تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     17-03-2026

سٹرٹیجک مِس کیلکولیشن

بین الاقوامی تعلقات اور عسکری میدان میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن ان کا خاتمہ ہمیشہ زمینی حقائق کے تابع ہوتا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ اس تلخ حقیقت کا استعارہ ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے دفاعی تھنک ٹینکس نے جس سٹرٹیجک مِس کیلکولیشن کا مظاہرہ کیااس کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ ایران میں رجیم چینج کیلئے راہ ہموار ہو جائے گی اور ان کا جوہری پروگرام کئی دہائیاں پیچھے چلا جائے گا۔ تاہم سولہ روزہ جنگ کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے ان تمام اندازوں کو ریت کی دیوار ثابت کیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی ریاست کو اندرونی طور پر بکھیرنے کے بجائے غیرمعمولی قومی عصبیت اور مذہبی قوم پرستی میں تبدیل کر دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی انقلابی ریاست کی قیادت پر براہِ راست حملہ ہوتا ہے تو عوامی ردِعمل نظریاتی سرحدوں کو عبور کر کے ایک آہنی دیوار بن جاتا ہے۔ آج ایران پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہے اور تہران کا دفاعی عزم اب محض بقا کی جنگ نہیں رہا بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔
جنگ سے قبل ایران نے بارہا یہ انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر اس کے خلاف جارحیت کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کیلئے بند کر دے گا۔ دنیا نے اسے سنجیدہ نہ لیا اب جبکہ آفت سر پر آن پڑی ہے تو مشکلات کا ادراک ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں عالمی معیشت کی شہ رگ ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا تقریباً 20سے 30فیصد خام تیل اور ایل این جی گزرتی ہے۔ تہران نے اپنی روایتی دفاعی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے اس چوک پوائنٹ کو ایک سٹرٹیجک لیور کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ماضی میں امریکی بحری بیڑے کا اس علاقے میں گشت امریکی بالادستی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن پاسدارانِ انقلاب نے ثابت کر دیا ہے کہ غیرروایتی بحری جنگ کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت کو بھی مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ اس ناکا بندی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ مغرب کے صنعتی ڈھانچے پر براہ راست ضرب ہے۔ جب سپلائی چین متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر لندن سے ٹوکیو تک محسوس کیا جاتا ہے۔ واشنگٹن جو کبھی ان سمندروں کا بلا شرکت غیرے مالک تھا آج اس گزرگاہ کو کھلوانے کیلئے سفارتی تعاون کیلئے مجبور نظر آتا ہے۔ اس بحران نے مغربی اتحاد بالخصوص نیٹو کے اندر گہری دراڑوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ فرانس‘ جرمنی اور برطانیہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے اپنے بحری بیڑے بھیج رہے ہیں‘ ایک ایسی سفارتی سبکی میں بدل گیا جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ فرانس کی جانب سے فوری تردید اور یہ وضاحت کہ پیرس اس مسئلے کے صرف سفارتی حل کا حامی ہے‘ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یورپی طاقتیں اب امریکہ کی یکطرفہ مہم جوئی کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ نیٹو کے مستقبل کو خطے میں تعاون سے جوڑنے کی امریکی دھمکی دراصل واشنگٹن کی سفارتی ناکامی کا اعتراف ہے۔ یورپ کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ کا مطلب براعظم یورپ کیلئے توانائی کا شدید بحران اور معاشی تباہی ہے۔ واشنگٹن کے برعکس پیرس اور برلن اب تہران کو علاقائی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ یورپی ممالک کی بدلتی ترجیحات امریکی عالمی بالادستی کیلئے خطرے کا باعث ہو سکتی ہیں۔
اس کے برعکس ایران نے اپنی حکمت عملی میں جس لچک کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی سیاست کے طالب علموں کیلئے حیران کن ہے۔ تہران نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سوا پوری دنیا کیلئے کھلی ہے۔ ترکیہ کے بحری جہاز کو گزرنے کی اجازت دے کر ایران نے یہ ثابت کیا کہ وہ تجارت کا دشمن نہیں بلکہ صرف امریکی تسلط کو چیلنج کر رہا ہے۔ اس اقدام نے چین‘ روس‘ ترکیہ اور کئی ایشیائی ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر وہ واشنگٹن کے کیمپ سے الگ رہیں تو ان کے معاشی مفادات محفوظ ہیں۔ اس پالیسی نے امریکہ کے ان اتحادیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے جو اپنی بقا کیلئے خلیجی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک جو روایتی طور پر امریکی چھتری تلے رہتے ہیں اب تہران کے ساتھ بیک چینل رابطے کر رہے ہیں تاکہ ان کی سپلائی لائنز متاثر نہ ہوں۔ یہ امریکہ کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کا توڑ واشنگٹن کے پاس نہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ خیال کہ وہ بیجنگ کو اسی طرح دباؤ میں لا سکتے ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں نئی دہلی کے ساتھ کیا‘ ان کی ایک بڑی سٹرٹیجک غلطی ہے۔ چین اس وقت عالمی معیشت کا وہ ستون ہے جس پر خود امریکہ کا انحصار ہے۔ چین اور ایران کے درمیان 25 سالہ تزویراتی معاہدہ اس وقت عملاً فعال ہے۔ بیجنگ کو ایران سے تیل کے حصول میں کوئی دشواری نہیں کیونکہ تہران نے چینی جہازوں کیلئے راستہ پہلے ہی کھلا رکھا ہے۔ ٹرمپ کا چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ متوقع ملاقات کو مؤخر کرنا یا اسے بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کرنا بیجنگ کے سامنے بے اثر ہے۔ چین کو معلوم ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں جتنا زیادہ الجھے گا اتنا ہی چین کو ایشیا پیسفک اور عالمی معیشت میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ انڈیا فارمولا یہاں اس لیے ناکام ہے کیونکہ چین کی جیو پولیٹکل حیثیت کلائنٹ سٹیٹ کی نہیں بلکہ ایک متبادل عالمی طاقت کی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف کہ امریکہ کا انحصار اس خطے کے تیل پر نسبتاً کم ہے‘ نہایت بودی دلیل ہے۔ اگرچہ امریکہ اپنی خام مال کی خود سے ضروریات پوری کر لیتا ہے لیکن عالمی اقتصادی نظام ایک جال کی مانند ہے۔ جب یورپ اور ایشیا کی معیشتیں تیل کی عدم دستیابی کے باعث سکڑیں گی تو اس کا براہِ راست اثر امریکی ڈالر کی قدر‘ بین الاقوامی تجارت اور وال سٹریٹ پر پڑے گا۔ اسی طرح عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی عوام کیلئے بھی مہنگائی کا طوفان لائے گا‘ جو کسی بھی امریکی صدر کیلئے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ لگتا ہے ایران نے اس حقیقت کو بھانپ لیا ہے کہ امریکہ کی اصل کمزوری اس کی اپنی معیشت اور اتحادیوں کا اعتماد ہے۔ تہران نے جنگ کو عسکری بیرکوں سے نکال کر مارکیٹ کے اعصاب پر مسلط کر دیا ہے۔
جنگیں ہمیشہ اپنے ساتھ غیرمتوقع نتائج لاتی ہیں۔ ایران اسرائیل تصادم جس قدر طویل ہو گا اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے‘ بحیرۂ عرب سے لے کر بحیرۂ روم تک کا پورا علاقہ ایک نئی قسم کی ہائبرڈ وار کی زد میں آ سکتا ہے۔ وہ ممالک جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں ہیں‘ وہ بھی مہاجرین کے دباؤ‘ تجارتی خسارے اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کریں گے۔ واشنگٹن اب اس مقام پر ہے جہاں اسے دو میں سے ایک مشکل راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔ یا تو وہ ایک بڑی عالمی جنگ کے خطرے کو مول لے کر براہِ راست تہران پر حملہ کرے جس کے نتائج ایٹمی تصادم تک جا سکتے ہیں یا پھر وہ تہران کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے نئے معاشی اور جغرافیائی حقائق کوماننے پر مجبور ہو جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved