رمضان المبارک کا مہمان مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں اور نعمتوں کے ساتھ رخصت ہو رہا اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ یہاں برطانیہ میں رہتے ہوئے جہاں ہر دم اپنے وطن کی یاد ستاتی ہے وہاں رمضان کریم کے شروع ہوتے ہی گاؤں میں اپنوں کے ساتھ عید منانے کی مونجھ بڑھ جاتی ہے۔ کل ہی گاؤں میں سحری کے وقت لی گئی چند تصاویر ملی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر میں گاؤں کی جامع مسجد کے مینار کیا نظر آئے‘ گویا باغِ تمنا میں بچپن کی یادوں کے گلاب کھل اٹھے۔ گاؤں میں بسنے والوں کے لیے سارا سال ہی سحری کے وقت دن کا آغاز ہو جاتا۔ زراعت سے وابستہ مرد حضرات گھروں سے نکل کر اپنے کھیت کھلیانوں اور مال مویشی کی طرف روانہ ہو جاتے۔ خواتین امورِ خانہ داری میں مصروف ہو جاتیں جبکہ بچے اٹھ کر مسجد کا رخ کرتے جہاں نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد قرآن مجید کا درس دیا جاتا۔ اس کے بعد گھر آ کر تمام بچے نہا دھو کر ناشتہ کرکے یونیفارم پہنے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کی جانب سفر شروع کر دیتے۔ مسجد کے میناروں کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد ان تمام معمولات سے وابستہ بچپن کی یادوں نے مجھے اپنی دلنشین بانہوں میں لے کر خوب لوریاں دیں۔ ہم سب بھائیوں نے اسی مسجد میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی۔ حافظ عبدالمالک صاحب اور استاد محمد امین مرحوم سے اسباق لیے‘ ڈانٹ ڈپٹ کھائی۔ اچھا سبق سنانے پر استاد امین کبھی کبھار باداموں والی ٹافی انعام میں دیتے تو اگلے کئی روز تک اس کا ذائقہ محسوس ہوتا رہتا۔ اسی ٹافی کے انتظار میں ہم روزانہ اپنا سبق اچھی طرح یاد کر کے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں جت جاتے۔ بہترین کارکردگی والا ایک خوش نصیب اس ٹافی کے انعام کا حقدار قرار پاتا جس کی لاگت محض چار آنے تھی۔ میں حیران ہوں کہ استاد امین صاحب نے 1980ء کی دہائی میں نہ کسی موٹیویشنل سپیکر سے استفادہ کیا تھا اور نہ ہی وہ اس موضوع پر کسی تحقیقی مقالے سے مستفید ہوئے مگر اس کے باوجود مجھ سمیت اپنے طالبعلموں کو موٹیویٹ کرنے کا ہنر وہ خوب جانتے تھے۔
رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی جامع مسجد پورے گاؤں کے اجتماعی دستر خوان کا روپ دھار لیتی اور اس کے مرکزی دروازے کے سامنے روزانہ افطار کیلئے دیگیں پکائی جاتیں۔ تقریباً سب زمیندار گھرانے اس اہتمام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ بسا اوقات ایک سے زیادہ گھروں سے دیگیں پکانے کی پیشکش کی جاتی جس پر امام مسجد حافظ عبدالمالک مرحوم سب کیلئے دن مقرر کر دیتے۔ گاؤں کے تمام چھوٹے بڑے افطار سے آدھ گھنٹہ قبل مسجد پہنچنا شروع ہو جاتے۔ افطار میں کھجور‘ دودھ سوڈا‘ سکنجبین‘ پکوڑے‘ زردہ‘ گڑ والے چاول اور پلاؤ وغیرہ وافر مقدار میں ہوتے۔ یہ سب کچھ ہم بچوں کیلئے کسی پُرتکلف ضیافت سے کم نہ ہوتا۔ مشروبات کا کافی حصہ بچ جاتا تھا‘ جس سے نمازِ تراویح کے دوران نمازیوں کی تواضع کی جاتی۔ ہم اسی مشروب کے طلبگار بن کر نماز تراویح کیلئے دوبارہ مسجد پہنچ جاتے اور چار رکعت کے بعد پہلے ہی وقفے میں دو دو گلاس پی کر چپکے سے کھسک جاتے۔ سکول کا زمانہ ختم ہوا اور مزید تعلیم کیلئے گاؤں چھوڑ کر ہم لاہور چلے گئے تو رمضان المبارک کے دوران مسجد میں افطار کی ضیافت سے محروم ہو گئے۔ مگر ماں جی نے ہماری عدم موجودگی میں تادم حیات اس روایت کو انتہائی عقیدت واحترام سے نبھایا۔ وہ خاص طور پر ستائیسویں روزے کو افطار کا پُر تکلف اہتمام کیا کرتی تھیں۔ ہمارا تعلیمی سفر ختم ہوا تو سول سروسز میں شمولیت کے باعث کارِ سرکار کی زنجیروں نے جکڑ لیا اور یوں ہم شہروں کے ہوکر رہ گئے۔ البتہ ماں جی نے گاؤں سے مضبوط تعلق قائم رکھا اور ہم بھی ہر بار عید منانے ماں جی کے پاس گاؤں پہنچ جاتے۔ ماں جی رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہی عید کی تیاریوں کے سلسلے میں گاؤں پہنچ جاتیں۔ ان کی نگرانی میں آبائی گھر کی صفائی ستھرائی کے علاوہ ڈیرے پر مہمان داری کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جاتی۔ عید سے دو تین روز قبل ان کی طرف سے ہمیں بچوں سمیت گاؤں پہنچنے کی تاکید شروع ہو جاتی۔ گاؤں میں عید کی تمام خوشیاں اور رونقیں ماں جی ہی کے دم سے وابستہ تھیں۔
آج سے چار دہائیاں قبل وسائل محدود تھے۔ پورے گاؤں میں ایک یا دو ٹریکٹر تھے‘ جس کے نتیجے میں کھیتی باڑی کا زیادہ انحصار بیلوں پر تھا۔ روایتی طرزِ زراعت کے باعث فصلوں کی بوائی اور کٹائی‘ دونوں مواقع پر باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل کی عمدہ مثالیں پیش کی جاتیں۔ زیادہ تر گھر کچے تھے مگر باہمی احترام‘ اخلاص اور احساس کے رشتے پکے تھے۔ گھروں کی اونچی اونچی چار دیواری اور مقفل مرکزی دروازے نہیں تھے مگر ایک دوسرے کی جان‘ مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنانا سماجی اقدار کا کلیدی حصہ تھا۔ زندگی تصنع‘ فیشن اور برانڈز سے میلوں دور سادگی اور بے تکلفی سے عبارت تھی۔ دیہاتی وسیب میں بھائی چارے کی فضا نے معاشرتی زندگی کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ شاید اسی لیے محدود وسائل کے باوجود رزق کی فراوانی تھی‘ ظرف وسیع تھے اور آسودہ حالی کا احساس نمایاں تھا۔ اب سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے تو سمارٹ فون‘ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال عام ہو چکا ہے جس کے باعث دیہی طرزِ زندگی کی اساس تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب گاؤں پر بھی شہری زندگی کی چھاپ لگ گئی ہے۔ ہوٹل بن گئے ہیں‘ گرم حمام کھل چکے ہیں‘ مٹھائی کی دکانیں عام ہیں۔ کمرشل فارمنگ اور زرعی آلات کے سبب زمین کی پیداواری صلاحیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ ڈیرے وسیع اور کشادہ ہو چکے ہیں۔ گاڑیاں اور موٹر سائیکل عام ہیں۔ بظاہر لوگ خوشحال ہیں مگر نجانے کیوں اب مسجد کے میناروں کے سائے میں مرکزی دروازے کے سامنے افطاری سے قبل دیگیں نہیں پکتیں اور نہ افطار کے وقت وہ ماحول نظر آتا ہے۔ گاؤں میں وہ رونق ہے نہ بظاہر نظر آنے والی آسودہ حالی میں برکت۔ ہر فرد کی دنیا موبائل فون تک سکڑ گئی ہے۔ تقریباً تمام زمیندار گھرانوں کے پاس زراعت کیلئے درکار ضروری مشینری اور آلات موجود ہیں۔ باہمی اشتراک اور سماجی تنظیم کے تمام بندھن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ دوسری طرف فیشن‘ برانڈز اور ظاہری نمود ونمائش کے باعث اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس جدید طرزِ زندگی کے نتیجے میں ضرورتیں بڑھ گئی ہیں اور روپے پیسے کے حصول کی دوڑ بھی انتہائی تیز ہو چکی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کمرشل فارمنگ کے ساتھ ساتھ سوچ بھی کمرشل ہو گئی ہے۔
اب جبکہ گاؤں کے ماحول میں شہر کا رنگ نمایاں ہونے لگا ہے اور ماں جی کو آسودۂ خاک ہوئے بھی دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے تو گاؤں میں عید منانے کے لیے وہ شیریں لب ولہجہ والی تلقین باقی رہی ہے اور نہ ہی وہ منتظر نگاہیں۔ ماں جی کے بغیر گاؤں والا گھر بس ایک ویران مکان ہی تو ہے جس کے کونے کونے میں ان کی یادیں سلگتی رہتی ہیں۔ اب انہیں ملنے کیلئے قبرستان جانا پڑتا ہے جہاں والد گرامی کی آخری آرام گاہ سے چند گز کے فاصلے پر وہ اپنے دونوں بھائیوں کے درمیان ابدی نیند سو رہی ہیں۔ کل شام عاصم سرفراز نے گاؤں میں سحری کے وقت لی گئیں چند تصاویر بھیجیں تو ماں جی کے ساتھ منائی گئیں اَن گنت عیدوں سے جڑی یادوں نے گھیر لیا اور منیر نیازی کی یہ مشہور پنجابی نظم یاد آگئی۔
کل بیٹھا کجھ سوچ ریا ساں؍ گل اک گزرے ویلے دی؍ اپنے پنڈ دے پپلاں ہیٹھاں؍ چھوٹی عید دے میلے دی؍ میں جیہڑا مشہور ہاں ایناں؍ دل دے بھید لکاون وچ؍ غم دی تکھی چیک نوں گھٹ کے؍ اپروں ہسدا جاون وچ؍ اوس پرانے دن دے وچوں؍ کر کے یاد اک موقعے نوں؍ زور وی لا کے روک نئیں سکیا؍ اپنے دل دے ہوکے نوں
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved