تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     23-03-2026

ٹرمپ نے کیا کھویا‘ ایران نے کیا پایا؟

اتنا فہم تو گلی محلے کے باسی بھی رکھتے ہیں۔ جس کے پاس کھونے کے لیے کم ہو یا کچھ نہ ہو اس سے لڑائی جیتی نہیں جا سکتی کیونکہ اس کے پاس جو کچھ ہے اُسے معرکے میں جھونک دے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے صہیونی‘ نیویارکر‘ واشنگٹنر مشیروں کا خیال تھا کہ ایران کو چار عشروں سے تیل نہ بیچنے‘ عالمی تجارت‘ نیو ٹیکنالوجی کے امتناع اور دنیا سے کاٹ کر اسے عالمِ تنہائی میں دھکیل دیا گیا ہے‘ اس لیے اب وہاں ٹوڈی رجیم بٹھانا اور انقلابِ ایران کو گرانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ دنیا سے کٹا ہوا‘ عالمی منظر نامے سے ہٹا ہوا اور عراق‘ لبنان‘ شام اور یمن میں اس وقت ایران کا پراکسی بریگیڈ پِٹا ہوا ہے اس لیے ایران جنگ میں ریمبو والی انٹری ثابت ہو گی اور راکی باکسنگ والا واک اوور ملے گا۔ اسرائیل نے پچھلے تقریباً آٹھ عشروں میں شیوخ و شاہ اور امیر و کبیر کے کم از کم درجن بھر امتحان لیے مگر ہر بار اسرائیل کے مقابلے میں جنگ کے نام پر خطے کے حکمرانوں کی سانسیں پھول پھول گئیں۔ ایران کے مقابلے میں پینٹاگون کے اندازے بھی غلط ثابت ہوئے۔ پینٹاگون کے بڑوں نے مارکو روبیو‘ چارلس کشنر اور یو ایس کے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سمیت میڈیا پر یہ بیانیہ بنایا۔ یہ بیانیہ کہتا ہے کہ ایران ایک قوم نہیں بلکہ ٹکڑیوں میں بٹا ہوا ایسا چھان بُورا ہے جسے فتح کر کے Armageddon اور گریٹر اسرائیل کے خواب فوراً پورے ہو جائیں گے۔ اس ذہنیت کا ایسا تازہ ثبوت بھارتی وزیراعظم کی تقریر سے بھی ملا۔ مودی نے پبلک گیدرنگ میں ٹرمپ‘ نیتن یاہو کے ایران پر حملوں کے آغاز میں تکبر میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا ''ہم سے سوال کیے جاتے ہیں ایران اسرائیل جنگ میں ہم کہاں کھڑے ہیں‘ ہم تو اسرائیل کے دوست ہیں‘ ہمارے دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں‘ ایران کے ''آتنک واد‘‘ کو ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے بھارت اور اسرائیل کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ ہم اکھنڈ بھارت بنائیں گے جبکہ اسرائیل گریٹر اسرائیل بنانے جا رہا ہے۔ ہمارا اصل میں مسئلہ صرف پاکستان ہے۔ بنگلہ دیش‘ نیپال‘ سری لنکا‘ افغانستان تو ویسے ہی جھولی میں گِر جائیں گے‘‘۔ ان حالات میں امریکی صدر ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑے کے سب سے بڑے جہاز ابراہام لنکن کے رتھ پر سوار ہو کر پرشیا فتح کرنے نکل پڑے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والی روس امریکہ کولڈ وار سے لے کرکے پوسٹ 9/11 پیریڈ تک جب بھی امریکہ نے کسی آزاد ملک پر حملہ کرنے کا موڈ بنایا اس کے پیچھے دنیا کے اکثر ممالک فوجیں لے کر دوڑ پڑے۔ اب پہلی بار امریکہ کو سرپرائز مل رہے ہیں جس کے دو بڑے حصے یوں ہیں:
امریکہ کو ملنے والے سرپرائز کا پہلا حصہ: خلیجِ فارس اور خلیجِ عرب بلکہ جی سی سی ممالک کے بارے میں امریکہ کو سٹریٹجک غلط فہمی یہ تھی کہ جی سی سی کے سات ممالک میں اسکے بارہ فوجی اڈے اور پانچ دیگر تنصیبات پر ایران حملے کی ہمت نہیں کرے گا۔ پینٹاگون کا خیال تھا کہ جی سی سی میں موجود تقریباً چھ ہزار امریکی فوجی اور امریکہ کی تربیت یافتہ ان ملکوں کی فوج اور اسرائیل کی آئی ڈی ایف ملا کر ایران کو چند دنوں میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے۔ جی سی سی کے ایک ملک کے فوجیوں کو تربیت دینے والے امریکی جرنیل نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں ان کی اہلیت پر یمن جنگ کے حوالے سے سوال اٹھائے۔ اس امریکی وار ویٹرن نے بتایا کہ ایک محاذ پر خیمے جتنا سامان اپنے اوپر لادے ہوئے ان فوجیوں کا مقابلہ سلیپر پہنے ہوئے AK47 بردار یمنی مزاحمت کاروں سے تھا۔ فائرنگ شروع ہوئی تو امریکی تربیت یافتہ تین سو اہلکار فائرنگ سے گھبرا کر ملک کی طرف بھاگ نکلے۔
امریکہ کو ملنے والے سرپرائز کا دوسرا حصہ: امریکہ کا خیال تھا کہ برطانیہ کی پالیسی اب بھی ٹونی بلیئر والی ہی ہو گی۔ ادھر امریکہ نے طبلِ جنگ بجایا اُدھر برطانوی فوج اسلحہ اٹھا کر اس کی پچھلی صف میں آ کھڑی ہو گی۔ نہ صرف برطانیہ بلکہ آسٹریلیا‘ کینیڈا‘ جرمنی‘ فرانس سمیت تقریباً پورے مغرب نے ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں امریکہ کے کہنے پر بطور حلیف لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس عالمی اجتماعی انکار پر صدر ٹرمپ شدید ذہنی دباؤ اور لاف زنی پر اتر آئے ہیں۔ کبھی برطانوی پرائم منسٹر کیئر سٹارمر کو بے وقوف ثابت کرنے میں لگے ملتے ہیں‘ کبھی کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کو اپنے سے کمتر ثابت کرتے ہیں‘ کبھی فرانسیسی صدر میکرون پر لعن طعن کرتے ہیں۔ اسلئے امریکہ آج تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی ایران کی فتح کا خواب پورا نہیں کر سکا۔ ابھی تک اربوں ڈالر کے اخراجات اور نقصانات‘ سپر پاور کی معتبری والی پگڑی سے محرومی اور بین الاقوامی تنہائی اور تنقیدکے علاوہ اس جنگ سے ٹرمپ نے کچھ نہیں پایا۔ دوسری جانب ایران نے حالیہ جنگ میں شوقِ شہادت میں سُرخرو ہونے والوں کے علاوہ کچھ نہیں کھویا۔ اسے سمجھنے کیلئے پچھلی جنگ اور حالیہ امریکہ‘ اسرائیل حملے کے درمیانی عرصے کو دیکھ لیں جس میں صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو ایرانیوں سے اظہارِ محبت کر کے رجیم چینج کرنے کیلئے دعوت دے رہے تھے۔ ایران کی اپوزیشن کو یہ یقین بھی دلا رہے تھے کہ فکر مت کرو آپ کے نجات دہندہ ایران فتح کرنے آ رہے ہیں۔ امریکہ کی دو بڑی غلط فہمیاں یہ رہیں۔
ایرانی فوج کو مِس انڈر سٹینڈ کرنا: ایران کی ایک فوج نہیں بلکہ 31صوبوں میں 31کماندار اور 31لڑاکا افواج ہیں۔ ہر صوبے میں پورا ملٹری سٹرکچر خودکار و خود مختار ہے۔ ہر فوج کے پاس لمبے عرصے تک جنگ لڑنے کا سامان اور صلاحیت موجود ہے۔ تہران والی سینٹرل کمانڈ خدانخواستہ دستیاب نہ بھی رہے تب بھی صوبائی افواج کے لیے ایک ہی ایس او پی ہے‘ جنگ لڑو اور لڑتے رہو‘ فتح تک یا شہادت تک۔ اس لیے ہر صوبے میں شہدا کے جنازوں میں لاکھوں لوگ باہر نکل رہے ہیں۔
ایرانی مسلمانوں کی روایات سے لاعلمی: ایران میں حسینیت قوم کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ جہاں شہادت میں سبقت لے جانا ہر کسی کی خواہش ہے۔ اسی لیے باقی دنیا کے برعکس ایران میں بڑے بڑے عسکری اور حکومتی عہدیدار جنگ کے دوران بھی بڑی دیواروں اور بم پروف شیلٹرز کا سہارا نہیں لیتے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید اور حکومتی عہدیدار جیسے شہید ڈاکٹر علی لاریجانی‘ آرمی چیف‘ انٹیلی جنس چیف‘ پولیس چیف اور ایران کی حوثی ‘ حزب اللہ‘ شام‘ عراق سمیت تمام پراکسیز کے راہنما چھپتے نہیں‘ شوقِ شہادت میں جان دے کر سرخرو ہوتے ہیں۔ اسی لیے ٹرمپ راج کے درباری معرکۂ جنگ میں ایرانی روایات سے نا آشنا رہے۔ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز پر قبضہ کیا تو انہیں افغانستان سے سو فیصد منظم‘ انتہائی طاقتور اور آرگینک مزاحمت کا طویل ترین سامنا کرنا ہو گا۔ ساحر لدھیانوی نے جنگ کی پرچھائیاں یوں بتائیں:
کہو کہ اب کوئی قاتل اگر اِدھر آیا
تو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گی
ہر ایک موجِ ہوا رُخ بدل کے جھپٹے گی
ہر ایک شاخ رگِ سنگ ہوتی جائے گی

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved