حضرت یوسف علیہ السلام قید ہی میں تھے کہ اس دوران شاہِ مصر کو ایک پریشان کن خواب نظر آیا۔ کسی سے بھی خواب کی تعبیر نہ بن پڑی۔ بادشاہ نے خواب میں سات گائیں موٹی تازی اور سات گائیں نحیف ونزار دیکھیں۔ دبلی گائیں موٹی گائیوں کو کھا رہی تھیں۔ خواب ہی میں بادشاہ نے اناج کی سات بالیں دیکھیں جو ہری تھیں اور دوسری سات دیکھیں جو سوکھی تھیں۔ جب کسی کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئی تو اس قیدی کو‘ جو رہا ہوکر آیا تھا‘ خیال آیا کہ جیل میں یوسف علیہ السلام سے اس خواب کی تعبیر معلوم کی جائے۔ جب جیل جا کر ان کے سامنے خواب بیان کیا گیا تو نہ صرف انہوں نے تعبیر بیان فرما دی بلکہ آنے والے خطرات کی پیش بندی کا پورا منصوبہ بھی بیان فرما دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ سات سال خوب بارش ہو گی‘ خوب پیداوار ہو گی‘ پھر سات سال خشک سالی کا سامنا ہو گا۔ ہر جانب قحط پڑ جائے گا اور خاک اُڑنے لگے گی۔ خوش حالی کے سات سالوں میں ضرورت کے مطابق غلہ اُگا لینے کے بعد باقی اسی طرح بالیوں میں محفوظ کر لیا جائے اور اگلے سالوں میں محتاط منصوبہ بندی کے تحت اس سے کام چلایا جائے۔ وہ سات سال جب گزر جائیں گے تو آٹھویں سال خوب بارشیں ہوں گی اور پہلے کی طرح کھیت کھلیان غلے سے بھر جائیں گے۔ خواب کی تعبیر سن کر بادشاہ کی باچھیں کھل گئیں۔ بادشاہ نے کہا کہ اس قیدی کو جیل سے رہا کرو اور میرے دربار میں لائو‘ وہ بڑ ا قابلِ قدر انسان ہے۔
سرکاری ہرکارے جب جیل پہنچے تو یوسف علیہ السلام جو جرمِ بے گناہی میں پابند سلاسل تھے‘ اپنی استقامت پر قائم تھے۔ جیل سے باہر نکلنے کے لیے کسی قسم کی بے تابی کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ پہلے میرے اوپر لگنے والے الزام کی حقیقت منقح ہو جائے پھر اگلی بات ہو گی۔ میں اس وقت تک جیل سے باہر نہیں نکل سکتا جب تک اس کیس کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ بادشاہ نے کیس کی تفصیلات معلوم کیں اور متعلقہ خواتین کو بلایا۔ تمام خواتین نے قسمیں کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے یوسف علیہ السلام میں کوئی برائی نہیں دیکھی تھی۔ عزیزِ مصر کی بیوی بھی اس وقت پکار اٹھی: ''اب حق کھل چکا ہے‘ وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھُسلانے کی کوشش کی تھی۔ بے شک وہ بالکل سچا ہے‘‘۔
ان گواہیوں کے بعد بھی یوسف علیہ السلام کے رویے میں کوئی رعونت پیدا نہیں ہوئی۔ وہی عجزو انکسار جو عظیم لوگوں کا طرہِ امتیاز ہوتا ہے‘ ان کی زبان پر ان الفاظ میں جاری ہو گیا: ''میں اپنے نفس کی برأت نہیں کر رہا ہوں‘ نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے اِلّا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو‘ بیشک میرا رب بڑا غفور ورحیم ہے‘‘ (سورہ یوسف: 53)۔
اب نیا دور شروع ہوتا ہے۔ بادشاہ نے انہیں عزت کے ساتھ جیل سے نکالا اور اپنے دربار میں ان کا استقبال کیا۔ یوسف علیہ السلام کو ملک کے خزانے سپرد کر دیے گئے۔ تمام بندوبست انہی کے ہاتھ میں تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد ملک کا اقتدارِ اعلیٰ مکمل طور پر ان کے سپرد ہو گیا۔ اسی دور میں جب قحط سالی نے پورے خطے کو اپنی گرفت میں لے لیا اور مصر کے سوا کہیں سے غلہ نہ مل سکتا تھا تو یوسف علیہ السلام کے بھائی مصر غلہ لینے آئے۔ وہ دس بھائی جب اپنے اپنے حصے کا راشن وصول کر چکے تو کہا کہ ہمارا ایک بھائی گھر میں ہے اور بوڑھا باپ بھی وطن میں ہے‘ ان کا حصہ بھی دے دیجیے۔ یوسف علیہ السلام نے کہا کہ والد کا عذر تو معقول ہے لیکن بھائی کا غلہ اس مرتبہ تو دیتے ہیں‘ آئندہ اگر وہ خود حاضر نہیں ہوگا تو حصہ نہیں دیا جائے گا۔ یہ لوگ واپس پلٹے۔ یوسف علیہ السلام نے ان کی طرف سے اداکی گئی رقم واپس انہی کی بوریوں میں ڈلوا دی تھی۔ اگلی مرتبہ وہ یعقوب علیہ السلام کو یقین دہانیاں کرا کے کہ بنیامین کو ضرور واپس لائیں گے اور یوسف والا واقعہ رونما نہیں ہو گا‘ بنیامین کو بھی اپنے ساتھ مصر لے گئے۔
یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کی آمد پر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے بنیامین کو اپنے پاس بلایا اور اسے بتا دیا کہ میں تیرا وہی بھائی ہوں (جوکھو گیا تھا)‘ اب تو ان باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔ (یوسف: 69) حضرت یوسف علیہ السلام اور بنیامین دونوں نے اس امر کو بھائیوں سے مخفی رکھا۔ سورہ یوسف‘ آیت 76 کے مطابق اللہ نے یوسف علیہ السلام کو ایک تدبیر سجھائی۔ انہوں نے غلہ کی بوریوں میں غلہ ڈالتے ہوئے اپنے کارندوں کے ذریعے شاہی پیمانہ بنیامین کی بوری میں ڈلوا دیا۔ جب قافلہ روانہ ہو گیا تو کچھ فاصلے پر پہنچنے کے بعد شاہی ہرکاروں نے اسے روکا اور کہا کہ تم چوری کرکے لے آئے ہو۔ ابنائے یعقوب نے قسمیں کھائیں کہ ہم چور ی کرنے اور فساد پھیلانے والے لو گ نہیں ہیں۔ پھر پوچھا تمہاری کیاچیز گم ہوئی ہے تو انہوں نے بتایاکہ شاہی پیمانہ گم ہوا ہے۔ جب سامان کی تلاشی لی گئی تو پیمانہ بنیامین کے سامان سے نکل آیا۔
بردارانِ یوسف نے آئو دیکھا نہ تائو فوراً پکار اُٹھے یہ چوری کرے توکچھ تعجب کی بات بھی نہیں اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کر چکا ہے۔ (آیت: 77) ظاہرہے کہ یہ دونوں الزام جھوٹے تھے۔ بنیامین کی بوری میں پیمانہ اللہ کے طے شدہ حکم کے مطابق ہی رکھا گیا تھا۔ یوسف علیہ السلام نے بھی یہ بات سنی تو کمال تحمل وبردباری سے اسے پی گئے مگر دل میں فرمایا: بڑے ہی برے ہو تم لوگ جو الزم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے۔ برادرانِ یوسف نے تلاشی سے پہلے کہا تھاکہ جس کے مال سے مسروقہ مال برآمد ہو‘ اسے پکڑ کر غلام بنا لیا جائے یہی ہمارا قانون کہتا ہے۔ اب انہیں یاد آیا کہ والد سے بنیامین کو لانے کا پختہ عہد بھی کر چکے ہیں اور یہ مشکل صور تحال بھی پیش آ گئی ہے تو عزیز مصر سے کہنے لگے کہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لو‘ اس کا بوڑھا باپ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکے گا اسے چھوڑ دو۔ یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم تو اسی کو پکڑیں گے جس سے ہمارا مال برآمد ہواہے۔ اب برادرانِ یوسف کے لیے بڑی مشکل پیش آ گئی۔ بڑے بھائی نے کہا کہ میں تو بنیامین کی آزادی تک گھر نہیں آئوں گا‘ آخر باپ کو کیا منہ دکھائوں گا۔ اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں بھی تم زیادتی کر چکے ہو۔
جب ابنائے یعقوب واپس گھر پہنچے اور واقعہ بیان کیا تو یعقوب علیہ السلام نے فوراً فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ میرے بیٹے نے چوری کی ہو۔ یہ دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا ہے۔ اچھا میں اس پر بھی صبر جمیل کا مظاہرہ کروں گا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اس موقع پر یوسف علیہ السلام کی جدائی کا صدمہ پھر تازہ ہوا اور یعقوب علیہ السلام کی زبان سے نکلا: ''ہائے یوسف!‘‘ غم نے اُن کو بہت خستہ حال کر دیا اور ان کی بینائی بھی رو رو کر ضائع ہو گئی۔ (آیت: 84) اس کے باوجود انہوں نے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ بعید نہیں کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے۔ ان کے اہل وعیال نے اسے خام خیالی قرار دیا۔ اس موقع پر یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: ''میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو‘‘۔ (آیت: 86) پھر فرمایا: ''میرے بچو جاکر یوسف اور اس کے بھائی کی کوئی ٹوہ لگائو۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘ اس سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں‘‘۔
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved