میری جنریشن اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہے کہ جہاں اس نے بہت سی پرانی چیزوں کو استعمال کیا اور پھر انہیں اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا‘ وہیں ہم نے بے شمار نئی چیزوں کو اپنے سامنے بنتے دیکھا اور انہیں قبول کیا۔ گھومنے والے بٹنوں پر مشتمل گول ڈائل سے فون ملانے کا تجربہ کرنے کے بعد ہم بٹن دبانے والے ڈیجیٹل فون سے مو بائل فون کے عہد میں داخل ہوئے۔ گھنٹوں ٹرنک کال بک کروانے کے بعد دوسرے شہر میں بات کرنے کی سہولت کو STD میں تبدیل ہوتے دیکھا اور اب دنیا بھر کے ٹیلی فون ہماری جیب میں پڑے ہوئے موبائل فون کی دسترس میں ہیں۔ صرف فون کی کہانی لکھیں تو اس کے لیے دفتر درکار ہیں۔ فون کنکشن کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا اور اس کے بعد بھی سفارش کی ضرورت پڑتی تھی۔ پڑوسی ہمارے گھر آ کر انتظار کرتے کہ کب آپریٹر مہربان ہو اور وہ کب دوبارہ کال ملوا دے۔ اب صرف موبائل فون کو اٹھانے کی زحمت کرنا پڑتی ہے۔ ہمارے پورے محلے میں ایک دو فون ہوتے تھے‘ اب ہر گھر میں تین چار فون معمولی بات ہے۔ یہ صرف ایک چیز کی کہانی ہے۔ اس طرح کی سینکڑوں کہانیاں ہیں۔
ملتان میں اس سال محکمۂ ڈاک نے شاید ایک عید کارڈ کی بھی شکل نہیں دیکھی ہوگی۔ صرف عشرہ‘ ڈیڑھ عشرہ پہلے عید کارڈ ایک دیوانگی کا نام تھا۔ بازار جانا‘ عید کارڈ کا انتخاب کرنا بلکہ بعض اوقات اپنی مرضی کا عید کارڈ چھپوانا اور پھر ایک فہرست کے مطابق ان پر نام لکھنا۔ ڈاک خانے سے ٹکٹیں لانا اور لفافے پر چسپاں کرنا اور اس حوالۂ ڈاک کرنا۔ اسی طرح دیگر شہروں سے آنے والے عید کارڈ کا انتظار کرنا۔ ملنے والے عید کارڈز میں سے خوبصورت اور دیدہ زیب کارڈ علیحدہ کر کے انہیں ٹیپ سے دیوار پر چسپاں کرنا یا میز پر کھول کر کھڑا کر دینا۔ سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا ہو گیا۔ عید کارڈ کا سارا دفتر ہی بند ہو گیا۔ کارڈوں کی دکانیں عنقا ہو گئیں۔ عید سے پہلے سجنے والے عید کارڈ کے سٹال‘ ٹھیلے‘ کھوکھے اور ریڑھیاں قصہ پارینہ بن گئیں۔ مجھے آخری عید کارڈ مرحوم اشرف شاد نے بھیجا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس نے مجھے فون کر کے کہا کہ اس عید پر وہ کارڈ والا آخری عید کارڈ بھیج رہا ہے۔ اس نے مجھے اس بھیجے جانے والے آخری عید کارڈ کے لیے چند سطریں لکھ کر بھیجنے کا کہا اور میں نے تعمیل کی۔ پہلے کارڈ رخصت ہوئے پھر اشرف شاد بھی رخصت ہو گیا۔ وہ عید کارڈ بھیجنے والا آخری روایت پرست دوست تھا جو برسوں باقاعدگی سے عید کارڈ بھیجتا رہا۔ پھر فزیکل عید کارڈ کو ڈیجیٹل عید کارڈ کھا گیا۔ لیکن پہلے ملنے والے پندرہ بیس عید کارڈ جو خوشی دیتے تھے اب سینکڑوں کی تعداد میں وٹس ایپ پر ملنے والے تصویری عید کارڈ اس خوشی کا عشر عشیر بھی نہیں دیتے۔ ان چالیس پچاس سالوں نے ہمارے سامنے دنیا کو کیا سے کیا کر کے رکھ دیا ہے۔
نئی ڈائری اور کیلنڈر بھی ایسی ہی چیزوں میں شمار ہوتے تھے جن کا انتظار کیا جاتا تھا۔ نومبر کے آخر یا دسمبر کے شروع میں ڈائریاں اور کیلنڈر ملنا شروع ہو جاتے تھے۔ پھر ملنے والی ان ڈائریوں اور کیلنڈروں میں سے رکھنے والے اور آگے تقسیم کرنے والے ڈائریوں اور کیلنڈروں کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ کچھ ادارے ابھی تک اس روایت سے جڑے ہوئے ہیں اور کہیں کہیں سے کیلنڈر اور ڈائریاں آ جاتی ہیں لیکن ملنے کی خوشی تو رہی ایک طرف‘ اب کہنا پڑتا ہے کہ براہ کرم یہ کیلنڈر کسی اور کو دے دیں۔ اب تو گھر میں کیلنڈر لٹکانے کے لیے نہ کوئی کیل ہے اور نہ ہی میز پر رکھنے کی گنجائش ہے۔ جیب میں رکھا ہوا موبائل فون کیلنڈر‘ ڈائری‘ گھڑی‘ ڈکشنری‘ عید کارڈ‘ خط‘ تار‘ کیلکولیٹر‘ اخبار‘ ریڈیو‘ ٹام ٹام اور کیمرے کے علاوہ سینکڑوں چیزوں کو ہضم کر چکا ہے اور اس نے ڈکار بھی نہیں ماری۔
کیمرے سے یاد آیا کہ میرے پاس یاشیکا 35 کیمرہ تھا جس میں چھتیس تصویروں والی ریل پڑتی تھی۔ ریل ڈالنے سے پہلے ایک خاص تکنیک سے اس ریل کو کھولے بغیر ٹائٹ کرکے لپیٹا جاتا‘ تاکہ چھتیس کے بجائے سینتیس تصاویر نکل سکیں۔ محدود تعداد میں تصاویر ہوتی تھیں اور ایسے میں کسی ناپسندیدہ فرمائشی کو محض فلیش مار کر ٹرخا دیتے تھے اور بعد میں کہہ دیتے تھے کہ تصویر خراب ہو گئی ہے۔ تصویر خراب ہونے کا علم بھی فلم دھلنے کے بعد ہوتا تھا۔ چھتیس کے بجائے سینتیس تصویریں نکل آتیں تو ایسی خوشی ہوتی تھی کہ خدا کی پناہ۔ اب ایک ایک منظر کی درجن بھر تصاویر لے کر دل مطمئن نہیں ہوتا اور سو تصاویر لے کر وہ خوشی نہیں ہوتی جو پوری فلم میں سے ایک فالتو تصویر نکلنے پر ہوا کرتی تھی۔ فلم والے کیمرے اب بھولا بسرا قصہ ہیں۔ کیمرے کی فلم بنانے والی کمپنیاں ختم ہو گئیں۔ لیبارٹریاں غائب ہو گئیں۔ سنگاپور سے لایا گیا مینولٹا کیمرہ اور اس کے دو قیمتی لینز الماری کے اوپر والے خانے میں ہی پڑے ہیں۔ نہ استعمال کے قابل ہیں اور نہ پھینکنے کو دل کرتا ہے۔ کئی بار سوچتا ہوں کہ ان کو ایک شو کیس بنوا کر اس میں سجا دوں۔ ایک پرانی کیمرے کی فلم بھی پڑی ہے۔ پرانا ڈائل والا فون پڑا ہے۔ درازوں اور الماریوں میں ایسی کئی متروک اشیا پڑی ہیں۔ جو چیزیں پڑی ہیں وہ تو کم ہیں لیکن یادوں کے آنگن میں جو چیزیں پڑی ہیں ان کی تعد اد اتنی زیادہ ہے کہ اب ان کو شمار کرنا بھی ممکن نہیں۔ اور شمار کرنا رہا ایک طرف‘ اب تو بہت سی چیزیں اور باتیں ایسے بھولی ہیں کہ با قاعدہ کسی حوالے سے یاد آتی ہیں۔ کفیل بھائی بھی ایسی ہی ایک یاد ہے۔
چالیس پچاس سال پہلے کفیل بھائی گھوٹکی سڑکوں کا بلکہ ٹرکوں کا ایک مقبول کردار تھا۔ کفیل بھائی کبھی ہر ٹرک کے پیچھے لکھا دکھائی دیتا تھا مگر اب ذہن سے بالکل ہی اتر چکا تھا کہ ایک دوست نے خبر دی کہ کفیل بھائی کراچی کے ایک پرائیوٹ ہسپتال میں گزشتہ دنوں انتقال کر گیا ہے۔ یہ خبر سن کر میں پچاس سال پیچھے چلا گیا۔ کیا زمانہ تھا جب سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹرک اس اَن دیکھے کردار کا تعارف ہوا کرتے تھے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم پندرہ بیس فیصد ٹرکوں کے پیچھے کسی نہ کسی جگہ پر کفیل بھائی کے ہاتھوں لکھی ہوئی تحریر دکھائی دیتی تھی۔ لیفٹ آرم‘ رائٹ آرم سپن بائولر۔ دنیائے کرکٹ کا بے تاج بادشاہ۔ رائٹ آرم گگلی بائولر۔ دنیا کا سب سے مشہور لیفٹ آرم‘ رائٹ آرم بائولر۔ باؤلنگ کا شہنشاہ اور ان خطابات کے نیچے لکھا ہوتا تھا: کفیل بھائی گھوٹکی۔ میری جنریشن کے ہر اس فرد کا کفیل بھائی سے تعارف تھا جو بسوں اور ویگنوں میں سفر کیا کرتا تھا۔ کفیل بھائی ایک ایسا کردار تھا جسے ہم نے دیکھا نہیں تھا مگر اس سے اور اس کے حوالے سے گھوٹکی سے ایسی جان پہچان ہو گئی کہ دونوں دیکھے بھالے لگتے تھے۔ اسّی کی دہائی کے آخر اور نوے کی دہائی میں میرا سندھ بہت آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میرپور ماتھیلو سے سکھر کے راستے میں گھوٹکی سے گزرتے ہوئے بارہا سوچا کہ ادھر اتر جاؤں اور کفیل بھائی سے ملوں۔ آخر ایک روز اس ارادے کو تکمیل تک پہنچایا اور گھوٹکی اتر گیا۔ بس اڈے کے ساتھ ہی ہوٹل پر ٹرک کھڑے تھے۔ کسی سے کفیل بھائی کا پوچھا تو اس نے جواب دینے کے بجائے ہنسنا شروع کر دیا۔ پھر کہنے لگا کہ کسی ٹرک کے پیچھے اپنی باؤلنگ کے بارے میں لکھ رہا ہوگا۔ پھر کہا کہ جتنی محنت وہ ٹرکوں کے پیچھے لکھنے پر کرتا ہے اگر اتنی محنت وہ اپنی کرکٹ پر کرتا تو آج پاکستان کی قومی ٹیم میں شامل ہوتا۔
دو چار لوگوں سے پوچھنے کے بعد اڈے کے ساتھ والے چائے کے ہوٹل پر کفیل بھائی سے ملاقات ہو گئی۔ میں تب چائے پیا کرتا تھا۔ کفیل بھائی اور میں نے چائے پی۔ ادائیگی کے لیے دونوں نے اصرار کیا تاہم میں کامیاب ٹھہرا۔ افسوس تب موبائل فون نہیں ہوا کرتے تھے ورنہ ایک تصویر ہو جاتی۔ لیکن تصویر کا کیا ہے‘ مسافر کے دل کے نہاں خانے میں ایک تصویر محفوظ ہے۔ مسافر جب چاہتا ہے جھانک کر لطف لیتا ہے۔ سو! الوداع کفیل بھائی! تمہاری تعزیت تو سارے گھوٹکی سے بنتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved