تیسرے ہفتے میں یہ جنگ پہنچ چکی ہے اور امریکہ کا غرور ایرانی قوم نے خاک میں ملا دیا ہے۔ اسرائیل کا بھی۔ کیا گھمنڈ تھا ان کا کہ تین چار روز میں ایرانی قوم گھٹنوں پر آ جائے گی۔ ہوا اُلٹ ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کہیں کیا اور آگے کا راستہ کیا ہے۔ بری طرح پھنس گئے ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہی ان کا علاج ہے جو ایرانی قوم ان کا کر رہی ہے۔ انگریزی کا لفظ ہے بفون (Buffoon) یعنی بونگا۔ کیا بونگا انسان امریکیوں نے اپنا صدر منتخب کیا ہے۔ پہلے بھی گفتگو اس کی لایعنی ہوا کرتی تھی لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے۔ اب نیٹو ممالک اور چین سے مدد مانگ رہا ہے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے۔ نیٹو ممالک کا مذاق اُڑاتا تھا‘ برطانوی وزیراعظم کا تمسخر اڑایا اور اب انہی سے کہہ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے کوئی مدد بھیجو۔ مزے کی بات یہ کہ کوئی ملک اس کی بات پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں۔ ایک بار پھر کہنے کی ضرورت ہے کہ امریکیوں اور اسرائیلیو ں کا صحیح علاج ہو رہا ہے۔
ایک بات اچھی ہوئی ہے کہ ایک پاکستانی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی‘ جو اس جنگ کی وجہ سے ایک عالمی شخصیت کے طور پر اُبھر رہے ہیں‘ نے پاکستانی حمایت کا ذکر کیا ہے اور تعریف بھی کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان ٹھیک کر رہا ہے۔ ہمارے سعودی عرب سے تعلقات قائم ہیں اور اگر ایران بھی یہی کہہ رہا ہے تو پھر حکومت کی شاباش بنتی ہے کہ عقل اور ہوش مندی سے کام لیا جا رہا ہے۔ اب یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے حکمران آنے والے وقت میں ٹرمپ کو مکھن لگانا بند کر دیں گے۔ پہلے جو مکھن لگایا اور خوب لگایا مصلحت پسند ی کے زمرے میں اُسے سمجھا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی خوشامد کے ناتے حکومت سے جو کرتب سرزد ہوئے وہ قوم کیلئے کوئی اعزاز نہیں تھا بلکہ جو پاکستانی بھی اُن مناظر کو دیکھتا تو شرمندگی کا احساس ہوتا۔ لیکن اب امید لگائی جا سکتی ہے کہ مکھن لگانے کا دور ختم ہوا اور حکمران بات بات پر واشنگٹن کی اُڑان نہیں بھریں گے۔
ٹرمپ نے ایک مہربانی پوری دنیا پر کی ہے کہ امریکہ کی وقعت دنیا کی نظروں میں ایسے گرائی ہے کہ اس ایڈمنسٹریشن کی باتیں اب زیادہ سنجیدگی سے کوئی نہیں لے گا۔ اور صرف ٹرمپ کی لایعنی باتیں نہیں‘ امریکی وزیر دفاع کو دیکھیں جو فاکس نیوز پر اینکر ہوا کرتا تھا‘ اُس کی گفتگو کا انداز ہی ایسا ہے کہ پرلے درجے کا جاہل لگتا ہے۔ مانا کہ ایران کی بڑی تباہی ہوئی ہے لیکن اس میں قصور ایران کا تو نہیں‘ ان کی طر ف سے ہر ممکن کوشش ہوئی کہ جنگ کی بلا ٹل جائے لیکن امریکہ اور اسرائیل ایسے غرور میں مبتلا تھے کہ مذاکرات جاری تھے اور ایران پر وحشیانہ حملہ کر دیا۔ ایرانی قوم کی ہمت ہے کہ رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور دیگر لیڈران اُس حملے میں مارے گئے لیکن قوم کے قدم ڈگمگائے نہیں‘ استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کچھ نقصان برداشت کرتے ہوئے جوابی حملے ایسے کیے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ ٹرمپ سے کسی رپورٹر نے پوچھا کہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران آس پاس کے ملکوں پر حملہ کر دے گا تو اس نے کہا کہ ہمارے جو بڑے ایکسپرٹ تھے ان کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایسے حملے ہو سکتے ہیں۔ یہ ہے عقل کا وہ معیار جس کو سامنے رکھ کر ان دونوں ممالک نے ایران پر حملہ کیا۔
اسرائیل کے قریب ترین گلف کے دو ممالک ہیں‘ بحرین اور یو اے ای اور اس جنگ میں سب سے زیادہ رگڑا ان دونوں کو لگ رہا ہے۔ ہمارے اماراتی دوستوں کا تو حشر ہو رہا ہے اور وہاں یہ کیفیت ہے کہ حملوں کے مناظر کی وڈیو لیں تو آپ کی پکڑ دھکڑ ہو سکتی ہے۔ ہمارے دوستوں کی بھی کیا سوچ تھی کہ امریکی اڈے بنا رکھیں گے اور ہماری حفاظت ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی۔ ایرانیوں نے حملے کیے ہیں امریکی تنصیبات پر اور حملوں کی وجہ سے ناقابلِ تسخیر حفاظت کے تمام مفروضے ہوا میں اڑ گئے ہیں۔ تیل ریفائنریاں بند ہو گئی ہیں‘ تیل کی پروڈکشن ختم کر دی گئی ہے۔ تیل سے لدے جہاز لنگر انداز ہیں اور آبنائے ہرمز کی طرف جانے کی ہمت نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ نے پہلے بڑھک لگائی تھی کہ امریکی بحری جہاز تیل بردار ٹینکروں کو تحفظ فراہم کریں گے۔ وہ بڑھک ہوا ہو گئی اور اب ٹرمپ منتوں ترلو ں پر آ گیا ہے کہ دیگر ممالک کے جہاز آئیں تاکہ آبنائے ہرمز سے راہگیری ممکن ہو سکے۔ اندازہ لگائیے‘ دنیا کی طاقتور ترین نیوی اور آبنائے ہرمز کی طرف اکیلے جانے سے ڈر رہی ہے۔ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایران کا پورا دفاعی نظام‘ بحری جہاز‘ میزائل لانچر تباہ کر دیے ہیں۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز کے نزدیک آنے سے کترانا۔ ایران کا سب کچھ تباہ کر دیا ہے تو جاؤ اپنے بحری جہاز بھیجو اور آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف اپنا قبضہ جما لو تاکہ دنیا کے پھنسے ہوئے آئل ٹینکر خلیج فارس سے نکل سکیں۔ ان دونوں ممالک کی عقل ٹھکانے آئی ہوئی ہے کہ اب پندرہ ہزار حملوں کا کہہ رہے ہیں لیکن آبنائے ہرمز سے ان کا اور دیگر امریکی حمایتی ملکوں کا ایک ٹینکر بھی گزر نہیں پا رہا۔ مزے کی مزید بات یہ کہ پاکستانی ٹینکر گزرا ہے‘ ہندوستان کے دو ٹینکر گزرے ہیں‘ ایرانی تیل کی ترسیل چین کیلئے آبنائے ہرمز سے گزر رہی ہے اور امریکہ کچھ نہیں کر پا رہا۔ سوائے وحشیانہ ہوائی بمباری کے جس سے کوئی سٹرٹیجک مقصد حاصل نہیں ہو رہا۔
اتنی تباہ کاری جب آپ نے کر دی ہے تو کوئی مقصد تو سامنے ہونا چاہیے‘ ایسا مقصد جو آپ بیان کر سکیں۔ لیکن جیسا ہم دیکھ رہے ہیں پوری امریکی انتظامیہ کنفیوز ہے۔ جو منہ کھولنے کیلئے آتا ہے جنگ کا ایک مختلف عذر بیان کر رہا ہوتا ہے۔ پہلے کہہ رہے تھے رجیم چینج ہو گا‘ یعنی ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایران کا اسلامی نظام نیست و نابود ہو جائے گا۔ کبھی بات ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی ہوتی ہے اور اب کہہ رہے ہیں کہ ایران کی دفاعی صلاحیت تباہ کر رہے ہیں۔ صلاحیت تباہ کر رہے ہیں یا کر دی ہے تو خلیج میں پھنسے ٹینکروں کو تو باہر نکالو‘ لیکن وہ نہیں ہو رہا۔ بڑھکیں ماری جا رہی ہیں اور خدا معاف کرے حکومتیں جھوٹ تو بولتی ہیں لیکن تواتر کے ساتھ جتنا جھوٹ یہ امریکی صدر بولتا ہے اس کی کوئی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ جھوٹا تھا لیکن دنیا کے طاقتور ترین ملک کا صدر تھا۔ کبھی کہہ رہا ہے گرین لینڈ پر امریکہ کا قبضہ ہونا چاہیے‘ کینیڈا کو امریکہ کی ایک ریاست بن جانا چاہیے۔ مختلف ممالک کے لیڈروں کی بے عزتی کر رہا ہے اور وہ آگے سے چپ اسے مکھن لگا رہے ہیں کہ کہیں ناراض نہ ہو جائے۔ ہمارے لیڈروں نے بھی یہی کیا‘ بے جا کی مکھن نوازی دکھائی۔ اور پھر جس طرح کا وینزویلا پر حملہ کیا اور وینز ویلا کے صدر کو اس کی رہائش گاہ اس کے بیڈ روم سے اٹھا کر امریکی سپیشل فورسز لے آئیں تو دنیا میں یہی تاثر پھیلا کہ امریکہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کی قسمت ہاری جب بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ نتھی ہو کر بغیر وجہ کے ایران پر حملہ کر ڈالا۔ اور وہیں سے اس کی قسمت خاک میں ملنے لگی۔ اور ہاں‘ نیتن یاہو کہاں ہے؟ دورانِ جنگ صرف دو وڈیوز اور وہ فیک لگتی ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved