برسوں پہلے کا ایک جملہ کبھی بھولتا نہیں‘ حالانکہ اسے سنے ہوئے تیس سال کے قریب ہو چکے۔ میں اردو بازار لاہور کے ایک ناشرِ کتب کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ مناسب سے تعلیم یافتہ‘ خاصے خوشحال ناشر ایک روایتی گھرانے کے فرد تھے اور میں ان سے کسی سلسلے میں ملنے گیا تھا۔ حال احوال پوچھا تو الحمدللہ ماشاء اللہ کے بعد بولے ''طبیعت بالکل ٹھیک ہے‘ شادیوں اور ولیموں میں ٹھیک ٹھاک کھا لیا جاتا ہے‘‘۔ میں حیران ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔ سوچا یہ جملہ مذاق میں کہا گیا ہے۔ لیکن انہوں نے پوری سنجیدگی سے ایک لمحے بعد یہ جملہ دہرایا ''الحمدللہ شادیوں‘ ولیموں میں ٹھیک ٹھاک کھانا کھا لیا جاتا ہے‘‘۔ وہ دراصل اپنی صحت ٹھیک ہونے کی دلیل کے طور پر یہ کہہ رہے تھے۔ میں حیرت زدہ واپس آیا اور اب تک یہ جملہ نہیں بھول سکا۔ ان کے نزدیک اچھی صحت ولیموں میں زیادہ کھا لینے کی صلاحیت ہے اور شادی بیاہ‘ ولیمے اور تقریبات دراصل بہت زیادہ کھانے کا نام۔ یہ محض ان کی بات نہیں‘ بہت بڑا طبقہ ان اجتماعات کو اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ نہ خوشی میں شرکت‘ نہ مبارک‘ نہ ملاقات‘ نہ گپ شپ۔ یہ سب ضمنی مقاصد ہیں۔ ذہنیت یہ ہے کہ وہاں جانا اصل میں صرف کھانے کیلئے ہے اور افسوس اس شخص پر جو کسی وجہ سے اچھا خاصا کھا لینے سے محروم رہ جائے۔ کڑوی بات ہے لیکن سچ یہی ہے کہ کسی کے انتقال پر بھی اس ذہن کے لوگوں کی نظر کھانے ہی پر رہتی ہیں۔ ہر وہ اجتماع جس میں کھانے پینے کی کوئی سبیل نکلتی ہو‘ ان کی نظروں میں رہتا ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ کیا امیر‘ کیا غریب‘ پورے کا پورا معاشرہ اسی رنگ میں رنگا جا چکا ہے کہ کھانا ہی اصل زندگی ہے‘ باقی سب ہیچ ہے۔ یہ کہا تو گیا تھا علم وہنر کے بارے میں‘ لیکن ہمارے معاشرے میں یہ مصرع کھانے کے بارے میں ہی پورا اترتا ہے ''جس سے ملے‘ جہاں سے ملے‘ جس قدر ملے‘‘۔ کوئی شک نہیں کہ کھانا ہمیں اس سے زیادہ بری طرح سے کھائے جا رہا ہے جس بری طرح سے ہم اسے کھاتے ہیں۔
جس کھانے کی اتنی مرکزی اہمیت ہمارے دل میں ہے‘ کیا غلط ہوتا کہ اس کے انتظامات اور آداب بھی اسی طرح مرکزی اہمیت کے حامل ہوتے۔ میزبانوں کی طرف سے بہتر انتظامات ہوتے اور مہمانوں کی طرف سے پورے آداب ملحوظ رکھے جاتے۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ میزبان یہ نہیں دیکھے گا کہ میرے انتظام سے مہمانوں کو کتنی تکلیف ہوگی۔ مہمان بھی یہ نہیں سوچیں گے کہ ہمارے طورطریقے سے میزبان کتنی مشکل میں پڑ جائے گا۔ دونوں ایک دوسرے کی برداشت کا امتحان لیتے ہیں اور دونوں ہی تکلیف پہنچانے میں مکمل کامیاب بھی رہتے ہیں۔ بہت سے میزبان بھی تو اسی نیم وحشی ذہنیت سے ہیں۔ بھائی! تم نے جب مہمان بلائے تو یہ کیوں نہیں سوچا کہ اتنی چھوٹی سی جگہ میں اتنے لوگ سمائیں گے کیسے۔ کم لوگ بلا لیتے یا کسی وسیع جگہ کا انتخاب کر لیتے۔ عام طور پر 50 لوگوں کے لیے ایک بفے سٹینڈ مناسب رہتا ہے۔ لیکن ایک سٹینڈ پر 100 لوگ اکٹھے ہو جائیں اور لوگ بھی وہ جنہیں تہذیب چھو کر نہ گزری ہو‘ تو جو بھگدڑ مچے گی‘ آپ تصور کر سکتے ہیں۔ کچھ نامور لوگوں کی میزبانی کی تقریبات یاد آتی ہیں۔ کھچا کھچ بھرا ہوا پنڈال‘ بے شمار نامور لوگ اور حد درجہ بد انتظامی۔ آدھے سے زیادہ لوگوں کو کھانے کو کچھ نہیں مل سکا۔ باقی آدھے لوگ بھی شکایتیں کرتے لوٹے۔ یہ میں ایک ایسی تقریب کی بات کر رہا ہوں جو خاصے مالدار اور نامور میزبان کی طرف سے تھی۔ اس لیے بدانتظامی اور بے فکر بے نیازی کا نہ مال سے کوئی تعلق ہے نہ ناموری سے۔ میں ایک بار کسی ولیمے کی تقریب میں گیا تو دیکھا کہ مہمان زیادہ ہیں اور کرسیاں نہایت کم۔ کھانے کے سٹینڈز ناکافی ہیں اور وہ بھی کرسیوں سے بہت دور۔ کچھ لوگ پوری تقریب میں کھڑے ہی رہے۔ مجھے قسمت سے ایک کرسی مل گئی لیکن اٹھ کر کھانا لینے گیا تو ایک صاحب جو اسی انتظار میں تھے‘ پوری ڈھٹائی اور بے شرمی سے اس پر پھیل کر بیٹھ گئے اور پھر اٹھنے سے انکار کر دیا۔ اب کیا آپ جھگڑا کریں گے ایسی کسی تقریب میں؟ اور یہ تو بہت بار دیکھتے ہیں کہ جس مہمان کو بلایا گیا تھا‘ اس کے ساتھ چند آدمی اور گھسے آ رہے ہیں جنہیں آپ جانتے بھی نہیں اور نہ وہ مدعو تھے۔ ایک مہمان کے ساتھ کئی غیر مدعوئین تقریب میں پہنچ جاتے ہیں۔ اگر کوئی نامور شخصیت ہے تو اس کا امکان اور زیادہ ہے۔ اصل مہمان صاحب بڑی ڈھٹائی سے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ میرا بھانجا ہے اور یہ میرا بھتیجا اور یہ ہمارا ڈرائیور۔ بس ان کے نزدیک یہ تعارف کافی ہے۔ نہ اس بات کی شرم کہ وہ تین ایسے افراد کو کھانا کھلانے کیلئے ساتھ لائے ہیں جو مدعو نہیں تھے‘ نہ اس بات کا احساس ہے کہ پہلے میزبان سے اس کی ا جازت لینی چاہیے تھی یا کم از کم مطلع کرنا چاہیے تھا۔ اس میں مذہبی‘ غیر مذہبی‘ پڑھے لکھے‘ ان پڑھ‘ امیر‘ غریب کسی کی تخصیص نہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ بلادعوت کہیں پہنچ جانا نہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہے نہ عام اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہیں۔ ان کے اندر کا آدمی ان چیزوں سے ماورا رہتا ہے۔ جانگلی پن کو مال اور تعلیم بھی مل جائے تو بعض اوقات مزید بڑا ہو جاتا ہے۔ بہت سال پہلے کسی جگہ شادی کی تقریب تھی۔ ایک مہمان کے ساتھ ایک ڈرائیور بھی آیا تھا۔ کھانے کے بعد بہت دیر تک ڈرائیور صاحب حاضرین کو کھانے کے نقائص اور خامیاں بتاتے رہے اور ان کے مالک صاحب خاموش بیٹھے سنتے رہے۔ یہ ہیں ہمارے ادب آداب! ایک گروہ وہ بھی ہے جن کی کوشش ہوتی ہے کہ میزبان کو کسی حوالے سے شرمندہ کر سکیں۔ کھانا کم پڑ جانے‘ پانی ٹھنڈا نہ ہونے اور سلاد باسی ہونے کے طعنے تو عام سننے میں آ جاتے ہیں۔ایک آدھ بار کسی جگہ یہ بھی کسی کو میزبان سے کہتے سنا کہ بیٹے کی شادی تھی کم از کم چکن کی جگہ مٹن کا انتظام تو کر لیا ہوتا۔
زیادہ کھانا کوئی جرم نہیں لیکن زیادہ کھانے کی حرص ضرور جرم ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف قوموں میں خوراک کی شرح الگ الگ ہے۔ ایک ہی قوم میں مختلف افراد کی خوراک بھی الگ الگ ہوتی ہے اس لیے ایک فارمولا بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن ایک خام انداز ے کے مطابق ایک وقت میں ایک مرد یا عورت ایک سے ڈیڑھ کلو خوراک کھا سکتا ہے۔ انسانی معدہ زیادہ سے زیادہ دو سے چار کلوگرام خوراک کی گنجائش رکھتا ہے۔ بہت پہلے ایک تحریر کیلئے کیٹرنگ کمپنیوں سے معلومات لی تھیں تو معلوم ہوا کہ کراچی سے پشاور تک‘ ہر شہر کی تقریبات میں فی کس خوراک کی شرح الگ الگ ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اگر روسٹ چکن ہو تو کراچی میں 250 گرام‘ لاہور میں 500 گرام اور گوجرانوالہ وغیرہ میں 1000 گرام فی کس تخمینہ لگاتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کس حد تک درست ہے! لیکن یہ تو درست ہے کہ شمالی پاکستان کے لوگ زیادہ خوش خوراک ہیں‘ جو اچھی بات ہے۔ خوش خوراکی اچھی بات سہی لیکن اس کے ساتھ حرص شامل ہو جائے تو ہر گھٹیا کام کروا سکتی ہے۔ ہر شخص میں تو نہیں لیکن اچھے خاصے لوگوں میں یہ جلوے بھی دکھاتی ہے۔
ابھی تو میں نے اس کھانے کی بات شروع کی ہی نہیں جس کیلئے یہ سب جتن کیے جاتے ہیں۔ یہ کھانا ہم کس طرح کھاتے ہیں‘ کس طرح برباد کرتے ہیں‘ کتنا بچا ہوا پلیٹوں میں چھوڑ دیتے ہیں‘ کتنے لوگوں پر چھینٹے گرا کر گزرتے ہیں۔ ان مناظر کے بعد تو خود کو اس قوم میں شامل کرتے ہوئے شرم آتی ہے جو چند بوٹیوں اور ایک دو نان کیلئے اس حد تک گر جایا کرتی ہو۔
کسی قوم کی تہذیب دیکھنی ہو تو اس کا کھانا پینا اور تقریبات دیکھیں۔ اس معیار پر درجہ بندی کی جائے تو ہم آخری قوموں میں نظر آئیں گے۔ کتنی صدیوں کی بھوک ہے جس کی شکم سیری ہی نہیں ہوتی۔ کتنی نسلوں کی حرص ختم ہی نہیں ہو کر دیتی۔ کتنی گہری جڑیں ہیں اس کی جس کا تعلیم بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ کتنے سال مزید لگیں گے ہمیں کہ ہم انسانوں کی طرح کھانا کھا سکیں۔ شاید مزید سو سال تک تو ایسا ہونے والا نہیں‘ کیونکہ جانگلی پن مال اور تعلیم سے بعض اوقات مزید بڑا ہو جاتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved