تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     20-03-2026

خواجہ آصف کا ادھورا سچ

وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک بیان نے مجھے وہ محاورہ یاد کرا دیا کہ ایک آپ کا سچ ہے‘ ایک میرا سچ ہے اور ایک اصل سچ ہے۔ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے سب سے بڑی غلطی افغانوں کی چار دہائیوں تک میزبانی کرکے کی۔ اب آپ کہیں گے کہ جو کچھ افغانوں نے پچھلے چند برسوں میں پاکستان کے ساتھ کیا ہے‘ اس کے تناظر میں خواجہ آصف ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں وہ پورا سچ نہیں بول رہے۔ یہ ہم انسانوں کی جبلت ہے کہ ہم وہی سچ سمجھتے ہیں جو ہمیں سچ لگتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ پھر آپ بھی تو وہی بات کرتے ہیں جو آپ کو سچی لگتی ہے۔ اس طرح خواجہ آصف نے بھی وہی بات کی جو انہیں سچ لگتی ہے۔ تو آپ خود کو سچا کیوں سمجھتے ہیں اور خواجہ آصف کی بات کو سچ کیوں نہیں سمجھتے؟ یقینا آپ بھی سچ کہہ رہے ہیں۔ اسی لیے تو وہ محاورہ بنا کہ ایک سچ آپ کا ہے‘ ایک میرا ہے اور ایک اصل سچ ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اصل سچ کو مانتا کوئی نہیں۔ نہ میں مانتا ہوں اور نہ ہی میری اس تحریر کے بعد خواجہ آصف مانیں گے‘ بلکہ ممکن ہے پڑھنے والے بھی خواجہ آصف کی بات کو سچ مانیں اور میری بات کو جھوٹ سمجھیں۔ لیکن وہی بات ہے کہ ہم سب کا اپنا اپنا سچ ہے۔
خواجہ آصف کو میں 2002ء سے جانتا ہوں‘ جب جنرل پرویز مشرف نے الیکشن کرائے تو وہ پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ ان سے پہلا تعارف ان کی دھواں دھار تقریروں سے ہوا‘ وہ چند منٹوں میں بڑے سے بڑے مخالف کو چت کر دیتے تھے۔ ان کے سامنے ٹھہرنا کسی کے بس میں نہ تھا۔ خواجہ آصف اگر آج ڈھلتی عمر میں بھی اسی گھن گرج سے کام لیتے ہیں تو ذرا تصور کریں کہ بائیس تیئس سال پہلے ان کا کیا جوش و ولولہ اور زبان کی کیا کاٹ ہو گی۔ میرے دل میں ان کیلئے عزت اُس دن پیدا ہوئی جب انہیں حکومتی بینچوں سے طعنہ دیا گیا کہ آپ پرویز مشرف پر روز تبرا پڑھتے ہیں کہ وہ آمر تھا‘ جبکہ آپ کے والد‘ خواجہ صفدر تو جنرل ضیا الحق کی مجلسِ شوریٰ کے ممبر رہے اور وہ جنرل ضیا الحق کو اتنے عزیز تھے کہ انہیں 1985ء کی پارلیمنٹ کا سپیکر نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم‘ انور عزیز چودھری کو شوق ہوا کہ کیوں نہ ذرا شغل لگایا جائے‘ چنانچہ انہوں نے چند پارلیمنٹرین کے ساتھ مل کر اپنا امیدوار اُن کے مقابلے میں کھڑا کر دیا جس کا نام فخر امام تھا۔ تب ایم این اے جنرل ضیا الحق کی دہشت سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے‘ لہٰذا انہوں نے حیران کن طور پر خواجہ صفدر کی جگہ فخر امام کو سپیکر اسمبلی منتخب کر لیا‘جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیا الحق کے خلاف پہلی بڑی بغاوت تھی۔ یہ بغاوت صرف فخر امام تک ہی محدود نہ رہی بلکہ محمد خان جونیجو نے بھی اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ مارشل لاء اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور یوں جمہوریت کی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ بعد ازاں جونیجو نے ضیا الحق کو بھی سخت چیلنج دیا۔ باقی جو کچھ ہوا وہ ہم جانتے ہیں کہ پھر ضیا الحق کا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔
خیر خواجہ آصف یہ طعنہ سن کر قومی اسمبلی میں کھڑے ہوئے‘ دونوں ہاتھ باندھ کر کہا کہ میں پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں کہ میرے والد نے ایک آمر کا ساتھ دیا۔ چاہے میرے والد کو بھٹو صاحب کے خلاف جتنی بھی شکایات تھیں لیکن پھر بھی ایک آمر کا ساتھ دینا ان کا غلط فیصلہ تھا۔ میرے لیے یہ ایک حیران کن تجربہ تھا کہ آپ اتنے بڑے فورم پر کھڑے ہو کر اپنے والد کے سیاسی گناہوں پر معافی مانگیں‘ جس میں آپ کا اپنا کوئی ذاتی عمل دخل نہ تھا۔ لیکن جو بات اب خواجہ صاحب نے کی ہے اس پر گفتگو اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں کچھ ابہام ہے۔ جب خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے افغانوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے کر غلطی کی تھی تو کیا ان کی مراد عام افغان مہاجرین ہیں‘ جو ہماری سرزمین پر تیس‘ چالیس سال رہے اور اب واپس بھیجے جا رہے ہیں‘ یا پھر ان کی مراد وہ طالبان گروہ اور ان کی قیادت ہے جنہیں اس وقت کی مقتدرہ نے دہائیوں تک پالا پوسا اور انہیں اپنا سٹرٹیجک اثاثہ سمجھ کر ان پر خاصے وسائل خرچ کیے کہ ایک دن یہ ہمارے کام آئیں گے۔
یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس وقت ہم جن عناصر سے لڑ رہے ہیں ان میں عام افغان شامل نہیں۔ زیادہ تر وہی طالبان ہیں جنہیں ہم اپنا اثاثہ سمجھ کر پالتے پوستے رہے اور اب وہی ہمارے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں مختلف قومیں آباد ہیں‘ پشتون‘ تاجک‘ ازبک‘ ہزارہ اور دیگر‘ اور یہ سب پاکستان کے خلاف برسرِ پیکار نہیں۔ کابل اور قندھار پر اس وقت وہ حکمران ہیں جو پشتو بولتے ہیں اور جنہیں ہم اپنا سمجھتے آئے ہیں۔ برسوں تک ہماری یہ سوچ رہی کہ کابل پر صرف پشتون قیادت ہی ہونی چاہیے کیونکہ شمالی اتحاد کے سربراہان بھارت کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے۔ ہم نے برسوں محنت کی‘ ستر اسّی ہزار جانیں قربان کیں‘ اس امید پر کہ ایک دن ہمارے حمایت یافتہ طالبان کابل پر حکمران ہوں گے اور ہم بھارت کو جواب دے سکیں گے۔ لیکن حقیقت کچھ اور نکلی۔ دہائیوں کی اس سرمایہ کاری کے بعد اگست 2021ء میں جب طالبان کابل اور قندھار پر قابض ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کے بھارت سے تعلقات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ شمالی اتحاد بھی شاید وہاں تک نہ پہنچا ہو۔ سرمایہ اور جانیں ہم دیتے رہے اور بھارت ایک طرف بیٹھا سب کچھ دیکھتا رہا۔ لیکن جونہی طالبان اقتدار میں آئے‘ بھارت نے فوراً ان سے تعلقات استوار کر لیے۔ اب ہم اُن افغانوں کو بھی برا بھلا کہہ رہے ہیں جو پاکستان میں کیمپوں میں رہے‘ یہاں کے شہروں میں آباد ہوئے یا یہاں سے بیرونِ ملک چلے گئے۔ ہم نے ایک ہی جھٹکے میں ان سب کو انہی طالبان کے ساتھ کھڑا کر دیا‘ جن کے ساتھ چائے پینے کیلئے فیض حمید کابل گئے تھے اور جنہیں خود خواجہ آصف اور عمران خان نے مبارکباد دی تھی۔
کیا طالبان کو کابل پر افغان عوام نے کسی جمہوری عمل کے ذریعے منتخب کیا ہے کہ ہم عام افغانوں کو طعنے دیں کہ انہوں نے ایسے حکمران چنے جو پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دے رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہی قیادت ہے جو برسوں تک پشاور‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد اور کراچی کے سیف ہاؤسز میں رہی۔ اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو اور کھنہ پل میں ان کے خاندان سکون سے رہتے رہے۔ طالبان رہنما ملا برادر کو کراچی کے ایک سیف ہاؤس سے نکال کر قطر بھیجا گیا تاکہ امریکہ سے مذاکرات کیے جا سکیں۔ آپ خود بتائیں کہ آج کابل اور قندھار میں کون سا ایسا طالب ہے جو پاکستان میں نہ رہا ہو یا جسے ہم نے کسی نہ کسی شکل میں سپورٹ‘ پروموٹ یا پروٹیکٹ نہ کیا ہو؟ یقینا عام افغانوں میں کچھ ایسے عناصر بھی ہوں گے جو ٹی ٹی پی سے وابستہ ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں لیکن جب ہم سب افغانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں تو آدھا سچ بیان کرتے ہیں۔ ہم ان طالبان کا ذکر نہیں کرتے جنہیں ہم نے خود پروان چڑھایا اور جو بعد میں افغان عوام پر مسلط ہوئے۔
خواجہ صاحب کو چاہیے کہ وہ پورا سچ بیان کریں۔ آج وہی سٹرٹیجک اثاثے پاکستان کیلئے مسائل پیدا کر رہے ہیں جنہیں کابل میں اقتدار تک پہنچانے میں ہم خود کردار ادا کر چکے ہیں۔ عام افغانوں کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ انہوں نے انہیں کسی جمہوری عمل کے ذریعے منتخب نہیں کیا تھا۔ خواجہ صاحب! بعض اوقات آدھا سچ مکمل جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved