تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     18-03-2026

پولیس کانسٹیبل سے کوچۂ سیاست تک

آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا کہ فلاں شخص سیلف میڈ ہے۔ مطلب وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا‘ اُس نے زندگی میں جتنی بھی ترقی کی اپنی صلاحیتوں‘ ہمت اور محنت کے بل بوتے پر کی۔ ہماری سیاست میں ایسے لوگ اتنے کم ہیں کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایک تھے ملک معراج خالد‘ دوسرے تھے غوث بخش بزنجو‘ تیسرے تھے علامہ مشرقی۔ پھر مولانا بھاشانی‘ میاں عبدالباری وغیرہ کا نام آتا ہے۔ ان کے علاوہ جو نام ذہن میں آتا ہے وہ چودھری ظہور الٰہی کا ہے۔ 1921ء میں گجرات کے ایک جاٹ زمیندار گھرانے کے ایک گائوں (نت) میں پید ہوئے (اب یہ گائوں دریا برد ہو چکا ہے)۔ مڈل پاس کر کے پنجاب پولیس میں بھرتی ہوئے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات 1943-44ء میں ہوئی جب میں اپنے والدین کے ساتھ گرمیوں کی تعطیلات میں امرتسر میں اپنے تایا جی کے گھر چند ہفتے رہا۔ تایا جی محکمہ پولیس میں انسپکٹر تھے اور ظہور الٰہی اُن کے ماتحت۔ میری عمر اُس وقت غالباً چھ یا سات برس تھی۔ اس کم عمری کے باوجود ان کا دھندلا عکس مجھے 81 برس بعد بھی یاد ہے۔ ستمبر 1962ء میں مری میں مال روڈ پر سیر کرتے ہوئے ہماری دوبارہ ملاقات ہوئی۔ میں شادی کے بعد بیگم کے ہمراہ مری سیر کرنے گیا ہوا تھا کہ اچانک وہاں چودھری ظہور الٰہی نظر آ گئے۔ مری کی مال روڈ اتنی چھوٹی سی سڑک ہے کہ اُس پر سیر کرنے والے بار بار چکر لگاتے ہیں۔ جب ایک بار نظریں چار ہونے کے بعد چودھری صاحب واپس مڑے اور دوبارہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے آگے بڑھ کر اُن سے علیک سلیک کی اور اپنا تعارف کرایا۔ وہ بڑی خندہ پیشانی سے ملے اور پوچھا کہ کہاں رہتے ہو‘ کیا کرتے ہو؟ مجھے اس وقت علم نہ تھا کہ وہ جنرل ایوب خان کی کنونشن لیگ میں سیکرٹری جنرل کا کلیدی عہدہ حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے (پروگریسو پیپرز) کے مالک بھی بن چکے ہیں۔ یہ سب مجھے انہوں نے خود بتایا۔ میں نے اُنہیں یہ بتانے میں کوئی تامل نہ کیا کہ شادی کے بعد مجھے لاہور منتقل ہونا پڑے گا چونکہ وہاں میری اہلیہ ایک کالج میں پڑھاتی ہیں اور اُن کیلئے لاہور چھوڑ کر لائل پور (اب فیصل آباد) منتقل ہونا ممکن نہیں کیونکہ وہاں اُنہیں اس طرح کی ملازمت نہیں مل سکتی۔ چودھری صاحب نے بکمال مہربانی کہا کہ میرے خاندان کو وہ برسوں سے جانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جب میں لاہور جائوں تو ان کے اخبار کے دفتر میں ان سے ملوں۔ میں تو ضرورتمند تھا‘ یہ دعوت کیوں نہ قبول کرتا۔ چند دنوں بعد ہم لاہور لوٹے تو میں اگلے دن میو ہسپتال کے سامنے اُن کے دفتر پہنچ گیا۔
چودھری صاحب نہ صرف بڑے دوستانہ انداز میں ملے‘ مجھے اپنے دفتر میں ایک اچھی ملازمت (اسسٹنٹ سرکولیشن منیجر) کی پیشکش بھی کر دی جو میں نے بصد شکریہ قبول کر لی۔ اپنی تقرری کا حکم نامہ لے کر میں اُن کے دفتر سے باہر نکلا۔ یکم اکتوبر 1962ء کو اپنی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے مجھے دفتر آنا تھا۔ میں نے لائل پور واپس جاکر میونسپل (خالصہ) کالج (جہاں میں نے دو سال پڑھایا) سے استعفیٰ دے دیا۔ میری اہلیہ نے اپنے کالج سے ملحقہ ایک خستہ حال گھر کرایہ پر لے رکھا تھا۔ ہم نے ضروری برتن خریدے اور وہاں شفٹ ہو گئے۔ یکم اکتوبر میری اخبار کے دفتر میں ملازمت کا پہلا دن تھا۔
سرکولیشن منیجر ایک گرگِ باراں دیدہ تھا۔ مجھے مل کر سخت ناخوش ہوا۔ پوچھا: آپ کام کیا کریں گے؟ جواب دیا کہ میرے لیے یہ بالکل اجنبی دنیا ہے‘ آپ مجھے کام سکھائیں گے تو سیکھ لوں گا۔ یہ جواب سن کر اُس کی پیشانی پر مزید شکنیں اُبھریں اور بڑی کرخت آواز میں ہدایت کی کہ ساتھ والے کمرے میں (جہاں دس بارہ کلرک کام کرتے تھے) ہیڈ کلرک کے پاس اپنی کرسی رکھوں اور اس شعبہ کی کارکردگی کو سمجھنا شروع کر دوں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ بہت جلد مجھے علم ہو گیا کہ وہ ایک کرپٹ اور رشوت خور شخص ہے۔ جب تمام اضلاع میں ادارے کی مطبوعات فروخت کرنے والے ہمارے شعبہ میں آتے اور دفتر والے ان سے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا کہ وہ گزشتہ شام 'صاحب‘ کو اُن کے گھر مل آئے ہیں اور معاملہ طے پا گیا ہے۔ میں اپنی سادگی میں اُن سے سختی سے پیش آتا کہ فوراً واجب الادا رقم دیں ورنہ میں اخبار کی ترسیل بند کرا دوں گا۔ ظاہر ہے کہ میری شکایات 'صاحب‘ تک بھی پہنچ جاتی تھیں۔ تین چار ہفتے اسی کشیدگی اور بدمزگی میں گزرے۔ آخر ایک دن اس کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس نے چودھری صاحب کو نوٹس دیا کہ یا تو وہ نئے اسسٹنٹ کا کسی اور شعبہ میں تبادلہ کر دیں یا اُن کا استعفیٰ قبول کریں۔ چودھری صاحب نے استعفیٰ قبول کرنے میں بالکل دیر نہ کی اور مجھے دفتر بلا کر میری غیر متوقع ترقی کی خوشخبری سنائی۔ میں چودھری صاحب کا احسان مند ہوں کہ انہوں نے ایک ناتجربہ کار نوجوان کو سب سے بڑے اخبار کو چلانے والے پانچ بڑے افسروں میں شامل کیا۔ میں اس ملازمت سے اتنا خوش تھا کہ 1963ء میں امریکہ کی فُل برائٹ سکالرشپ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ 1964ء آیا تو پتا نہ تھا کہ چلتی ہوئی گاڑی نہ صرف اچانک رک جائے گی بلکہ پٹڑی ہی سے اُتر جائے گی۔ چودھری صاحب نے (عنایت اللہ سے مل کر) ایک اور اُردو اخبار (مشرق) نکال لیا اور مجھ سے یہ گوارا نہ ہو سکا کہ اپنے دفتر کی جدید مشین پر چھپائی میں اُس اخبار کو ترجیح دوں جو میرے لیے ایک 'سوکن‘ کی طرح تھا۔ بالآخر ڈیڑھ سال کی نوکری کے بعد وہ دن آ ہی گیا جب میں چودھری صاحب کی میز پر اپنا استعفیٰ رکھ کر دفتر سے نکل آیا۔ یہ چودھری ظہور الٰہی کی بڑائی ہے کہ انہوں نے دوستانہ تعلق ختم نہ کیا اور رابطہ قائم رکھا۔ وہ جب بھی لندن آتے‘ مجھے اپنی آمد کی اطلاع دیتے اور میں سارے کام چھوڑ کر اپنے محسن کو ملنے جاتا۔ ڈیڑھ سال کی نوکری کے دوران میں نے چودھری صاحب کو بہت قریب سے دیکھا۔ اُن کی خوبیوں اور خامیوں کو بھی۔ بلاشبہ وہ ان تمام خوبیوں کے مالک تھے جو اگلے چند سالوں میں انہیں فرش سے عرش تک لے گئیں۔ وہ عوام دوست‘ غریب پرور‘ احسان نہ جتانے والے اور ہر شخص کے ساتھ اُس کے سماجی رتبے سے قطع نظر‘ خوش اخلاقی اور انکساری سے ملنے والے شخص تھے۔ وہ محض ایک بڑے آدمی نہ تھے بلکہ بہادر‘ بے خوف اور مصیبتوں سے لڑنے والے شخص بھی تھے۔
شفقت تنویر مرزا اپنی کتاب (ہمارے سیاستدان اور اُن کی داستان) کے صفحہ 350 پر لکھتے ہیں کہ چودھری صاحب نے پولیس کی ملازمت 1942ء میں چھوڑی اور امرتسر میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمت کر لی‘ جہاں اُن کے بڑے بھائی (چودھری منظور الٰہی) سپروائزر تھے۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ میرے علم کے مطابق وہ قیام پاکستان تک محکمہ پولیس میں رہے اور اس حیثیت سے فائدہ اُٹھا کر اُنہوں نے گجرات کے بہت سے امیر ہندو گھرانوں کو بحفاظت سرحد عبور کروائی۔ پھر اپنے بڑے بھائی کی رہنمائی میں کھڈیوں (پاور لومز) کی متروکہ مشینری کے حصول اور جاپان سے مشینری درآمد کرنے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کے معاشی عروج کا آغاز اس وقت ہوا جب انہیں میلا رام ٹیکسٹائل مل الاٹ ہوئی۔ اگلے پندرہ برس میں وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے ڈائریکٹر بن چکے تھے۔ چودھری صاحب نے ضلع گجرات کی مقامی سیاست سے آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے قومی سطح کے سیاسی رہنما بن گئے۔ اُن کا مقابلہ گجرات میں نوابزادہ گھرانے سے تھا‘ جن کی کافی عرصے سے گجرات میں سیاسی اجارہ داری تھی۔ چودھری ظہور الٰہی نے ریپبلکن پارٹی میں بڑا اثر ورسوخ پیدا کیا۔ بہاولپور کے مخدوم حسن محمود نے (جو ایک وقت میں مغربی پاکستان میں سب سے بااثر سیاستدان تھے) اُن کی سرپرستی کی۔ اُنہوں نے ہی چودھری ظہور الٰہی کے سب سے بڑے سیاسی حریف (نوابزادہ اصغر علی) کو ڈسٹرکٹ بورڈ سے ہٹا کر چودھری صاحب کو (1958ء میں) اُس کا چیئرمین مقرر کیا۔ یہی نہیں چودھری صاحب کو آپریٹیو بینکنگ میں بھی داخل کیا۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved