انسان جب سے دنیا میں آیا ہے‘ امن کا دشمن بنا ہوا ہے۔ بڑی بڑی جنگیں لڑی گئیں اور قتل و غارت ہوئی۔ نسلوں کی نسلیں تباہ کر دی گئیں‘ خطے کے خطے برباد ہو گئے۔ نسل کشی ہوتی رہی‘ پھر بھی انسان کی خون اور طاقت کی پیاس نہ بجھ سکی۔ مجھے شروع میں تاریخ پڑھتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ پہلے زمانے میں دشمنیاں زیادہ ہوتی تھیں‘ جنگ و جدل زیادہ تھا کیونکہ سائنس نے ترقی نہیں کی تھی۔ دنیا گلوبل ویلیج نہیں تھی۔ فون‘ انٹرنیٹ اور ہوائی جہاز کے ذریعے رابطے موجود نہیں تھے۔ اس وقت کا انسان تفریق کا شکار تھا۔ ٹیکنالوجی نہیں تھی‘ تعلیم کی کمی تھی‘ اس لیے شاید لوگ لڑتے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو جدید صنعتی صدی اور سائنس کی ترقی کے دور میں امریکہ جاپان پر ایٹم بم نہ گراتا۔ اس ایٹم بم نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں وہ تباہی پھیلائی کہ آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود وہاں کی زمین بنجر ہے‘ لوگ بیمار ہیں اور فضا اب بھی زہر آلود ہے۔
اسی طرح ہمارے سامنے مسئلہ کشمیر ہے‘ مسئلہ فلسطین ہے۔ کسی نے کبھی یہاں پائیدار امن کے قیام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ آج تک لاکھوں لوگ ان خطوں میں لقمۂ اجل بن گئے‘ مگر یہ خطے آج بھی مسائل کا شکار ہیں۔ بچے‘ بوڑھے اور خواتین یہاں امن کے منتظر ہیں مگر ان کی مدد کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ غزہ ڈھائی سال سے جل رہا ہے‘ ساری دنیا تماشا دیکھتی رہی۔ آہستہ آہستہ یہ آگ پورے مشرقِ وسطیٰ اور ایران تک پھیل گئی۔ جو اس جنگ کے اصل کھلاڑی ہیں وہ پیسہ بنا رہے ہیں‘ وہ خود دور بیٹھے ہیں مگر مشرقِ وسطیٰ کا امن داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ جنگ میں اسلحے کا کاروبار ہوتا ہے‘ اور اسلحے کے بیوپاری کبھی نہیں چاہیں گے کہ امن قائم ہو جائے۔ کچھ لیڈرز طاقت کے نشے میں چور ہیں‘ وہ اپنی طاقت بڑھانے کے لیے جنگ کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ کچھ نسل پرستی کا شکار ہیں۔
امریکہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم افغانستان اور دہشت گردی کے مسائل سے بھی نبرد آزما ہیں۔ مہنگائی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ ہر چیز کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ کبھی آئی ایم ایف کا نام لے کر تو کبھی عالمی حالات کا حوالہ دے کر۔ اگر عالمی و علاقائی حالات کی وجہ سے پاکستان واقعی مشکلات کا شکار ہے تو حکمرانوں کے چہروں پر کوئی پریشانی کیوں نہیں؟ اشرافیہ روز بروز مزید طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ سب کچھ عوام پر ڈال کر دنیا بھر کے دورے کیے جا رہے ہیں‘ دعوتیں اور عشائیے جاری ہیں‘ امیروں کی زندگی ملک میں سیٹ ہے۔ مگر ہر طرح کا بوجھ عوام برداشت کر رہے ہیں‘ جو خاموشی سے مہنگا پٹرول خرید رہے ہیں‘ ٹیکس دے رہے ہیں اور سب کچھ سہہ رہے ہیں کیونکہ اس ماحول میں تنقید کرنا یا احتجاج کرنا بھی آسان نہیں رہا۔ روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنس کر گھروں کو پہنچتے ہیں۔ جبر کے ماحول میں اصل مسائل پر بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اب جنگ کا نام لے کر ہر چیز مہنگی کی جا رہی ہے۔ جنگ اسرائیل‘ امریکہ‘ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں ہو رہی ہے مگر حکومت اس کا بوجھ پاکستانی عوام پر ڈال رہی ہے۔ ایک صارف نے سوشل میڈیا پر مذاق میں لکھا کہ یہاں بارش کی پہلی بوند گرتے ہی بجلی چلی جاتی ہے جبکہ ایران اور اسرائیل ایک دوسرے پر مسلسل میزائل برسا رہے ہیں اور وہاں بجلی ہے۔ عوام اس بات پر پریشان ہیں کہ ان کے ذرائع آمدن میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ ٹیکسز اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ کتنے ہی لوگ اب آمد و رفت کے لیے سائیکل استعمال کر رہے ہیں۔ اچھی بات ہے‘ ان کی صحت بھی بہتر رہے گی‘ ماحول بھی صاف رہے گا اور پیسے بھی بچیں گے۔ تاہم یہ سب کے لیے ممکن نہیں۔ بزرگ‘ خواتین اور طویل سفر کرنے والے افراد کا دارومدار ایندھن پر ہی ہے۔ جب تیل‘ ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہوگا تو اس کے اثرات ہر چیز پر پڑیں گے۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے نہ صرف سفر بلکہ اشیائے خور و نوش بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ سبزیاں اور پھل جب منڈیوں سے شہروں تک آتے ہیں تو کرایہ بڑھنے کے ساتھ ہی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ رمضان میں عام عوام نے جس کسمپرسی میں وقت گزارا‘ اس کا گواہ اللہ ہے۔ مہنگائی نے سفید پوش طبقے کو غربت کی طرف دھکیل دیا۔ لوگ آٹا‘ گھی اور دال لینے سے بھی قاصر تھے۔ کتنے ہی لوگوں نے اپنی سحری اور افطاری خیراتی دسترخوانوں پر کی‘ جو مخیر حضرات نے لگائے تھے۔ جو لنگر خانے حکومت کی سرپرستی میں چل رہے تھے ان میں سے کچھ بند کر دیے گئے ہیں۔ اب لوگ گلی کوچوں میں تلاش کرتے ہیں کہ کہیں سحری یا افطاری کا کوئی انتظام ہو تو وہاں بیٹھ سکیں۔ کچھ لوگ تو اس خوف سے فاقہ کر لیتے ہیں کہ کہیں کوئی ان کی خیراتی دسترخوان پر بیٹھے تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ نہ کر دے۔
اگر ہم رمضان میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر نظر ڈالیں تو آٹے کا دس کلو کا تھیلا 1100 روپے تک پہنچ گیا۔ باسمتی چاول‘ جو کبھی 78 روپے فی کلو تھا‘ اب 270 روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ برانڈڈ پیکنگ میں یہ 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ مونگ کی دال‘ جو غریبوں کی عام غذا تھی‘ 487 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ دال چنا 267 روپے‘ مسور کی دال 300 روپے‘ کالے چنے 250 روپے اور سفید چنے رمضان میں 600 روپے تک جا پہنچے۔ ایک لٹر کھانے کا تیل 600 روپے تک‘ ایک لٹر لال شربت تقریباً ساڑھے پانچ سو روپے میں فروخت ہوا۔ چائے کی برانڈڈ پتی کا 900گرام پیکٹ 2100روپے میں بک رہا تھا۔ کھجوریں 600سے لے کر 1000روپے تک فروخت ہوئیں۔ چینی پانچ کلو 820روپے تک جبکہ بیسن 380روپے فی کلو تک جا پہنچا۔ یہ اسلام آباد کے عمومی نرخ ہیں۔ پھل اور سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ درجن کیلے 400روپے‘ ایک کلو امرود 350 روپے‘ ایک درجن کینو 550 روپے‘ سیب 650روپے فی کلو جبکہ انگور 800 روپے فی کلو سے زائد فروخت ہوئے۔ جو لوگ رمضان میں سیر ہو کر سحری اور افطار نہ کر سکے‘ وہ عید کی تیاریاں کیسے کریں گے؟ وہ اپنے بچوں کو جوتے اور کپڑے کیسے لے کر دیں گے؟ جو پاکستانی ایک وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا‘ وہ عید کی خوشیاں کیسے منائے گا؟ حکمران یہ نہیں سوچتے کہ آدھا ملک خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے‘ وہ کیسے اپنی ضروریات پوری کرتا ہو گا۔ جس غریب نے ابھی کمرے کا کرایہ دینا ہو‘ جس کی تنخواہ میں تاخیر ہو‘ جس کے پاس پٹرول خریدنے کے پیسے نہ ہوں‘ جس نے کریانے والے کا ادھار بھی ادا نہ کیا ہو‘ وہ کیسے عید کی تیاری کرے گا؟
مرد حضرات خود تو کوئی پرانا جوڑا دھو کر وہی عید پر پہن لیں گے مگر دل اس وقت کٹتا ہے جب گھر میں بیوی بچے بھی پرانے کپڑوں میں ہوں اور کھانے کیلئے بھی کچھ نہ ہو۔ ہمارے حکمران صرف بیرونی دوروں میں مصروف ہیں اس لیے مہنگائی سے عوام کی ٹوٹتی کمر کی انہیں پروا نہیں ۔ مگر عوام تو ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اپنے اخراجات کم کر کے وہ رقم غریب رشتہ داروں‘ ملازمین اور مستحق افراد میں تقسیم کریں۔ کیا پتا کسی کو عید کی خوشیاں مل جائیں اور آپ کی تقدیر سنور جائے۔ حالات بہت غیر یقینی ہیں‘ بچت کریں اور اپنے اردگرد لوگوں کی مدد کریں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved