تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     18-03-2026

جی آئی کے انسٹیٹیوٹ: ایک یاد

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وقت کا دریا بھی کیسا دریا ہے‘ ہر دم اپنی گزرگاہیں بدلتا رہتا ہے اور ایک بار جہاں سے گزرتا ہے اپنے پیچھے یادوں کے ہیرے موتی چھوڑ جاتا ہے۔ یہ اُن روشن دنوں کی بات ہے جو اَب زندگی کی دھند میں یوں کھو گئے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں‘ البتہ کبھی کبھار یہ اچانک یادوں کی منڈیر پر آ بیٹھتے ہیں اور مجھے اُس دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں میں نے پہاڑوں اور فطرت کی آغوش میں زندگی کے چار سال گزارے تھے۔ یہ 2000ء کی بات ہے جب میں غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی سے بطور پروفیسر وابستہ ہوا۔ اب تو راولپنڈی سے ٹوپی صوابی تک کا سفر موٹروے کی وجہ سے مختصر اور آسان ہو گیا ہے لیکن اُن دنوں گاڑی پر شاید اڑھائی گھنٹے لگتے تھے۔ حسن ابدال سے آگے جائیں تو دائیں ہاتھ کپڑوں کی ایک معروف آؤٹ لیٹ ہے‘ اس سے آگے دائیں طرف سفر کرتے ہوئے ہم غازی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پہنچ جاتے۔ وہاں سے ایک سڑک ٹوپی کو جاتی تھی۔ راستے میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہیملٹ آتا تھا۔ بعد میں جب بھی میں آتے جاتے اس سڑک سے گزرتا تو مجھے ہیملٹ گاؤں دیکھ کر شیکسپیئر کا معروف ڈرامہ ہیملٹ یاد آ جاتا اور اس کے ساتھ ہی گورڈن کالج کے وہ دن جب سجاد شیخ صاحب ہیملٹ پڑھایا کرتے تھے۔ تنگ سی سڑک پر ڈرائیو کرتے ہوئے ہم ٹوپی پہنچ جاتے‘ جہاں سے دائیں طرف جی آئی کے انسٹیٹیوٹ کا نشان نظر آتا اور پھر ذرا آگے انسٹیٹیوٹ کی بیرونی دیوار شروع ہو جاتی۔ میں گیٹ سے اندر داخل ہوا تو یوں لگا کہ ہم ایک نئی دنیا میں آ گئے ہیں۔ خوبصورت طرزِ تعمیر کی سفید دودھیا عمارتیں‘ مین گیٹ کے قریب ایک بلندوبالا ٹاور اور سامنے ہال کی عمارت کے اوپر سفید رنگ کا خوبصورت گنبد۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے‘ وہ رمضان کا مہینہ تھا اور سردیوں کا موسم جب میں نے انسٹیٹیوٹ جوائن کیا۔ ابتدائی دنوں میں ہم گیسٹ ہاؤس میں رہے اور پھر فیکلٹی کالونی میں منتقل ہو گئے‘ جہاں ہمارے گھر کا نمبر 15-C تھا‘ جو کارنر پہ تھا اور اس کے ساتھ دو سڑکیں ملتی تھیں۔ جی آئی کے انسٹیٹیوٹ مختلف اطراف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس کا کل رقبہ 400 ایکڑ سے زیادہ تھا۔ یہ انسٹیٹیوٹ پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان کے ذہنِ رسا کا نتیجہ تھا۔ اس پروجیکٹ کا ذمہ معروف ایٹمی سائنسدان عبدالقدیر خان کو دیا گیا۔ عبدالقدیر خان نے سارے کیمپس کی تعمیر کی خود نگرانی کی تھی۔ سخت گرمیوں اور لو کے تھپیڑوں میں عبدالقدیر خان نے محنت اور محبت سے اس خواب کو تعبیر میں بدل ڈالا۔ اس کے دروبام پر عبدالقدیر خان کی چھاپ ہے لیکن پھر میں نے وہ منظر بھی دیکھا جب عبدالقدیر خان پر کڑا وقت آیا تو مختلف فیکلٹیز میں ان کی فریم شدہ تصاویر کو راتوں رات دیواروں سے ہٹا دیا گیا۔ قومی ہیرو ایک ہی رات میں نامطلوب شخص بن گیا۔
غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے قیام کا آرڈیننس مارچ 1993ء میں جاری ہوا اور بی ایس کے چار سالہ پروگرام میں پہلے بیچ کا داخلہ اکتوبر 1993ء میں ہوا۔ یہ ایک عالمی معیار کا انسٹیٹیوٹ تھا جس میں میٹلرجی‘ کمپیوٹر سائنسز‘ الیکٹریکل انجینئرنگ‘ میکینکل انجینئرنگ‘ ہیومینٹیز اور مینجمنٹ کے خوبصورت بلاک تعمیر کرائے گئے۔ فیکلٹی اور سٹاف کیلئے گھر تعمیر کیے گئے اور پہاڑ کی چوٹی پر فیکلٹی کلب کی خوبصورت عمارت بنائی گئی۔ پہاڑ پر بنے فیکلٹی کلب کی طرف جائیں تو راستے میں ایک سفید رنگ کی مقبرہ نما عمارت آتی ہے۔ کہتے ہیں یہ جگہ غلام اسحاق خان صاحب کی انسٹیٹیوٹ سے گہری وابستگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان کی قبر کیلئے مختص کی گئی تھی‘ لیکن انہوں نے اس شان و شوکت والے مقبرے کے بجائے اپنے گاؤں کے قبرستان میں دفن ہونا پسند کیا۔ میرے ہمراہیوں میں محبوب صاحب تھے جو علی گڑھ سے فارغ التحصیل اور باغ و بہار شخصیت تھے۔ ان کے علاوہ بھٹی صاحب تھے جن میں ایک بے قرار روح تھی۔ ان کی فیملی کراچی میں تھی لیکن انہوں نے مقامی طور پر بھی ایک شادی کر رکھی تھی اور ہمیں سختی سے تاکید تھی کہ اس کا کسی کو پتا نہ چلے۔ ریسرچ اسسٹنٹس کے طور پر اجمل اور زبیر تھے۔ دونوں ذہین اور متحرک نوجوان تھے۔ فیکلٹی کی رہنمائی کی ذمہ داری مجھے دی گئی۔ اتنے اچھے رفقا کے ساتھ کام کرنا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ اُس زمانے میں انجینئر الٰہی بخش سومرو انسٹیٹیوٹ کے ریکٹر تھے۔ جی آئی کے انسٹیٹیوٹ میں پاکستان کے مختلف حصوں سے طالبعلموں کی نمائندگی تھی۔ انسٹیٹیوٹ میں داخلے کیلئے سخت مقابلہ ہوتا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں امیدوار اپلائی کرتے۔ کراچی‘ لاہور‘ ملتان‘ پشاور‘ کوئٹہ اور اسلام آباد میں امتحان کے مراکز بنتے۔ ہزاروں امیدواروں میں سے صرف ڈیڑھ سو کے لگ بھگ منتخب ہوتے۔ دور دراز ہونے کی وجہ سے والدین اپنی بچیوں کو بھیجنے میں تذبذب کا شکار رہتے۔ کچھ ہی عرصہ بعد الٰہی بخش سومرو کی جگہ ڈاکٹر نصیر خان‘ جو یہاں پرو ریکٹر تھے‘ ریکٹر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ فیکلٹی کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ تھا۔ بعد میں وہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ وہ ملتان سے اسلام آباد آنے والے اس طیارے میں سفر کر رہے تھے جو 10جولائی 2006ء کو ملتان ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے بعد دھماکے سے پھٹ گیا تھا۔
میرا جی آئی کے انسٹیٹیوٹ میں قیام 2000ء تا 2004ء تک تھا‘ یہ چار سال انسٹیٹیوٹ کی تاریخ کے اہم سال تھے کیونکہ 2001ء میں یہاں پہلی بار گریجویٹ پروگرام کا اجرا کیا گیا‘ اور 2003ء میں ماسٹرز کا پہلا بیچ پاس آؤٹ ہوا۔ اسی طرح 2004ء میں انسٹیٹیوٹ کے قیام کا دس سالہ جشن منایا گیا۔ چونکہ یہ ایک ریزیڈنشل انسٹیٹیوٹ تھا اس لیے صبح سے رات گئے تک طلبہ مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے۔ انسٹیٹیوٹ میں ہم نصابی سرگرمیوں پر خاص زور دیا جاتا‘ مختلف سوسائٹیز ڈراموں‘ مباحثوں اور تقریری مقابلوں کا اہتمام کرتی تھیں۔ یوں طالب علموں میں سماجی مہارتوں کی پرورش ہوتی اور ان میں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد پختہ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھائی کے آخری سمسٹر میں جب اوپن ڈے کا انعقاد ہوتا اور اس میں نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندے ہائرنگ کیلئے آتے تو یہاں کے طالب علموں کی پرفارمنس مثالی ہوتی اور بیشتر طالبعلموں کو گریجویشن سے پہلے ہی ملازمت کیلئے آفر لیٹر مل جاتے۔
جی آئی کے انسٹیٹیوٹ عددی اعتبار سے ایک مختصر سا ادارہ تھا جہاں طلبہ اور اساتذہ کی تعداد زیادہ نہ تھی‘ لیکن یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ نے قومی ترقی کے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی طرح ہمارے اساتذہ کی مختصر ٹیم میں کم ازکم سات ایسے فیکلٹی ممبرز کو جانتا ہوں جو بعد میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز یا ریکٹر منتخب ہوئے۔ ان سب خوبیوں کے باوجود فیکلٹی ممبر زیادہ دیر تک یہاں نہیں رکتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ ان کے بچوں کی تعلیم تھی جس کیلئے یہاں معیاری تعلیمی ادارے میسر نہ تھے۔ کیمپس میں بچوں کا ایک سکول تھا‘ جو اس وقت میٹرک تک تھا۔ اس کے بعد قریب ترین کالج کامرہ میں تھا۔ میرا بڑا بیٹا جب فرسٹ ایئر میں کامرہ کالج جانا شروع ہوا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ ہر روز آنے جانے میں ہی کتنا وقت صرف ہوتا ہے۔ اتفاق سے اُنہی دنوں مجھے لاہور میں لمز سے آفر آگئی اور یوں جی آئی کے آئی میں میرا چار سالہ قیام اختتام کو پہنچا۔ آج ایک عرصے بعد جی آئی کے آئی اور وہاں گزرے ہوئے دنوں کی یاد آئی تو اس کے ساتھ بہت سے چہرے بھی یاد آ گئے جن کے دم قدم سے وہاں کی زندگی میں قوسِ قزح کے رنگ تھے۔ وقت کا دریا بھی کیسا دریا ہے۔ ہر دم اپنی گزرگاہیں بدلتا رہتا ہے اور ایک بار جہاں سے گزرتا ہے اپنے پیچھے یادوں کے ہیرے موتی چھوڑ جاتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved