تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     16-03-2026

گورنرسندھ کو کیوں ہٹایا گیا؟

سندھ میں کامران ٹیسوری کی جگہ نہال ہاشمی گورنر کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ کامران ٹیسوری کو نگران دور میں گورنر لگایا گیا تھا۔ اوّلین ترجیح تو ایم کیو ایم کی نسرین جلیل تھیں لیکن غیر متوقع طور پر کامران ٹیسوری پر مقتدر حلقے متفق ہو گئے کیونکہ نسرین جلیل کے ماضی کے بیانات اور چند سرگرمیوں سے مقتدر حلقے مطمئن نہیں تھے۔ کامران ٹیسوری اب اپنی سماجی سرگرمیوں اور بیان بازی کی وجہ سے خود کو بہترین انتخاب ثابت کر رہے تھے کہ اچانک نہال ہاشمی کو سندھ کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ کامران ٹیسوری کو پُراسرارطریقے سے سبکدوش کرنے پر ایم کیو ایم کافی برہم دکھائی دی اور حکومت سے الگ ہونے کے اعلانات بھی کیے جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ اندرونی طور پر ایم کیو ایم کو اس اقدام پر اعتماد میں لیا گیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف اس تقرری سے صدر آصف علی زرداری کو مثبت پیغام دینا چاہتے تھے۔ کامران ٹیسوری کو گورنرشپ سے فارغ کرنے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ چند روز پیشتر گورنر ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب میں کہا گیا ایک جملہ کامران ٹیسوری کی گورنر ہائوس سے رخصتی کا پروانہ ثابت ہوا۔ کامران ٹیسوری نے گورنر ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کی تھی جو صدر آصف علی زرداری کو ناگوار گزری۔ اتحادی ہونے کے باوجود کامران ٹیسوری کو فارغ کرنے کا مطالبہ سندھ حکومت کی طرف سے کیا گیاتھا اور قرعہ فال نہال ہاشمی کے نام نکلا۔ نئے گورنر سندھ کے انتخاب کا وقت بھی دلچسپ ہے۔ فروری2018ء میں نہال ہاشمی کو عدلیہ کی تضحیک اور ججز کو دھمکیاں دینے کے جرم میں آئین کے آرٹیکل 63 ون (جی) کے تحت جیل بھیجا گیا اور عدالت نے انہیں پانچ سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا۔ 13 مارچ 2026ء کو وہ سندھ کے گورنر کا حلف اٹھا رہے تھے۔ قدرت کا اپنا ہی نظام ہے۔ ادھر کامران ٹیسوری گورنرشپ سے سبکدوشی کے فوراً بعدبیرونِ ملک چلے گئے۔ سابق گورنر سندھ عشرت العباد بھی گورنری چھوڑنے کے بعد دبئی چلے گئے تھے۔ انہوں نے 13 سال تک بطور گورنر صوبہ سندھ پر حکومت کی تھی۔
عالمی حالات کی بات کی جائے تو اس وقت ورلڈ آرڈر ختم ہو رہا ہے۔ اب فوجی طاقت سے نیا آرڈر بنتا نظر آ رہا ہے۔ اگلے چند سالوں میں پاکستان‘ ترکیہ‘ ایران‘ سعودی عرب اور انڈونیشیا نئی طاقتوں کے طور پر سامنے آئیں گے۔ ایران جنگ نے ثابت کر دیا کہ مغربی طاقتوں کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ چین اور روس اکٹھے ہو رہے ہیں۔ نئے اتحاد بنتے نظر آ رہے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک کی کونسل ٹوٹ جائے گی اور پاکستان نئے روڈ میپ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ایران جنگ سے اس وقت امریکہ شدید دبائو کا شکار ہے۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان میں ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے درمیان بحث جاری ہے کہ فضائی حملے مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو اگلا قدم کیا ہو گا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق جو مہم صرف فضائی حملوں تک محدود رہنا تھی وہ اب مزید پیچیدہ شکل اختیار کر سکتی ہے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی طیارے کسی مضبوط جوہری تنصیب کو نشانہ بنا سکتے ہیں لیکن صرف فضا سے حملہ کر کے اس کے مکمل اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اگر فضائی حملہ ناکافی ثابت ہو تو اہداف حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مکمل جنگ یا ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے بہت بڑی فوجی قوت درکار ہو گی۔ ایران کا رقبہ 16 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد اور آبادی نو کروڑ سے زیادہ ہے۔ بعض امریکی اندازوں کے مطابق وہاں نظام کی تبدیلی کے لیے کم از کم پانچ لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ایسا قدم انتہائی مشکل اور بہت مہنگا سمجھا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے واشنگٹن میں زیادہ سنجیدگی سے محدود اور تیز رفتار زمینی کارروائی کے آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خصوصی دستے ایران کے اہم جوہری تنصیبات جیسے اصفہان میں موجود جوہری کمپلیکس پر حملہ کر کے ان مراکز کو تباہ کرنے یا وہاں موجود یورینیم کو قبضے میں لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایک اور اہم ہدف خلیج فارس میں واقع ایرانی جزیدہ خارگ ہے‘ جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکہ نے یہاں بمباری کی۔ عسکری ماہرین کے مطابق کسی بھی لینڈنگ سے پہلے امریکہ کو مکمل فضائی برتری حاصل کرنا ہو گی۔ اس کے لیے ابتدائی مرحلے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام‘ ریڈیو مراکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو میزائلوں اور خصوصی طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایران کی دفاعی حکمت عملی اس نوعیت کے حملوں کو مدنظر رکھ کر ہی تیار کی گئی ہے۔ ایران پر مکمل زمینی حملہ امریکہ کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کا جغرافیہ پہاڑی اور دفاع کے لیے نہایت موزوں ہے۔ ایران کے لیے یہ جنگ بقا کا مسئلہ ہے‘ لہٰذا وہ سرنڈر نہیں کرے گا۔ جنگ بندی کے لیے خلیجی ممالک کو امریکہ پر دباؤ ڈالنا ہو گا۔ایک برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران امریکہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کو امریکہ کو شکست دینے کی ضرورت نہیں بلکہ طویل مزاحمت ہی اس جنگ کو واشنگٹن کے لیے ناقابلِ برداشت بنا دے گی۔ پاکستان کے تناظر میں طویل جنگ سنگین خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکہ ‘ اسرائیل اور تہران کی فوجی حکمت عملی پاکستان کے سرحدی علاقوں اور گوادر جیسے منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی افغان رجیم سے نبردآزما ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر دبائو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں چین کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک ہونا خوش آئند ہے۔
ایران‘ اسرائیل اور امریکہ کے تصادم کے حوالے سے روسی خفیہ ذرائع نے ایک اہم جائزہ جاری کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں سے اسرائیل کو افرادی قوت اور فوجی سطح پر نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ جس میں صرف عسکری تنصیبات ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی دفاعی اور اہم سیاسی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روسی انٹیلی جنس کے دعوؤں کے مطابق کئی اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار اور خصوصی مہارت رکھنے والے افراد بشمول جوہری سائنسدان اور سینئر فوجی جرنیل ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو مطلب اسرائیل کی فوجی قیادت اور اس کے جدید سائنسی پروگرام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس رپورٹ کا ایک انکشاف دیمونا کے جوہری مرکز سے متعلق ہے جو اسرائیل کی فوجی حکمت عملی اور دفاعی صلاحیتوں کا ایک مرکز سمجھا جاتا ہے۔ روسی ذرائع کے مطابق شدید بمباری کے دوران ممکن ہے کہ اسرائیل نے عارضی طور پر اس تنصیب کے کچھ حصوں پر عملی رسائی یا کنٹرول کھو دیا ہو جس سے انتہائی حساس تنصیبات کی سکیورٹی کے بارے میں سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ جنگ کی دھند کے باعث اصل صورتحال کافی حد تک غیر واضح ہے اور فریقین کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ البتہ یہ واضح ہے کہ ایران‘ روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ تھا۔ آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے‘ سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار رہے ہیں۔ جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت تاحال برقرار ہے اور سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود ایران کی مزاحمت جاری ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved