانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ نارمل حالات میں یہ اضافہ کرنا مشکل تھا لہٰذا ایران جنگ کو سنہری موقع سمجھا گیا اور لیوی کی مد میں یکمشت بیس روپے بڑھا کر پٹرول کی قیمت 55 روپے بڑھا دی گئی۔ پرانا تیل موجود ہونے کے باوجود عوام کو نئے ریٹ پر تیل بیچ کر حکومت نے عوام سے عیدی وصول کر لی۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ تیل کی قیمت پرانے تیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریپلیسمنٹ کاسٹ پرائسنگ کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ یعنی نئے تیل کی قیمت کے مطابق ریٹ کا تعین ہوتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق ریپلیسمنٹ کاسٹ پرائسنگ کی بنیاد پر بھی 55 روپے فی لیٹر اضافہ نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کی معیشت میں ٹیکس ہمیشہ سے ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے اور سپر ٹیکس کے معاملے نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ وہ عدالتوں میں جانے والی کمپنیوں سے تاخیر سے ٹیکس ادا کرنے پر 100 سے 150 ارب روپے تک سرچارج وصول کرے گی۔ سپر ٹیکس پہلی مرتبہ 2015ء میں سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کیلئے عارضی طور پر لگایا گیا تھا اور 2022ء میں اضافی محصولات حاصل کرنے کیلئے یہ دوبارہ نافذ کیا گیا۔ اُس وقت حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ ہنگامی حالات کیلئے ایک محدود مدت کا ٹیکس ہے مگر وقت کے ساتھ یہ ٹیکس مستقل آمدن کا ذریعہ بن گیا اور حکومت سالانہ تقریباً 500 سے 550 ارب روپے اس سے حاصل کر رہی ہے۔ ایک طرف حکومت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان میں کاروباری طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے اسے کم کرنا ضروری ہے‘ دوسری طرف مالیاتی دباؤ اور محصولات کے اہداف پورے کرنے کیلئے حکومت انہی ٹیکسوں پر انحصار کر رہی ہے۔ پاکستان میں بعض کمپنیوں پر مؤثر ٹیکس کی شرح 60 فیصد تک پہنچ جاتی ہے جو خطے کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ حکومت شاید خود بھی کنفیوز ہے۔ ایک طرف بیرونی سرمایہ کاری لانے کی کوشش ہو رہی ہے اور دوسری طرف موجودہ سرمایہ کاری کو بیرونِ ملک بھیجنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ آخر کب تک ایف بی آر کی ناکامی کا بوجھ سرمایہ کار اور عوام برداشت کریں گے؟
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔ توقع تھی کہ ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا مگر مذاکرات کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ بات چیت ابھی جاری رہے گی۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگرچہ کئی معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے لیکن بعض اہم نکات پر ابھی مزید وضاحت درکار ہے۔ اصل مسئلہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں موجود تضادات ہیں۔ آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی بجٹ کے درمیان بڑے مالی فرق پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں تقریباً 413 ارب روپے کا مالیاتی فرق سامنے آیا جس نے عالمی مالیاتی ادارے کی تشویش کو بڑھایا ہے۔ اسی طرح ٹیکس وصولیوں کے اہداف‘ سرکاری بینکوں کے منافع اور کچھ حکومتی اخراجات کے اندراجات بھی مذاکرات میں زیر بحث رہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بیرونی مالیاتی سہاروں پر انحصار کر رہی ہے۔ حکومت ایک طرف معاشی استحکام اور مالیاتی نظم وضبط کا یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف کو بجٹ کے اعداد وشمار اور محصولات کے اہداف کے بارے میں قائل کرنا آسان نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کیلئے اصل چیلنج محض آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہے جو بیرونی سہاروں کے بغیر بھی مستحکم رہ سکے۔ جب تک ٹیکس نظام کو مؤثر نہیں بنایا جاتا‘ توانائی کے شعبے میں اصلاحات نہیں ہوتیں اور برآمدات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوتا اس وقت تک ہر چند ماہ بعد آئی ایم ایف کے ساتھ نئی شرائط پر مذاکرات ہی پاکستان کی معاشی حقیقت بنے رہیں گے۔
آئی ایم ایف نے پارلیمنٹرینز کے اثاثوں کی تفصیلات محدود کرنے سے متعلق مجوزہ ترمیمات پر بھی اعتراض کیا ہے۔ اس کے تحت عوام کی منتخب نمائندوں کے مالی اثاثوں تک رسائی محدود کی جا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شفافیت کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور اگر عوام کی اپنے نمائندوں کے اثاثوں کی معلومات تک رسائی نہ ہو تو احتساب کا عمل کمزور پڑ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved