تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     16-03-2026

سنہرے پھول میں

میں نے ایک بار پھر وقت دیکھا۔ شام کے چھ بجنے والے تھے۔ ہم چار گھنٹے پہلے غازی پور سے ڈھاکہ ایئر پورٹ کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ مجھے ڈھاکہ سے کاکس بازار جانا تھا اور ایئر بنگلہ کی پرواز کا وقت 35: 6 تھا لیکن ایئر پورٹ دلّی کی طرح‘ ہنوز دور است کی خبریں دے رہا تھا۔ دس جنوری 2026ء کو ڈھاکہ ایئر پورٹ کے سامنے ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے مجھے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ یہ پرواز مس ہو جائے گی۔ میرے میزبان محمد سلمان اگرچہ مجھے تسلی دے رہے تھے کہ ہم پہنچ جائیں گے لیکن اب پریشانی ان کے چہرے پر بھی عیاں تھی۔ ایئر پورٹ سامنے تھا لیکن گاڑیاں‘ سائیکل رکشے‘ بسیں اور ٹرک راستہ دینے کو تیار نہیں تھے۔ میزبان نے اپنے تعلق والے کچھ لوگوں سے ایئر پورٹ پر رابطہ کیا اور انہیں صورتحال بتائی۔ پندرہ بیس منٹ مزید اور خدا خدا کرکے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔ سلمان کے جاننے والوں نے چند منٹوں میں سکیورٹی وغیرہ کے مراحل سے گزار دیا اور بالآخر ہم ایئر بنگلہ کے چھوٹے سے طیارے میں پہنچ گئے جو اے ٹی آر جہاز تھا۔ پنکھوں والا یہ جہاز صرف 50‘ 60 مسافروں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ ذہن میں رکھیے کہ پورے بنگلہ دیش کا رقبہ ہمارے صوبہ سندھ سے بھی کچھ کم ہے؛ چنانچہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک عام ہوائی جہاز سے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر فلائٹس 40‘ 50 منٹ کی ہوتی ہیں اور اندرونِ ملک زیادہ تر چھوٹے جہاز ہی استعمال ہوتے ہیں۔
ایک اَن دیکھی منزل کا تصور ہمیشہ خوابناک ہوتا ہے۔ کیسا ہوگا وہ کاکس بازار جس کے اتنے قصے سنے تھے۔ پتا نہیں تصور کے مطابق ہوگا یا یہ شیشہ ایک چھناکے سے چکنا چور ہوکر رہے گا۔ تجربہ ہے کہ سیاح کو ہمیشہ برے تجربے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ اس کے بعد جو کچھ بھی ہوگا‘ اچھا ہی لگے گا۔ میرے میزبان نے مزید مہربانی یہ کی کہ حذیفہ کو ہر سفر میں میرے ساتھ رہنے کی ہدایت کی تھی۔ حذیفہ لگ بھگ 30 سال کا نوجوان ہے۔ ڈھاکہ میں رہتا ہے اور اس کا اپنے گھرانے سمیت بہت وقت کراچی میں گزرا؛ چنانچہ نہ صرف اردو بہت اچھی بولتا ہے بلکہ پاکستانیوں کی پسند ناپسند سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ حذیفہ نہایت سمجھ دار اور جدید معلومات سے آراستہ نوجوان ثابت ہوا۔ ہر جگہ اس نے بہترین انتظامات کیے۔ بنگلہ دیش میں کاکس بازار‘ چٹاگانگ‘ سلہٹ وغیرہ میں مجھے اس کی وجہ سے غیر معمولی سہولت ہوئی ورنہ زبان اور مقامات سے ناواقفیت بہت سے مسائل پیدا کر دیتی۔ میں ان تمام سفروں میں سلمان اور حذیفہ کا ممنونِ احسان رہا ہوں۔
جہاز 50 منٹ بعد کاکس بازار کی مٹی پر اترا تو رات شبنمی ہو رہی تھی۔ یہ چھوٹا سا ایئر پورٹ تھا جس میں سامان کیلئے لگیج بیلٹ یا کیروسل کا انتظام نہیں تھا۔ ایک ٹرالی میں لائونج کے سامنے سامان لایا گیا اور مسافروں نے اپنا اپنا سامان اٹھا لیا۔ باہر نکلے تو ہوٹل کی گاڑی اور دو نوجوان منتظر تھے۔ اب ہمیں ان کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر انانی بیچ پر ہوٹل جانا تھا۔ جلد ہی ہم کاکس بازار شہر میں داخل ہو گئے۔ یہ روشنیوں سے چھلکتا ایک پُررونق‘ پُرہجوم علاقہ تھا جہاں دائیں بائیں طعام گاہیں‘ جنرل سٹورز اور کیفے وغیرہ تھے۔ نظر آ رہا تھا کہ یہ سیاحوں کا علاقہ ہے۔ ذرا سا اور آگے نکلے تو بائیں طرف خلیج بنگال کے پانیوں کی پہلی جھلک نظر آئی جس میں کنارے کی رنگا رنگ عمارتوں کی روشنیاں تیر رہی تھیں۔ یہ کاکس بازار کی کلا تولی بیچ تھی۔
ذرا ٹھہریے یہاں! پہلے کاکس بازار کے بارے میں جان لیجیے کہ یہ ہے کیا۔ بازارکے لفظ کو نظر انداز کر دیجیے۔ بنگلہ دیش کا نقشہ دیکھیں تو آپ کو نیچے جنوب کی طرف خلیج بنگال کے دہانے پر کٹی پھٹی زمین نظر آئے گی۔ یہیں دائیں سمت چٹاگانگ سے نیچے ایک لمبی سی زمینی پٹی ہے جیسے کسی نے زمین کا دامن تار تار کر دیا ہو اور ایک ایک لمبی پٹی لٹکتی رہ گئی ہو۔ یہ پٹی خلیج بنگال کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور 120 کلومیٹر لمبی دنیا کی طویل ترین ریتیلی ساحل ہے۔ کسی رکاوٹ کے بغیر اتنا لمبا بیچ دنیا میں کہیں اور نہیں۔ ایک تو سیاحوں کی توجہ اس بیچ کی وجہ سے ہے‘ پھر یہ ساحل تیراکی کیلئے بے خوف علاقہ ہے‘ اس لیے کہ ان پانیوں میں شارک نہیں ہوتی۔ اس لیے بھی بہتر سمجھا جاتا ہے کہ یہاں موسم قدرے خوشگوار رہتا ہے۔ (مجھے جنوری میں بھی موسم خاص خوشگوار نہیں لگا؛ البتہ شام اور رات اچھی تھیں) یہاں دھند وغیرہ نہیں ہوتی۔ پورے کاکس بازار میں غروب ِآفتاب مشہور ہے۔ کوئی شک نہیں کہ یہاں عصر سے لیکر غروب تک سورج مبہوت کن مناظر پیش کرتا ہے۔ چنانچہ ملکی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ اس لمبے ساحل کے مختلف علاقوں کے مختلف نام ہیں۔ ایئر پورٹ شہر کے بالکل قریب کالا تولی بیچ ہے۔ انانی بیچ قریب ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر۔ اسی طرح اور آگے لابونی‘ رانی بیچ وغیرہ۔ ہر جگہ صرف ریتیلا ساحل نہیں بلکہ کئی جگہ بڑے پتھر اور چٹانیں وغیرہ بھی ہیں۔ ساحل کے دوسری طرف چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور میدان بھی۔ عام طور پر پہاڑیاں سرسبز ہیں۔
آپ اس لمبی زمینی پٹی پر چلتے جائیں تو آگے چل کر تکناف (Teknaf) کے قریب دریائے ناف پر برما (میانمار) کی سرحد آ جاتی ہے۔ یہاں میانمار کا راکھائن صوبہ ہے جسے ہم اردو میں اراکان کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں۔ کئی صدیوں سے برما میں نسلی جنگیں جاری ہیں۔ کاکس بازار تو حالیہ نام ہے‘ انگریز ادوار میں یہ علاقہ پانووا یعنی سنہرا پھول یا پالنکا کہلاتا تھا (یہ نام کاکس بازار سے زیادہ خوبصورت ہے)۔ 1760ء کے لگ بھگ یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کا افسر ہرام کاکس (Hiram cox) تعینات تھا۔ اس زمانے میں بھی برما سے پناہ گزین اس علاقے میں آئے تو ان کی رہائش وغیرہ کے انتظام کاکس کے سپرد ہوئے۔ کاکس نے یہاں ایک بازار بنایا اور آہستہ آہستہ یہ علاقہ کاکس بازار کہلانے لگا اور اب تک یہی نام چلا آتا ہے۔اراکان میں آج کل بھی حکومت اور باغیوں کے مابین سخت جنگ جاری ہے اور اس کے اثرات گولہ باری‘ باردوی سرنگوں اور روہنگیا مہاجرین کی صورت میں بنگلہ دیش پر بھی پڑتے ہیں۔ روہنگیا مہاجرین اور میانمار کی خانہ جنگی اس علاقے کا سنگین مسئلہ ہے۔
ہمارا سارا دن سفر میں گزر چکا تھا اور وہ بھی ٹریفک جام کے بیچ‘ اس لیے خواہش تھی کہ جلد ہوٹل پہنچ جائیں لیکن پہلی خبر یہ ملی کہ سڑک بہت خراب ہے اس لیے 35 کلومیٹر دور پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ جائے گا۔ سڑک واقعی بہت خراب تھی اور یہ وقت ہچکولے کھاتے دائیں بائیں ساحل اور آبادیوں کو دیکھتے گزرا۔ ہوٹل پہنچے تو جیسے تھکن ہوا ہو گئی۔ یہ ہوٹل بالکل ساحل پر تھا اور حسین منظر اور آرام دہ سہولتوں کیلئے مشہور بھی۔ عمارت کی بالائی منزل کی بالکنی سے تاروں بھرے آسمان اور زمین کی رنگا رنگ روشنیوں کا نظارہ سحر انگیز تھا اور پلک جھپکنے کی فرصت بھی ضیاع لگتی تھی۔ سمندر بالکل سامنے اور بہت قریب تھا لیکن رات کی تاریکی نے گہرا پردہ ڈال رکھا تھا۔ صرف لہروں کا شور کانوں تک پہنچتا تھا۔ خیال تھا کہ اس وقت ایک لمبے آرام اور گہری نیند کے سوا کسی چیز کی طلب نہیں لیکن ذرا سی دیر کے بعد معدے نے انگڑائی لی اور کہا کہ حضور! حق صرف آنکھوں ہی کا نہیں ہوتا‘ نیند آنکھوں تک پہنچتی ہے تو شکم کے راستے ہی سفر کرتی ہے۔ دل نے معدے کی تائید کر دی۔ اچھا جناب ثروت حسین! آپ نے یہ شعر کسی حوالے سے بھی کہا ہو معدہ اس وقت اسے اپنے لیے استعمال کر رہا ہے:
بجھی روح کی پیاس لیکن سخی!
مرے ساتھ میرا بدن بھی تو ہے
ہم نیچے اترے اور ہوٹل سے نکل کر سڑک پار سمندر کے قریب اس طرف چلے جہاں سے ہلکی موسیقی کی آوازیں اٹھتی تھیں اور دھوئیں کے مرغولے لذیذ کھانوں کی خوشبو لے کر ہوا پر سفر کرتے تھے۔ یہ اسی ہوٹل کی طعام گاہ تھی جہاں شکم سیری سمندر کنارے ایک میز پر بیٹھی ہمارا انتظار کرتی تھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved