تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     24-03-2026

خواب اور خواب کی تعبیر بتانے والے

بہت حسرتیں ہیں آپ کے دل میں!
آپ کا دل چاہتا ہے اتنی استطاعت ہو کہ اپنے بے گھر ملازم کو چھوٹا سا گھر بنوا دیں۔ آپ کی تمنا ہے کہ ہر روز سینکڑوں مستحقین کو کھانا کھلائیں۔ آپ کی خواہش ہے کہ غریب بچوں کے لیے ایک معیاری سکول قائم کریں جہاں تعلیم مفت ہو۔ آپ کو حسرت ہے کہ بہت سے یتیم بچوں کو اپناکر ان کی بیچارگی کا مداوا کریں۔ آپ کا خواب ہے کہ دور افتادہ بستیوں میں جا کر کنوئیں کھدوائیں یا پانی کی سپلائی کا کوئی بندوبست کریں۔ مگر افسوس! آپ میں اتنی مالی سکت نہیں کہ ان سب خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کر سکیں!
یہ تو وہ نیکیاں ہیں جو آپ کی پہنچ سے دور ہیں! سوال یہ ہے کہ جو کچھ آپ کی استطاعت میں ہے‘ کیا وہ آپ کر رہے ہیں؟ آپ آسمان پر جا کر کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا زمین پر جو کام ممکن ہیں‘ کر چکے ہیں؟ پروردگار بندے کی طاقت‘ سکت اور استطاعت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ ایک ارب پتی ‘ ہزار افراد کی دستگیری کر رہا ہے اور ایک مڈل کلاسیا ایک یا دو افراد کی مدد کر رہا ہے تو دونوں کو نیت کا بدلہ ملے گا جو برابر ہو گا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خواب بڑے بڑے دیکھتے ہیں اور جو کچھ کر سکتے ہیں ‘ کرتے وہ بھی نہیں! گھر میں برتن دھونے والی مائی کے لیے آپ ایک کلو آلو لے آئیں یا ادھا کلو انگور تو یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ آپ اس سے زیادہ کی استطاعت نہیں رکھتے تو اطمینان رکھیے کہ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں‘ جتنا کچھ بھی کر رہے ہیں‘ بہت بڑا کام ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زبان کا استعمال درست کر رہے ہیں؟ ہمارا لہجہ دوسروں کے دل زخمی کر رہا ہے یا ان کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے؟ ذرا اپنا محاسبہ کیجیے کہ آپ قلی سے‘ مزدور سے‘ خاکروب سے‘ ملازم سے‘ ریڑھی والے سے کس لہجے میں بات کرتے ہیں؟ جس ٹیکسی پر آپ گھر پہنچے ہیں‘ اس کے ڈرائیور سے چائے پانی کا پوچھ لیں تو آپ کا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا مگر اس کی تھکاوٹ اس سے دور ہو سکتی ہے۔ کھانے کا وقت ہے‘ گھر میں کھانا موجود بھی ہے‘ تو اگر ٹیکسی والے کو‘ الیکٹریشن کو‘ پلمبر کو یا ٹیلی ویژن کی مرمت کرنے والے کو کھلا دیں تو آپ کا کتنا نقصان ہو جائے گا؟؟ گرمی ہے تو اسے ایک گلاس شربت کا نہ سہی‘ ٹھنڈے پانی ہی کا پلا دیجیے۔ گھروالے سب چائے پی رہے ہیں تو مالی کو بھی ایک پیالی پلا دیجیے۔ دمکتے شہروں کے مقابلے میں ہمارے خاک آلود گاؤں آج بھی زیادہ مہذب ہیں۔ مہمان کے ڈرائیور کو چائے اور کھانا اسی اہتمام سے بھجوایا جاتا ہے جس اہتمام سے مہمان کو پیش کیا جاتا ہے۔ قسامِ ازل نے جس طرح ذہانت اور جسمانی طاقت عطا کرتے وقت دنیاوی رتبہ نہیں دیکھا اسی طرح نیکیوں کے مواقع غربا کو بھی اتنے ہی دیے ہیں جتنے امرا کو دیے ہیں! شکریہ ادا کرنا بھی ایک نیکی ہے۔ ہم دوسروں کا شکریہ ادا کرنے میں بے حد بخل سے کام لیتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ہمارا قومی رویہ ہے؟ اور ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے؟ کوئی ہمارے لیے دروازہ کھولے رکھتا ہے یا کھولتا ہے تو ہم میں سے اکثر یوں گزر جاتے ہیں جیسے دروازے کو کھلا رکھنے والا ہمارا خاندانی ملازم ہے۔ گاڑی والے نے یا موٹر سائیکل والے نے ہمیں راستہ دینے کے لیے بریک لگا لی تو ہاتھ کے اشارے سے اس کا شکریہ ادا کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ کیا طرفہ تماشا ہے کہ کفار کے ملکوں میں قدم قدم پر شکریہ ادا کیا جاتا ہے اور ہمارے ہاں قدم قدم پر رعونت اور تکبر کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ راستہ دینے والے کو‘ دروازہ کھول کر رکھنے والے کو‘ ڈگی میں سامان رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور کو یا کسی اور کو بھی شکریہ ادا کرتے وقت ہمیں شاید اپنی توہین کا احساس ہوتا ہے۔ انکسار اور عجز کے الفاظ ہماری لغت میں شامل ہی نہیں! مسکرا کر بات کرنا بھی نیکی ہے۔ سوال کا جواب خندہ پیشانی سے دینا بھی نیکی ہے۔ چہرے پر گمبھیرتا طاری کرنے سے آپ بڑے انسان نہیں بن جاتے۔ بڑا انسان وہ ہے جس کے چہرے پر بشاشت ہو‘ مسکراہٹ ہو اور اس کے ماتھے پر گرم استری پھیرنے کو دل نہ چاہے۔
ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم طاقت کے سامنے جھکتے ہیں اور کمزور کے سامنے اکڑتے ہیں۔ سلاطین سے لے کر مغلوں تک‘ انگریزوں سے لے کر سکھوں تک‘ ہم نے مزاحمت کم ہی کی۔ ''مفاہمت‘‘ کے ہم بادشاہ ہیں۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ہم نے خود ہی اپنوں کو پکڑوایا اور جاگیریں حاصل کیں۔ یہ رویہ ہماری نفسیات کا جزو بن چکا ہے۔ ایک عظیم الجثہ مال میں جا کر ہم چون وچرا کیے بغیر خریدی ہوئی اشیا کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ مگر ریڑھی والے سے کچھ خریدیں تو ہماری تمام اقتصادی حسّیات جاگ اٹھتی ہیں۔ اس سے ہم وہ بھاؤ تاؤ کرتے ہیں کہ وہ عاجز آ جاتا ہے۔ یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ آخر ایک ریڑھی والا کتنا نفع کما لیتا ہو گا۔ ایک ریڑھی پر سامان ہی کتنا سماتا ہے؟ ٹرین یا جہاز کا ٹکٹ خریدتے وقت ہم چوں بھی نہیں کرتے۔ نام نہاد قومی ایئر لائن دہائیوں سے ہمیں اذیت دیتی آئی ہے۔ ہمیں اس قابل بھی نہیں سمجھتی کہ پرواز کی تاخیر کی اطلاع ہی دیدے۔ دنیا بھر کی ایئر لائنز آپ کو‘ آپ کے گھر سے چلنے سے پہلے بتاتی ہیں کہ پرواز تاخیر سے جائے گی۔ مگر ہماری ایئر لائن ہمارے ایئر پورٹ پر پہنچنے کے بعد بھی تاخیر کی اطلاع کم ہی دیتی ہے۔ اس کے باوجود ٹکٹ کی ہم منہ مانگی قیمت ادا کرتے ہیں۔ لیکن ایئر پورٹ پر پورٹر کو اور ریلوے سٹیشن پر قلی کو مزدوری دیتے وقت ہم بنیے بن جاتے ہیں! جیسے سو دو سو یا پانچ سو ہزار روپے زیادہ دے دیے تو دیوالیہ نکل جائے گا!
بات کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ایک بات پتھر کی طرح لگتی ہے۔ وہی بات اس انداز میں کی جا سکتی ہے کہ پھول لگے۔ بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کے دانت گر گئے ہیں۔ تعبیر کرنے والے نے بتایا کہ جہاں پناہ! آ پ کے تمام اعزّہ واقربا آپ کے سامنے مریں گے۔ جہاں پناہ نے اس کا سر قلم کروا دیا۔ دوسرے تعبیر گر نے کہا جہاں پناہ! آپ دوسروں کی نسبت لمبی زندگی پائیں گے! اسے انعام سے نوازا گیا۔ ہم پاکستانی کسی کے ہاں جائیں تو عجیب احمقانہ سوالات پوچھتے ہیں۔گھر اپنا نہیں کیا؟ گاڑی کب لیں گے؟ ابھی تک اولاد نہیں ہے‘ شادی کو کتنا عرصہ ہوا؟ تنخواہ کتنی ہے؟ مریض کی عیادت کو جائیں گے تو اس کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے چھوٹتے ہی کہیں گے ''آپ تو بہت کمزور ہو گئے ہیں‘‘! اس سے بہتر تھا آپ عیادت کی زحمت ہی نہ کرتے۔ الیکشن کے دن ہوں تو سب ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے ہیں ''ووٹ کسے دیں گے؟‘‘۔ ترقی یافتہ ملکوں میں میاں بیوی بھی ایک دوسرے سے نہیں پوچھتے کہ ووٹ کسے دیں گے۔ یہ خالص ذاتی مسئلہ ہے! کسی کا موبائل نمبر اس کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں بتانا چاہیے۔ مگر یہاں کوئی نہیں پروا کرتا۔ وٹس ایپ گروپ میں کسی کو بھی اس کی اجازت کے بغیر نہیں شامل کرنا چاہیے۔ مگر یہاں زبردستی شامل کریں گے۔ پھر گروپ سے نکل جائیں تو ناراض ہوتے ہیں! ملائمت‘ نرم گفتاری‘ شکریہ ادا کرنا‘ اجازت لینا‘ ناوقت کسی کے ہاں جانے سے احتراز کرنا‘ خندہ پیشانی سے بات کرنا‘ اپنی باری کا انتظار صبر وتحمل سے کرنا‘ محفل میں سروں کو پھلانگ کر آگے جانے کے بجائے جہاں جگہ ہو‘ وہیں بیٹھ جانا‘ یہ سب اور کئی دوسرے مجلسی آداب ایسے ہیں جو ہمارے ہاں‘ زیادہ تر مفقود ہیں! سعدی یاد آگئے
ای کہ پنجاہ رفت و در خوابی ؍ مگر این پنج روز دریابی
پچاس برسوں میں تو کچھ نہ سیکھا۔ جو پانچ دن رہ گئے ہیں انہی میں کچھ کر لے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved