سیّد سلمان گیلانی عجیب طرحدار اور پہلودار شخصیت تھے۔ ٹی وی کے پردۂ سکرین اور سوشل میڈیا پر اُنکا مزاحیہ کلام سننے والے سمجھتے تھے کہ یہ کوئی مولوی ہے جو کوچۂ منبر ومحراب سے باغی ہو کر دنیائے طنز ومزاح میں آ نکلا ہے۔
رمضان المبارک میں مذکورہ بالا دونوں شخصیت سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئی ہیں۔ گیلانی صاحب پیدا تو لاہور میں ہوئے مگر اُن کا بچپن ولڑکپن اور اوائلِ شباب شیخوپورہ میں گزرے۔ سیّد سلمان گیلانی بنیادی طور پر ایک نعت گو شاعر تھے۔ جب وہ اپنی نعت اپنے مخصوص ترنم کے ساتھ سناتے تو مجمع وجد میں آ جاتا۔ اُن کے والد گرامی سیّد امین گیلانی بھی اپنے زمانے کے معروف نعت گو شعرائے کرام میں شمار ہوتے تھے۔ وہ جب اپنے نعتیہ کلام میں خاتم المرسلینﷺ کا پُرنور ذکر کرتے اور پھر تخت وتاج ختم نبوت کا پیغام دیتے تو مجمع پُرجوش انداز میں انہیں داد دیا کرتا تھا۔ سیّد سلمان گیلانی کو حبِّ خاتم الانبیاء اور نعت گوئی ورثے میں ملی تھی۔ سیّد صاحب کی نعتیہ شاعری اور اُن کے ترنم کا تو میں کئی دہائیوں سے مدّاح اور قدر دان تھا مگر اُن سے بالمشافہ ملاقاتوں کا سلسلہ چند برس قبل شروع ہوا۔ ایک بار وہ محترم عبدالستار عاصم کے ہمراہ لاہور میں غریب خانے پر بھی تشریف لائے۔ تادیر محفل جمی جس میں انہوں نے ہماری درخواست پر اپنا نعتیہ کلام ترنم سے سنایا۔
اس جہانِ رنگ وبو سے جاتے جاتے وہ اہلِ پاکستان اور اردو داں طبقے کو اپنی کتاب کا تحفہ ''میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی‘‘ عنایت کر گئے ہیں۔ یہ ایک حیران کن خود نوشت ہے۔ اس میں ادب بھی ہے اور سیاست بھی‘ تصوف بھی ہے اور شاعری بھی۔ مافوق العقل دلچسپ حکایات بھی ہیں اور تاریخی اعتبار سے نادر واقعات بھی۔ اُن کی خود نوشت میں صوفیا کی صحبتوں کے تذکرے بھی ہیں اور ادبی دنیا کی محفل آرائیوں کے قصّے بھی۔
کتاب میں انہوں نے حرمین شریفین میں اپنی حاضریوں کے بڑے حیران کن واقعات لکھے ہیں۔ گیلانی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ انہیں تقریباً چھتیس مرتبہ خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کی طرف سفر کرنے کے پروانے نصیب ہوئے۔ کئی مرتبہ گیلانی صاحب کے پاس درہم ودینار تھے نہ بظاہر ویزے اور سفر کے دیگر لوازمات مگر غیب سے حاضری کے انتظامات ہو جایا کرتے تھے۔ صوفی بزرگ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے مدینہ منورہ میں سیّد سلمان گیلانی کو کثرت سے درود شریف پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ حضرت نے جملہ مصائب و مشکلات سے نجات اور حرمین شریفین کی حاضریوں کیلئے درود شریف کو اکسیر قرار دیا۔ سیّد سلمان گیلانی علما اور صوفیا سے ہی نہیں ادبی اساتذہ سے بھی کسبِ فیض کیا کرتے تھے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں جب کبھی شیخوپورہ سے لاہور آتے تو حضرت احسان دانش کے ہاں حاضری ضرور دیتے۔ اُن کے حوالے سے انہوں نے کئی واقعات لکھے ہیں۔ گیلانی صاحب کی اسی طرح کی حاضری کے دوران ایک بار احسان دانش نے سنایا کہ ایک مرتبہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک صاحب مولانا محمد علی جوہر کا پیغام لائے کہ انہیں اپنے رسالے کامریڈ میں چھپنے والا فلاں مضمون اپنی فائلز میں نہیں ملا اگر آپ کے پاس ہو تو عنایت فرما دیجئے۔ اس پر مولانا ابوالکلام نے کہا کہ مولانا سے کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو کامریڈ میں قسط وار چھپنے والے مضمون کے شمارے نہیں البتہ میرے سینے میں سارا مضمون حرف بہ حرف محفوظ ہے۔ کسی کی ڈیوٹی لگا دیجئے میں چار پانچ روز مختلف نشستوں میں بولتا جاؤں گا اور وہ صاحب لکھتے جائیں گے۔ یوں ان شاء اللہ مضمون مولانا تک پہنچ جائے گا۔ احسان دانش نے اس شخص کے جانے کے بعد مولانا آزاد سے پوچھا مولانا! واقعی وہ قسط وار چھپنے والا مضمون آپ کو پورے کا پورا ازبر ہے۔ فرمایا: ہاں! الحمدللہ اللہ نے مجھے کمال حافظہ دیا ہے۔ بچپن میں ایک بار پڑھنے والی تمام کتابیں آج بھی مجھے یاد ہیں۔
ایک مترنم نعت گو شاعر کی حیثیت سے سیّد سلمان گیلانی کی بزرگوں کی مجالس میں خوب پذیرائی ہوتی۔ اس کے ساتھ ہی اُن کی مزاحیہ شاعری کے باعث انہیں کالجوں‘ یونیورسٹیوں‘ ادبی ایوانوں میں بھی خوب داد ملتی۔ یہ دیکھ کر اُن کے بعض معاصرین خوب جلتے اور پھر مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمن اور دیگر کئی دینی شخصیات سے اُن کے خلاف شکایات کرتے تو وہاں سے شکایت کنندگان و حاسدین کی حوصلہ شکنی ہوتی۔ وطن کے ساتھ یکجہتی کے بارے میں ہر کوئی اپنا اپنا نسخہ تجویز کرتا رہتا ہے‘ ذرا سیّد سلمان گیلانی کا نسخہ بھی سماعت فرمائیے۔
ہر صوبے میں لاؤں گا دلہن اپنے لیے میں
اس عزم کی تکمیل میں فی الفور کروں گا
اے میرے وطن میں تیری یکجہتی کی خاطر
چاروں کو اکٹھا یہاں لاہور کروں گا
گیلانی صاحب ہنستے ہنساتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ہمارے آنکھوں کو رنگ ملال دے گئے۔ عشقِ مصطفی اور کثرت درود شریف کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ جہانِ ابدی کی محفل مصطفیﷺ میں بھی انہیں بازیابی نصیب ہوئی ہو گی۔ ماہر اقبالیات برادرِ مکرم ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم بھی ایک حیران کن شخصیت تھے۔ وہ اس گلشنِ ہستی میں میرے بعد آئے اور مجھ سے پہلے انہوں نے اگلے جہان کیلئے رختِ سفر باندھ لیا۔ تبسم صاحب معروف معنوں میں صوفی تو نہ تھے مگر وہ مرجع خلائق تھے۔ خدمت خلق‘ عاجزی‘ انکساری اور ملنساری کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا۔ وہ سرگودھا میں پیدا ہوئے یہاں وہ انبالہ گورنمنٹ کالج میں پہلے لیکچرار اور پھر پروفیسر اور ڈاکٹر بنے اور وہاں ہی انہوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عابد خورشید ڈیرہ اسماعیل خان سے بطور خاص ماہِ صیام میں ہارون الرشید صاحب کے جنازے میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اتنی کتابیں پڑھی نہیں ہوں گی جتنی انہوں نے لکھی ہیں۔ اردو شعر و شاعری اور ادبی تنقید کا شہرئہ چہار دانگ عالم میں پہنچا۔ اردو داں جہاں بھی بستے ہیں وہاں ہارون الرشید تبسم کی ادبی تحریروں کی پذیرائی ہوتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے ایک سو سے زائد کتب تحریر کی ہیں۔ اُن کی کتابوں کی شہرت اپنی جگہ مگر اُن کی شخصیت کی کشش نے ایک عالم کو اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا۔
جس شہر میں آپ کا بچپن‘ لڑکپن‘ جوانی اور پھر ادھیڑ عمر گزری ہو وہاں آپ کے حریف و حاسدین کا وجود ہمارے سماجی ڈھانچے کا لازمی تقاضا ہے۔ مگر بلا مبالغہ تقریباً بیس لاکھ کی آبادی والے شہر میں اُن کا کوئی مخالف نہ تھا۔ کم و بیش سات دہائیوں ایک ہی شہر میں بسنے والی ہر دلعزیز اور محبوب شخصیت کے بارے میں کوئی ایک بھی سیکنڈل نہ تھا۔ ہارون الرشید تبسم بلامبالغہ 24 گھنٹے والے دن سے کم از کم 48 گھنٹے کام لیتے تھے۔ اُن کے کئی قریب ترین دوستوں کی گواہی کے مطابق وہ تہجد گزار تھے۔ نیم متوسط کلاس سے تعلق تھا‘ اس لیے زندگی کی رتھ میں لڑکپن سے ہی جت گئے تھے۔
برادرِ محترم ہارون الرشید تبسم نے سرگودھا شہر کی ممتاز ادبی شخصیات کا بے حد احترام کیا انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا، پروفیسر غلام جیلانی اصغر اور ڈاکٹر خورشید رضوی سے بطور خاص اکتسابِ فیض کیا۔ ایک فرانسیسی کہاوت کے مطابق ایک بھرپور دن گزارنے کے بعد رات کو پُرسکون نیند آئی ہے۔ اسی طرح ایک معروف اور بھرپور زندگی گزارنے کے بعد پُرسکون موت کا تحفہ ملتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اُن کا جنازہ سرگودھا کی تاریخ کا ایک بڑا جنازہ تھا۔ اس دنیا میں خیر بانٹنا ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا شیوہ تھا۔ ان شاء اللہ اُس دنیا میں بھی اُن کا خیر مقدم ہوگا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved