تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     17-03-2026

عادتیں آسانی سے نہیں جاتیں

رمضان المبارک کے طفیل سفر سے رخصت طلب کی اور ملتان میں اس ماہِ مبارک کو گزارنے کا ارادہ کیا۔ شہر میں چند روز گزارے تو محسوس ہوا کہ شہر میں اس دوران کافی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اور ان تبدیلیوں میں سب سے اہم جو تبدیلی دکھائی دی وہ ہر طرف دندناتے لفٹروں میں کمی تھی۔ نہ صرف یہ کہ کمی تھی بلکہ وہ ان دنوں شکروں کی طرح منٹ آدھ منٹ کے لیے رکنے والی گاڑیوں پر جھپٹ بھی نہیں رہے تھے۔ دل کو یہ تبدیلی دیکھ کر جو خوشی محسوس ہوئی وہ تو اپنی جگہ پر تھی‘ حیرانی یہ ہوئی کہ یہ کایا کلپ کیسے ہوئی؟ یہ عاجز اس سلسلے میں کئی بار لکھ بھی چکا تھا اور اس بارے میں ایک بہت بڑے اور زوردار سرکاری افسر کو دو تین بار یاددہانی بھی کروا چکا تھا مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ میں پتھر سے سر پھوڑ رہا ہوں۔ وہ افسر میری ساری گفتگو سننے کے بعد اول تو بات ادھر اُدھر کر دیتا تھا یا پھر اس سلسلے میں نہایت بودی قسم کی دلیلیں دے کر مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ بات اس کے بس سے باہر ہے اور وہ اپنی عزت بچانے کے لیے اس کام میں ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہے۔ میں نے اسے کہنا تو بند کر دیا مگر لکھنا بند نہ کیا۔ ظاہر ہے میں اپنی پیشہ ورانہ اور شہری ذمہ داری سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہ تھا۔
ملتان شہر میں سرکاری طور پر چار لفٹر تھے۔ یہ شروع شروع میں وی آئی پی موومنٹ کے دوران راستے میں کھڑی ہوئی گاڑیوں کو اٹھا کر راستہ صاف کرنے کی غرض سے ملتان بھجوائے گئے تھے اور عرصے تک اسی کام میں مصروف رہے۔ پھر کسی پولیس افسر کو خیال آیا کہ ان لفٹروں سے غلط طور پر پارک گاڑیاں اٹھا کر جرمانہ وصول کیا جائے۔ اسی دوران ہائیکورٹ نے غلط پارکنگ پر دو ہزار روپے جرمانے کا کوئی حکم دے دیا۔ باقی ہر سلسلے میں قانون کو پرِکاہ کی اہمیت نہ دینے اور ایسے عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑانے کے عادی افسران نے ہائیکورٹ کے اس حکم کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کی آڑ میں چالانوں کی باقاعدہ مہم شروع کرتے ہوئے ان لفٹروں کو روزانہ کا ٹارگٹ دے دیا۔ دکانداری میں تیزی دیکھ کر ایک بڑے افسر کے دل میں لفٹر بڑھانے کا خیال آ گیا لیکن صرف خیال سے کیا ہوتا ہے؟ اور چار لفٹر بھلا کتنی گاڑیاں اٹھاتے اور کتنے چالان کرتے‘ تب ان کے ذہنِ رسا میں پرائیویٹ لفٹروں کا بندوبست کر کے گاڑیاں اٹھوانے اور جرمانے وصول کرنے کا نادر خیال آیا۔ اس سلسلے میں تین عدد پرائیویٹ لفٹر کرائے پر لیے اور جرمانے وصول کرنے کی ڈیوٹی پر لگا دیے گئے۔
ملتان میں ٹریفک چالان کی معمولی رقم بھی بذریعہ ایپ ڈائریکٹ پنجاب پولیس کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے جبکہ لفٹروں سے پیدا ہونے والی آمدنی‘ میرا مطلب ہے جرمانہ نقد وصول کیا جاتا۔ شہر میں کل نو عدد لفٹر تھے اور پرائیویٹ لفٹروں کی تعداد سرکاری لفٹروں سے زیادہ ہو گئی۔ ایسی صورتحال کے لیے ایک مقامی کہاوت بہت ہی برمحل اور موقع کی مناسبت سے شاندار ہے مگر دل چاہنے کے باوجود لکھنے سے عاری ہوں کہ اخبار اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔جب میں نے اس سلسلے میں مسلسل دوسرا کالم لکھا تو پانچ عدد پرائیویٹ لفٹروں میں سے دو عدد لفٹروں کو واپس بلا لیا گیا تاہم باقیوں نے اپنی کمائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ اللہ جانے ان کے سرپرستوں کے پاس کوئی گیدڑ سنگھی تھی کہ موصوف تبادلوں کے ہر طوفان میں اپنی کشتی بچانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ اس دوران پنجاب بھر میں کم از کم تین بار تبادلوں کا سیلاب آیا مگر یہ صاحب ہر سیلاب میں محفوظ رہے اور ملتان کی تاریخ میں سب سے لمبے عرصے تک اپنے عہدے پر براجمان رہنے کا ریکارڈ بنا ڈالا۔خدا جانے اب کیا آفت آن پڑی کہ موصوف کا تبادلہ ہو گیا۔ خیر تبادلہ تو نوکری کا لازمہ ہے اور کبھی نہ کبھی تو اس سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ موصوف کی رخصتی کے بعد آنے والے ان کے جانشین کو علم ہوا کہ پرائیویٹ لفٹر روزانہ کی دیہاڑی لگا رہے ہیں اور پچھلے صاحب کے تبادلے کے بعد یہ سرکاری سرپرستی سے محروم ہو گئے ہیں‘ تاہم بے نامی کے اس مشکل وقت میں بھی پیداگری کر رہے ہیں۔ کسی افسر نے ہمت کرکے نئے آنے والے افسر کو بتایا کہ جو تین عدد پرائیویٹ لفٹر چل رہے ہیں ان کی پیدا کردہ خون پسینے کی کمائی کا کیا کیا جائے؟ انہوں نے حیرانی سے پوچھا کہ یہ کس لیے چل رہے ہیں اور ان کا ان سے کیا تعلق ہو سکتا ہے‘ یہ تو سراسر ٹریفک پولیس کے دائرہ کار میں آتا ہے اور شہر میں سٹی ٹریفک آفیسر تعینات ہے۔ نئے افسر نے حکم دیا کہ پرائیویٹ لفٹر فوری طور پر بند کیے جائیں۔ راوی اس روز کے بعد چین لکھتا ہے۔ اب شہر میں کل چار لفٹر باقی بچے ہیں اور یہ چار بھی گاڑیوں پر شکرے بن کر نہیں لپک رہے۔ معلوم نہیں ابھی ان چار لفٹروں کا ٹارگٹ پچاس چالان یومیہ فی لفٹر ہے یا یہ ٹارگٹ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں اکٹھی کی گئی رقم کا حساب کون لے گا اور کون دے گا؟ یہ رقم کہاں گئی اور کس مد میں غتربود کی گئی؟ میں نے اپنے ایک دوست وکیل کو اس سلسلے میں رائٹ آف انفارمیشن کے قانون کے تحت اس مد میں وصول کی جانے والی رقم کی تفصیل جاننے کے لیے درخواست دینے کا اہتمام کیا ہے۔ ملتان کے شعبہ ٹریفک پولیس میں ایک اور کھانچہ یہ لگ رہا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے اور پرانے کی تجدید پر میڈیکل ٹیسٹ کے نام پر ساڑھے پانچ سو روپے وصول کیے جا رہے ہیں‘ جو اور کسی شہر میں نہیں لیے جا رہے۔
اس ملک میں بیورو کریسی پیسے کمانے کے ایسے ایسے طریقے ایجاد کرتی ہے کہ بندے کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہماری بیورو کریسی جتنی ہوشیاری اپنی جیب بھرنے کے لیے دکھاتی ہے اگر اس کا دس فیصد بھی ملک کے لیے ٹیکس اور دیگر محاصل اکٹھے کرنے میں صرف کرے تو یقین کریں ہمارا خزانہ بغیر کشکول پھیلائے اور منت ترلے کر کے قرضے لیے بغیر ہی بھر جائے مگر یہ شرط ہے بڑی سخت۔ اس کے لیے اپنی جیب کی قربانی دینی پڑے گی۔ مجھے فکر یہ ہے کہ ملتان سے ٹرانسفر ہونے والے افسر کی فنکاریوں سے اب کس شہر والے مستفید ہوں گے۔ ظاہر ہے جس بندے کو چھوٹی سی فنکاری کے عوض ماہانہ لاکھوں مل رہے ہوں وہ کچھ نہ کچھ تو کرے گا۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ عادتیں سروں کے ساتھ جاتی ہیں ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved