پہلے ایک کامیاب کوشش سے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مسلک کے تنگ نائے میں قید کر دیا گیا۔ پھر پاک فوج میں مسلکی اعتبار سے تقسیم کی سعی کی گئی۔ فیلڈ مارشل صاحب کے ساتھ ملاقات کو مختلف معانی پہنائے گئے۔ بزمِ یار سے لوگ الگ الگ خبریں لائے۔ یہ اگر دانستہ ہے تو بہت تشویشناک ہے۔
ملاقات میں کیا ہوا؟ مجھے برادرم علامہ عارف واحدی صاحب کی روایت پر اعتبار ہے۔ درایتاً بھی ان کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس مجلس میں وہی بات ہوئی ہو گی جسے انہوں نے بیان کیا اور ایسے ہی ہوئی ہو گی جیسا انہوں نے تاثر دیا ہے۔ اس میں دونوں اطراف سے کچھ قابلِ اعتراض نہیں اور یہ سب قابلِ فہم ہے۔ اس ملاقات کو متنازع بنانے والوں میں سب سے بلند آہنگ وہ ہیں جو اس مجلس میں شریک نہیں تھے اور جن کا ایجنڈا سیاسی ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس موقع کو ریاست کے خلاف اس سیاسی تحریک کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں‘ جس کیلئے سیاست کے نام پر عوام متحرک نہیں ہو سکے۔ سیاست و مذہب کا یہ وہ خوفناک امتزاج ہے جس کا ناگزیر نتیجہ چنگیزی ہے۔
ہماری فوج کی کامیابیوں میں ایک نمایاں کامیابی یہ ہے کہ اس نے خود کو ہر تقسیم سے بلند رکھا ہے۔ سپاہی سے لے کر سپہ سالار تک‘ سب کو ایک شناخت پر اصرار ہے اور وہ ہے پاکستان۔ چونکہ پاکستان 97فیصد مسلم آبادی کا ملک ہے‘ اس لیے پاکستانی اور اسلامی شناختیں‘ سماجی و اداراتی سطح پر اس طرح ہم قدم رہتی ہیں کہ ایک دوسرے میں ضم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے کم از کم دو آرمی چیف شیعہ تھے۔ ایک واضح طور پر مذہبی تھا تو دوسرا اعلانیہ روشن خیال یا سیکولر۔ ان کی نسلی شناخت بھی ایک نہیں تھی۔ عام آدمی لیکن کبھی نہیں جان سکا کہ ان میں شیعہ کون ہے اور سنی کون۔ مہاجر کون ہے‘ کون پٹھان اور کون بلوچی۔ 'تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے‘۔
فوج کو معلومات ملیں کہ افغانستان میں بیٹھے لوگ ایک خاص مسلک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں تو اس نے ان کے خلاف تلوار اٹھائی۔ اگر کسی دوسرے مسلک کے لوگوں نے گلگت بلتستان میں قومی املاک کونقصان پہنچایا اور فوج کے جوانوں کو نذرِ آتش کیا تو وہ ان کے خلاف متحرک ہو گئی۔ فوج نے بارہا جو بات زبانِ حال سے بتائی‘ وہ سپہ سالار نے اس ملاقات میں زبانِ قال سے بھی بتا دی۔ اس میں کچھ نیا نہیں تھا اور نہ ہی باعثِ حیرت۔ اگر کوئی حالات پر غور کر کے‘ خود نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے الفاظ میں بتا دیا گیا کہ فوج کا صرف ایک مسلک ہے: پاکستان۔ اس پر حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر کی گئی تو یہ مسلکی عصبیت کی بنیاد پر فوج اور عوام کو آمنے سامنے کھڑا کرنا ہے۔ ریاست اسے کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟
ریاست فتنہ پرور گروہوں کے خلاف طاقت استعمال کرتی ہے۔ فتنہ قتل سے بھی سنگین تر ہے‘ اس لیے نہ مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور غیرمذہبی ریاستیں بھی اہلِ فساد کے خلاف انتہائی قدم اٹھاتی ہیں۔ لیکن اب ریاست کو چاہیے کہ اس معاملے کو ایک وسیع تر مفہوم میں دیکھے۔ اسے ریاستی امور میں مذہب اور اہلِ مذہب کے کردار کا فرق سمجھنا ہو گا۔ ریاست کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ ابتدا ہی سے اس معاملے میں کج فہمی کا شکار رہی ہے۔ مذہب کا کردار ہمارے آئین میں لکھ دیا گیا ہے۔ اہلِ مذہب کا کردار تاریخ کے صفحات پر لکھا ہوا ہے۔ یہی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو پاکستان میں لائے اور یہاں مذہبی تنازع کو ابھارا۔ یہی اب پھر متحرک ہیں۔ ریاست کو مذہب اور اہلِ مذہب کے کردار کو الگ الگ کرنا ہو گا۔
قائداعظم نے واضح کیا اور آئین بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہاں مذہبی طبقے کی حکومت قائم ہو۔ تھیوکریسی یا پاپائیت کی گنجائش پاکستان کے آئین میں نہیں ہے۔ آئین میں یہ درج ہے کہ یہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کے برخلاف قانون سازی نہیں ہو گی۔ تاہم ان کی کون سی تعبیر نافذ ہو گی‘ اس کے فیصلے کا حق قراردادِ پاکستان نے عوام کے منتخب نمائندوں کو دیا ہے۔ یہ قرارداد عوام کے حقِ اقتدار کو تسلیم کرتی ہے کسی خاص طبقے کو یہ حق نہیں دیتی۔ ناقد قرارداد کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ فرق عوام کیا سمجھیں‘ اہلِ دانش اور ریاست کبھی نہیں سمجھ سکے۔
ریاست نے جب بھی مذہبی معاملات میں کوئی قدم اٹھایا تو راسخون فی العلم کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ان مذہبی شخصیات کو مذہب کا نمائندہ سمجھا جن کا تعارف علم نہیں‘ مسلک یا مذہب کے نام پر قائم کوئی ادارہ ہے۔ آپ ریاست کی طرف سے بلائی گئی مذہبی مجالس کو دیکھیں تو آپ کو گدی نشین اور مدارس کے منتظمین ملیں گے‘ اہلِ علم نہیں۔ اگر ان میں ایک آدھ علمی شخصیت دکھائی دیتی ہے تو اس کا سبب اس کی علمی وجاہت نہیں‘ مسلکی شناخت ہے۔ اسی طرح ریاست جب مذہبی تعلیم میں اصلاحات لانا چاہتی ہے تو کمپیوٹر اور ریاضی کے مضامین شامل کر کے‘ اسی مسلکی تقسیم کی بنیاد پر دو چار نئے بورڈ بنا دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ مسلکی تقسیم اور اہلِ مذہب کو مضبوط بنانے کے سوا کچھ نکلا ہے نہ نکل سکتا ہے۔ مضبوط ہونے کے بعد یہی لوگ ریاست کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں اور پھر ریاست ان سے مذاکرات کر رہی ہوتی ہے۔ یہ دائرے کا نہ ختم ہو نے والا سفر ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہمارے سماجی و ریاستی ادارے ان اقدار پر کھڑے ہوں جو اسلام نے سکھائے اور جنہیں دنیا نے عہدِ رسالت اور خلافتِ راشدہ میں مجسم دیکھا۔ یہ اصلاً علمِ معاشرت و علمِ سیاست کا مسئلہ ہے‘ مذہب کا نہیں۔ سماج اور ریاست ہمیشہ فطری اصولوں پر بنتے اور قائم رہتے ہیں۔ مذہب یا کلچر ان کی تہذیب کرتے ہیں۔ مذہب یہ نہیں بتاتا کہ ریاستی ادارے کون کون سے ہوتے ہیں۔ وہ یہ بتاتا ہے کہ ان کو کن اقدار پر کھڑا ہونا چاہیے۔ یہی آئین کی روح ہے اور یہی دین میں مطلوب ہے۔ ریاست ابھی تک یہ بات نہیں سمجھ پائی۔ جب کسی بے تدبیری کے نتیجے میں ریاست و مذہب کا معاملہ اُلجھ جاتا ہے‘ وہ اہلِ مذہب کی مجلس بلا کر اسے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ کام عشروں سے جاری ہے اور اس کا نتیجہ رسمی مجالس ہیں یا پھر وہ صورتِ حال جس سے نکلنے کے لیے سپہ سالار نے مجلس بلائی اور وہ خود ایک مسئلہ بن گئی۔ ریاست نے سوچا نہیں ہو گا کہ اس ملاقات کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ فوج کے اندر مسلکی تقسیم کو ابھارنے کی کوشش کی جائے گی۔ میرے لیے یہ غیرمتوقع نہیں تھا۔ میں آنے والے دنوں میں بھی کوئی خیر نہیں دیکھ رہا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جیسے جیسے بحران شدید ہو گا‘ پاکستان میں مذہبی انتشار میں اضافہ ہو گا۔ یہ کم و بیش 46برس کی محنت اور سرمایہ کاری ہے‘ جن کے نتائج سے مفر نہیں۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو ریاست سمیت سب کی آنکھیں بند تھیں‘ آج کھلی ہیں تو بھی اصل مسئلے کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔ سپہ سالار کے ساتھ علما کے ایک خاص گروہ کی ملاقات کا حاصل ایک تہ در تہ پرورش پانے والا گمبھیر مسئلہ ہے جس کا ادراک لازم ہے۔ بصورتِ دیگر‘ ایسی ہر ملاقات کا نتیجہ یا تو ایک بے روح اور بے فائدہ دستاویز ہو گی جس پر سب کے دستخط ہوں گے لیکن نتیجہ صفر یا پھر بھانت بھانت کی بولیوں کا مجموعہ جس کا نتیجہ ابہام اور بے یقینی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved