عارف صادق پرانے دوست ہیں۔ ایک مدت سے سڈنی میں مقیم ہیں۔ آسٹریلیا کی سرکار میں اچھے عہدے پر کام کرتے رہے۔ گپ شپ کے دوران انہوں نے ایک بار قصہ سنایا کہ ان کے محکمے کے وزیر ان کے دفتر کے معائنے کیلئے تشریف لائے۔ وزیر صاحب اپنی گاڑی خود ہی چلا کر آئے۔ نیچے پارکنگ میں ان کے استقبال کیلئے بندہ بشر کوئی بھی نہ تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے۔ دروازہ کھولا اور عارف صادق صاحب کے دفتر میں آ گئے۔ کوئی ماتحت‘ کوئی معاون‘ کوئی سیکرٹری‘ کوئی چپڑاسی ہمراہ نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھ کر جو بھی معاملات طے کرنے تھے‘ کیے۔ جو امور ایجنڈے پر تھے‘ ان پر بات چیت کی۔ کام ختم ہوا تو اٹھے‘ ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے۔
وزیر صاحب اور عارف صادق صاحب کو فی الحال ان کے حال پر چھوڑتے ہیں۔ ذرا لائبریریوں کی بات کرتے ہیں۔ جیلانگ آسٹریلیا کا چھوٹا سا شہر ہے۔ اس کی ایک لائبریری میں جانا ہوا۔ پانچ منٹ میں ممبر شپ کارڈ بن گیا۔ لائبریرین نے بتایا کہ جیلانگ میں 19 لائبریریاں ہیں‘ آپ یہ کارڈ کسی بھی لائبریری میں استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی ایک لائبریری سے لی ہوئی کتابیں کسی بھی دوسری لائبریری میں واپس کر سکتے ہیں۔ ایک وقت میں 30 کتابیں جاری کرا کے گھر لے جا سکتے ہیں۔ کتابیں لینی ہوں یا واپس کرنی ہوں‘ لائبریری کا کوئی اہلکار درمیان میں نہیں پڑتا۔ کتابیں کمپیوٹر کے سامنے رکھیں‘ کارڈ سے ٹچ کریں۔ لیجئے کتابیں ایشو ہو گئیں۔ رسید باہر نکل آئی ہے۔ کتابیں واپس کرنے کیلئے ہر لائبریری کی بیرونی دیوار پر سرنگ کا منہ بنا ہوا ہے جیسے لیٹر بکس پر ہوتا تھا‘ اسے شوٹ (Chute) کہتے ہیں۔ اس میں کتابیں ڈال دیجیے۔ 19لائبریریوں والے اس شہر کی آبادی تین لاکھ ہے۔ میلبورن بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی 54 لاکھ ہے۔ اس میں پبلک لائبریریوں کی تعداد 147 ہے۔ تعلیمی اداروں کی یونیورسٹیاں ان کے علاوہ ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ لائبریریوں کا جال جس طرح آسٹریلیا میں بچھا ہے‘ تمام مغربی ملکوں میں اسی طرح بچھا ہے۔ امریکی ریاست منیسوٹا کے ایک قصبے‘ راچسٹر‘ میں کچھ دن رہنا ہوا۔ وہاں بہت بڑی پبلک لائبریری تھی۔ 55 لاکھ آبادی والی ریاست منیسوٹا میں 140 لائبریریاں ہیں۔ برطانیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے گلوسٹر میں کچھ عرصہ قیام رہا۔ وہاں بہت بڑی پبلک لائبریری تھی۔ اس میں عربی‘ فارسی‘ ہندی‘ بنگالی اور اردو کی کتابیں بھی موجود تھیں۔ حیرت ہوئی کہ وہاں اس فقیر کا تیسرا مجموعہ کلام (پری زاد) بھی موجود تھا حالانکہ پبلشر نے مجھے رو رو کر سسکیاں بھر بھر کر بتایا تھا کہ کتاب تو بکتی ہی نہیں! پبلشر کو ناراض کرنا ایک خطرناک حرکت ہے‘ ورنہ پوچھتا کہ جب کتاب بکتی نہیں تو تم اپنی دکان بڑھا کیوں نہیں دیتے۔
آپ پوچھیں گے وزیر کے اس دورے کا‘ جس کا ذکر عارف صادق صاحب نے کیا‘ لائبریریوں سے کیا تعلق ہے؟ بہت گہرا تعلق ہے جناب! میں نے کچھ روز قبل کاشف منظور صاحب سے رابطہ کیا جو پنجاب کے پبلک لائبریریوں کے محکمے کے سربراہ (ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب) ہیں۔ نوجوان ہیں۔ محنتی ہیں اور رات دن کام کرتے ہیں۔ ان سے پوچھا: پنجاب میں پبلک لائبریریوں کی کیا تعداد ہے اور مجموعی صورتحال کیا ہے؟ تو صورتحال دلچسپ بھی ہے اور عبرتناک بھی۔ 2023ء تک پنجاب میں کل گیارہ پبلک لائبریریاں تھیں۔ تین لائبریریاں لاہور میں۔ ایک بہاولپور میں‘ ایک ساہیوال میں‘ ایک جھنگ میں‘ دو ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں‘ دو ضلع شیخوپورہ میں اور ایک اوکاڑہ میں!موجودہ ڈی جی پبلک لائبریریز پنجاب نے 2023ء میں یہ منصب سنبھالا اور اڑھائی سال کے عرصہ میں یعنی اب تک پانچ لائبریریاں مزید قائم کیں۔ ان پانچ میں سے ایک قصور میں‘ ایک حضرو (ضلع اٹک) میں‘ ایک پاکپتن میں‘ ایک مظفر گڑھ میں اور ایک لاہور میں بنی ہے۔ انہیں شاباش دینا تو بنتا ہے مگر اس سے زیادہ ان پر رحم آتا ہے۔ جس ملک میں لائبریریاں ترجیحات کی کسی فہرست میں نہ ہوں اور خزانے پر بیٹھے ہوئے ارباب اختیار کی فہرستِ ترجیحات میں کتاب‘ علم‘ تعلیم‘ مکتب‘ سکول‘ کالج قسم کی چیزیں سب سے نیچے ہوں‘ وہاں یہ نوجوان لائبریری کیلئے فنڈز کا مطالبہ لے کر جاتا ہو گا تو اس کا جس طرح استقبال ہوتا ہو گا‘ اس کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے!
16 پبلک لائبریریاں رکھنے والے صوبہ پنجاب کی آبادی پونے 13 کروڑ ہے۔ یعنی ہر 80 لاکھ افراد کیلئے ایک لائبریری! دوسری طرف جیلانگ کے قصبے میں ہر 16 ہزار افراد کیلئے ایک لائبریری اور میلبورن جیسے بڑے شہر میں ہر 36 ہزار افراد کیلئے ایک لائبریری ہے۔ آپ بجا طور پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ تقابل غیر حقیقی ہے! آپ کے دلائل میں سر فہرست یہ بات ہو گی کہ بھائی جب ہماری خواندگی کی شرح ہی بے حد کم ہے تو لائبریریوں کے حوالے سے تقابل کی کیا منطق ہے۔ آپ کی دلیل درست ہے! تسلیم کہ ہمارے ہاں خواندگی کا تناسب آسٹریلیا جیسے ملکوں کے مقابلے میں قابلِ رحم حد تک کم ہے مگر میرا جوابی اعتراض یہ ہے کہ آپ خواندگی کا موازنہ تو کر رہے ہیں‘ وزیر کے دورے کا جو حال اوپر لکھا ہے اس کے حوالے سے موازنہ کیوں نہیں کرتے؟ ملکوں کا مطالعہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ جن ملکوں میں لائبریریوں کی تعداد زیادہ ہے اور خواندگی کی شرح بلند ہے‘ وہاں کے حکمران پروٹوکول لیتے ہیں نہ گاڑیوں کے بیڑے نہ معاونوں‘ پرسنل سیکرٹریوں اور ماتحتوں کے ہجوم جو ہر سفر میں‘ ہر دورے میں ہٹو بچو کے آوازے لگاتے ہیں۔ فارسی کا محاورہ ہے کہ ''ہر کرا این دہند‘ آن نہ دہند‘‘ جسے یہ ملتا ہے اسے وہ نہیں ملتا۔ یعنی جہاں پڑھے لکھوں کو منشی یا ماسٹر یا بابو کہہ کر مذاق اڑایا جائے وہاں حکمرانوں کی زندگی پُرتعیش ہو گی۔ محلات ہوں گے۔ گراں ترین گاڑیاں اور ہوائی جہاز ہوں گے۔ شیطان کی آنت جتنی لمبی ذاتی سٹاف کی قطاریں ہوں گی‘ بیرونی دوروں پر جائیں گے تو سینکڑوں افراد ہمراہ ہوں گے۔ سرکاری دعوتوں پر اَن گنت پکوان پکیں گے اور کروڑوں کے اخراجات ہوں گے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پروٹوکول اور سرکاری سہولیات صرف حکمران ہی نہیں‘ ان کے عزیز و اقارب بھی اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ تو پھر قسّام ازل یہ تو نہیں کرتا کہ آپ یہ بھی لیں اور وہ بھی حاصل کریں۔ عربی کا مشہور شعر ہے:
رضینا قسمت الجبّارِ فینا ؍ لنا علم وللجھّال مال
ہم پروردگار کی تقسیم پر راضی ہیں۔ اس نے ہمارے لیے علم پسند فرمایا اور جہلا کے لیے مال و دولت!
اب یہ تو نہیں ممکن کہ عیاشیاں بھی ہوں اور لائبریریاں بھی قائم ہوں۔ تعلیم عام کرنے کیلئے قربانی دینا پڑتی ہے۔ مارگریٹ تھیچر کے پاس کوئی باورچی نہیں تھا۔ برطانیہ کی یہ آہنی خاتون اپنا‘ اپنے میاں کا اور مہمانوں کا کھانا خود پکاتی تھی۔ جرمن سربراہ اینجلا مرکل سرکاری مکان میں منتقل ہی نہ ہوئی اور اپنے ذاتی فلیٹ میں رہی جو ایک عام بلڈنگ کی چوتھی منزل پر تھا۔ 2016ء میں برطانیہ کا وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون تھا۔ اس نے اپنی بیوی سمانتھا کیلئے سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدی۔ اس کام کیلئے وہ خود کار ڈیلر کے پاس گیا۔ یہ 2004ء ماڈل کی نسان گاڑی تھی اور 90ہزار میل چلی ہوئی تھی۔ وزیراعظم نے اسے 15سو پاؤنڈ میں خریدا اور اس کا ٹیکس ادا کرنے کیے خود کھڑکی پر کھڑا ہوا۔ ایک اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے جوتوں کا ایک ہی جوڑا 18برس تک پہنا۔ اس عرصہ میں ایک بار اس کی مرمت کرائی۔ حکیم سعید شہید یاد آگئے‘ امریکہ میں تھے کہ جوتے پاؤں کو تکلیف دینے لگے۔ نئے جوتوں کی قیمت پوچھی تو سو ڈالر بتائی گئی۔ نہیں خریدا اور کہا کہ یہی رقم میں ادارے (ہمدرد) کو کیوں نہ دوں۔ جوتوں میں روئی رکھ کر سفر مکمل کیا۔ ایسے لوگوں کو ہمارے ہاں حکمران نہیں بنایا جاتا‘ گولی ماری جاتی ہے!!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved