تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     23-03-2026

نیکیوں کا تسلسل

اللہ تبارک و تعالیٰ سے محبت کرنے والا ہر مسلمان یہ چاہتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے اور اس مقصد کیلئے وہ اپنی بساط کی حد تک محنت بھی کرتا ہے۔ بہت سے لوگ زندگی بھر محنت اور جدوجہد کرنے کے بعد حج و عمرہ کیلئے حرمین شریفین روانہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر سال رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنے کی جستجو کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بیت اللہ شریف سے واپسی پر اور رمضان المبارک کے مہینے کے گزر جانے کے بعد نیکیوں کیلئے جستجو کرنا چھوڑ دیتی ہے حالانکہ انہیں اس بات کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ انسان کیلئے نیکیوں کا کرنا کافی نہیں بلکہ نیکیوں کا تسلسل انسان کی کامیابی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حوالے سے قرآن مجید میں بہت سے اہم ارشادات فرمائے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 102میں ارشاد فرماتے ہیں ''اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے تقویٰ کو حتی المقدور اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کی موت اس حالت میں واقع ہونی چاہیے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا تابع فرمان ہو‘ اور یہ جبھی ممکن ہے جب انسان مسلسل اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین پر عمل کرے۔ اس لیے کہ جو انسان کبھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی تابع فرمانی کرتا اور کبھی نافرمانی کے راستے پر چل نکلتا ہے اس کاخاتمہ بالخیر ہونا یقینی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اگر وہ نیکی کرتے ہوئے چلا جائے تو یہ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہو گا۔ اس کے برعکس اگر وہ گناہ کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے تو یہ اس کیلئے بہت بڑی مصیبت ہو گی۔ اس لیے نیکیوں کو تسلسل سے انجام دینے کے نتیجے میں انسان کے خاتمہ بالخیر ہونے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ المعارج میں جہاں استقامت کی اہمیت کو اجاگر کیا وہیں نماز میں دوام کا بھی ذکر کیا۔ اللہ تبارک و تعالی سورۃ المعارج کی آیت 23میں ارشاد فرماتے ہیں: ''وہ لوگ اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالی نے انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صبح و شام اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے مال کو خرچ کرنے کا ذکر کیا۔ اللہ تبارک و تعالی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 274میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ اپنا مال دن اور رات کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور نہ ان کو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ حم السجدہ کی آیت نمبر 30 اور 31 میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر ایمان لاتے ہوئے استقامت کو اختیار کرنے کی تلقین کی: ''یقینا وہ لوگ جنہوں نے شہادت دی کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے‘ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ‘ اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہم دنیا و آخرت میں تمہارے ساتھی ہیں اور تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم چاہو گے اور تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم مانگو گے‘‘۔
ان تمام آیات مبارکہ میں اسی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو نیکی کے کام میں مستقل مزاجی کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تسلسل سے کیے گئے اعمال کو بہت زیادہ پسند فرماتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ہمیں روزے رکھنے‘ قیام اللیل کرنے‘ قرآن مجید کی تلاوت کرنے‘ انفاق فی سبیل اللہ کا اہتمام کرنے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور توبہ استغفار کرنے کا موقع ملا۔ یہ تمام اعمال یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ کو نہایت پسند ہیں۔ ان تمام اعمال کو بجا لانے کے امکانات رمضان المبارک کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد گو روزے فرض تو نہیں رہتے لیکن شوال کے چھ روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملانے سے انسان کو پورا سال روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح ہر مہینے کی 13‘ 14 اور 15 تاریخ کو روزہ رکھنا انتہائی اجر و ثواب کا کام ہے۔ بہت سے لوگوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق دیتے ہیں کہ وہ ہر پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں جبکہ سال میں دو مرتبہ انسان کو ایسے روزے رکھنے کا بھی موقع ملتا ہے جو اپنے اجر و ثواب کے لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے گزشتہ ایک برس اور آئندہ ایک برس کے گناہ معاف ہوتے ہیں جبکہ یوم عاشور کا روزہ رکھنے سے گزشتہ ایک برس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ انسان کو رمضان المبارک کے گزر جانے کے بعد بھی نفلی روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ نماز تراویح کا باجماعت اہتمام رمضان المبارک میں انسان کے دل اور روح کو معطر کرنے کا سبب بنتا رہا۔ انسان کو رمضان المبارک کے گزر جانے کے بعد بھی نماز تہجد کا اہتمام کرنا چاہیے‘ جس سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی قربت کے دروازے کھلتے اور انسان کیلئے نیکیاں کرنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ نماز تہجد یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ کی قربت کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ کرنا بھی فقط رمضان تک موقوف نہیں بلکہ سال بھر انسانوں کو دکھی انسانیت کے کام آتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنے مال کو خرچ کرتے ہی رہنا چاہیے۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر آن توبہ کو طلب کرنا یقینا انسانوں کیلئے بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ توبہ و استغفار کی کثرت سے اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کو گناہوں سے پاک اور صاف کر دیتے اور اس کیلئے اپنی رحمتوں کے دروازوں کو کھول دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی مناجات کو پیش کرنا اور اپنی حاجات کو دائر کرنا یقینا اللہ تبارک و تعالی کو انتہائی پسند ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ انسان کے معاملات میں آسانیاں پیدا ہوتیں اور اس کی مشکلات دور ہوتیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی قربت کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ دعا کرنا یقینا انبیا علیہم السلام کا طریقہ ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے انبیا علیہم السلام کی دعاؤں کا ذکر کیا۔ اسی طرح دعا کرنا صالحین کا طریقہ ہے اور جب بھی کبھی نیکوکار لوگ کسی تکلیف اور مصیبت کا شکار ہوئے وہ یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ ہی میں اپنی التجاؤں کو دائر کرتے رہے۔ رمضان المبارک گو کہ نیکیوں کا موسم بہار تھا لیکن وہ مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دے کے گیا کہ جس طرح رمضان المبارک میں ہم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کیلئے بعض حلال اور جائز چیزوں سے اجتناب کیا اسی طرح ہمیں اللہ تبارک و تعالی کی رضا کیلئے ان تمام چیزوں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو ناپسند ہوں۔ اگر ہم اس بات کو مدنظر رکھیں تو رمضان المبارک کے بعد بھی نیکیوں کا تسلسل برقرار رکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کے بعد بھی نیکیوں کے راستے پر چلنے کی توفیق دے تاکہ ہم زندگی کے گزرتے ہوئے لمحات کے ساتھ روحانی اعتبار سے بھی بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں۔ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved