تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     23-03-2026

کچھ سبق اپنے لیے

ایران کے خلاف خوفناک جنگ نے دل کو بوجھل کیا ہوا ہے۔ پوری دنیا بجا طور پر کہہ رہی ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے لیے تیار تھا اور اس نے جنگ سے بچنے کے لیے بہت لچک دکھائی۔ فیصلہ تو معلوم ہوتا ہے کہ جارح طاقتوں اور ان کے اتحادیوں نے ایک عرصہ سے کیا ہوا تھا۔ ایسی جنگ ایک دو دن میں شروع نہیں کی جا سکتی۔ بہت عرصہ سے اس کی منصوبہ بندی‘ لڑنے کے لیے ہتھیار‘ ساز و سامان‘ اتحادی‘ اڈے اور فوجی تنصیبات کا بندوبست کر لیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا ہوتا تو گزشتہ سال ہمیں اپنے دشمن کی مسلط کردہ جنگ میں مشکلات پیش آتیں۔ ہمیں معلوم تھا کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں اور وہ کب‘ کہاں اور کس نوعیت کے ہتھیاروں سے ہمارے اوپر وار کر سکتا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں رہے۔ یہاں یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ کسی بھی ملک کی عسکری قوت قومی طاقت کا ایک جز و ہوتی ہے‘ کل نہیں۔ اسے ترتیب میں رکھنے‘ منظم کرنے اور اقتصادی طور پر پائیدار اور خود کفیل بنانے کے لیے طاقت کے دیگر ذرائع اور وسائل کو بروئے کار لا کر ترقی دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں اس بارے میں طویل المدت منصوبہ بندی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کیونکہ چند طاقتور ممالک نے پرانے عالمی نظام کی اخلاقی اور قانونی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ پہلے بھی اہلِ دانش‘ سیاستدان یا حکمران عالمی اداروں اور قانون پر بھروسا نہیں کرتے تھے مگر روس کی یوکرین کے خلاف جنگ اور اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی اور اب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں قومی طاقت کی تمام جہتوں پر توجہ نہ دینا کسی بھی ملک کے لیے دشمنوں کا ترنوالہ بننے کے مترادف ہو گا۔ اس بات کو آگے بڑھانے سے پہلے آپ کی توجہ امریکہ کے پڑوس میں کیوبا کی طرف دلانا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہم اپنے حالات اور واقعات اور قومی ذمہ داریوں کی طرف اہلِ بصیرت اور فکر مند اور مقتدر حلقوں کی توجہ مبذول کرائیں گے۔ کیوبا کی اشتراکی حکومت ایک سیاسی اور مسلح جدوجہد کے بعد 1959ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس میں لاطینی امریکہ کے اُس دور کے سب سے نامور دانشور اور سیاسی کارکن شامل تھے۔ فیڈل کاسترو اور چے گویرا پوری دنیا میں مشہور تھے۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین سے قریبی رشتے جوڑے اور امریکہ کی طاقت کے سامنے نہ جھکے اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک میں انقلابی تحریکوں کی حمایت ترک کی۔ یہ چھوٹا سا ملک عالمی سطح پر مزاحمت اور انقلابی خوابوں کا استعارہ رہا۔ دنیا بدل گئی مگر کیوبا نہ بدلا۔ ویتنام‘ چین‘ روس اور مشرقی یورپ کے تمام سابقہ اشتراکی ممالک نے اشتراکیت سے توبہ کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو اپنا لیا اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ ان تمام تبدیلیوں کے بعد کیوبا دنیا میں مزید تنہا ہوتا گیا مگر وقت کے دھارے میں اپنے آپ کو ڈھالنے کی تبدیلی کے ''گناہ‘‘ کا مرتکب نہ ہوا۔ میرے نزدیک یہ منجمد نوعیت کی سوچ ہے جو ریاستوں اور ان کے نظام کو ماضی کے برفانی تودوں میں بند کر دیتی ہے۔ بصیرت افروز سیاسی قیادت کی پہچان یہ ہے کہ وہ ذاتی انا اور نظریاتی انحراف کے طعنوں کو فکری روشنی کے لیے سدِ راہ نہیں بننے دیتی۔ کیوبا نے بھی عملی طور پر بادشاہت قائم کر لی‘ نظریاتی دعوے جو بھی ہوں فیڈل کاسترو 50سال تک حکمران رہے اور مرتے وقت اقتدار اپنے بھائی رؤل کاسترو کے حوالے کر گئے۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ آج کل کے حالات دیکھیں کہ اس جزیرہ نما ملک میں بجلی گھروں کو چلانے کے لیے تیل نہیں اور بلیک آؤٹ ہو رہا ہے۔ حکومت کی مشینری آہستہ آہستہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی بھی دن وہاں ایک نیا انقلاب آسکتا ہے۔ کیوبا کا انحصار وینزویلا کے تیل پر تھا۔ وہ امریکیوں نے بند کر دیا تو اب اندھیرے ہیں۔ حکومت کے گرنے میں کوئی زیادہ دن نہیں لگیں گے۔
دو باتیں ہم ایران کے حوالے سے بھی کہہ سکتے ہیں‘ ایک عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور دوسرا نظریاتی جمود جس کی تشریح و توضیح الہامی ہے‘ بنیاد پرستی کا شکار رہی۔ نظام کے اندر سے اٹھنے والی اصلاحی آوازوں اور معتبر شخصیتوں کو دبانے کی روش رہی۔ اقتصادی پابندیوں کے تہہ در تہہ نفوذ نے نہ صرف عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنایا بلکہ معاشرے اور ریاست کے رشتے بھی کمزور ہونے لگے۔ ان کے دشمنوں نے یہ سب کچھ دیکھ کر ہی جنگ مسلط کی ہے۔ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ان کے مقاصد پورے ہو پائیں گے مگر ایران کے لوگوں‘ اقتصادی ڈھانچے اور قومی قوتِ مدافعت‘ ثابت قدمی اور استقامت کے باوجود اسے بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ مثالیں آپ کے سامنے اس لیے رکھی ہیں کہ ہمیں اپنے وطن کے مستقبل کے لیے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم نہ کیوبا ہیں‘ نہ ایران جہاں نظریاتی قیادت اور ان کے ذیلی اداروں کا غلبہ ہے۔ مگر ہمارا جغرافیائی محل وقوع‘ ایک بڑے ہمسائے ملک کی ابھرتی ہوئی طاقت اور اپنے اندرونی مسائل کے پیشِ نظر سلامتی کے خطرات میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ بلوچستان اور قبائلی سرحدی اضلاع ایک عرصہ سے دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ اب افغانستان طالبان حکومت میں‘ اپنی قبائلی فرسودہ سوچ اور رجعت پسندی میں منجمد ہر نو ع کے عالمی دہشت گرد گروہوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ بات تو آگے بڑھ گئی ہے کہ اب وہ ہمارے خلاف فوجی کارروائیاں کرنے پر بھی اُتر آئے ہیں۔ ہمیں جواب تو انہیں ان کی زبان میں دینے کی ضرورت پڑی مگر اس سے شاید خطرات میں مزید اضافہ ہو۔ ہمیں اپنی قومی طاقت کو توانا اور پائیدار رکھنے کی غرض سے پہلے تو ان پالیسیوں سے بچنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے کچھ ملک سفارتی اور اندرونی انجماد کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے اور ہمارے عرب حلیف ممالک کو سلامتی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ہماری سفارتکاری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ غیر جانبداری کے باریک راستے پر شاید ہم پھر زیادہ دیر تک پاؤں نہ ٹکا سکیں۔ ہماری کامیابی اس میں ہو گی کہ جنگ جلدی بند ہو اور ہمیں عملی طور پر کسی کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے کی مجبوری پیش نہ آئے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں انرجی کے بیرونی وسائل پر انحصار کم بلکہ ختم کرنے کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمارے پاس قدرتی وسائل میں سے پن بجلی‘ تھر کا کوئلہ‘ سورج کی روشنی اور ساحلی علاقوں کی تیز ہواؤں کی کمی نہیں۔ اگر ہے تو دیانت دار‘ محب وطن اور قابلِ بھروسا حکمرانوں کی جو ابھی تک اپنے ذاتی خزانے بھرنے کی غرض سے ہماری قومی دعوت کو لوٹتے رہے ہیں۔ دوسرا ہم اپنی جامعات میں سائنسی نصاب‘ سائنس اور ٹیکنالوجی اور تحقیق کی ترقی کے ساتھ انہیں صنعتوں کے ساتھ مربوط کرنے سے معیشت اور دفاع کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ کچھ سوال ایسے ہیں جوآپ کے لیے‘ حکمرانوں کے لیے ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم آپس میں اتحاد و اتفاق کی ہر روز کی تقریروں کے باوجود سیاسی اختلافات کو ختم کر کے ایسا نظام کیوں نہیں ترتیب دے سکے جس میں موروثیوں کو مسلط کرنے کے بجائے عوام کی صفوں میں سے حقیقی قیادت سامنے آسکے؟ اوپر جو ذہنی‘ فکری اور سیاسی جمود کی باتیں جو کچھ ریاستوں کو تنہا اور کمزور کرنے کی وجوہات کے طور پر عرض کی ہیں سوچتا ہوں کہ کہیں ہم ان کا شکار نہ ہو جائیں۔ ہمارے حالات تبدیلیوں کے متقاضی ہیں۔ دیکھیں ہم دوسروں اور اپنی تاریخ سے کوئی سبق حاصل کرتے ہیں یا غفلت اور خود غرضی کے اسیر رہتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved