تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     28-11-2013

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے

بجلی گیس کی کمی پوری کرنے کے لیے برق رفتاری سے کام کر رہے ہیں... شہباز شریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''بجلی اور گیس کی کمی پوری کرنے کے لیے برق رفتاری سے کام کر رہے ہیں‘‘ اور یہ نظر اس لیے نہیں آتا کہ بجلی کی رفتار کو کون دیکھ سکتا ہے جب تک کہ کرنٹ نہ لگ جائے جس سے اس کی رفتار کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے توانائی بحران کا سامنا ہے‘‘ جبکہ اپنی غلط پالیسیوں کا سامنا ہم انشاء اللہ خود کریں گے تاکہ آئندہ حکومت بھی ہماری طرح اپنی غلطیوں کا سامنا خود کرے اور یہ سارا گند ہمارے لیے نہ چھوڑ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ''مسئلے پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں‘‘ کیونکہ دہشت گردی اور مہنگائی وغیرہ کے خاتمے کی طرح ہر کام جنگی بنیادوں پر ہی کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہم ماشاء اللہ حالتِ جنگ میں ہیں‘ ماسوائے طالبان حضرات کے‘ جو اگرچہ خود تو جنگی بنیادوں ہی پر کام کر رہے ہیں‘ حالانکہ جنگی بنیادوں پر صلح بھی ہو سکتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ بات فی الحال ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔ آپ اگلے روز لاہور میں کینیڈا بزنس کونسل کے صدر سے ملاقات کر رہے تھے۔ 
موجودہ حکومت چھ ماہ میں بھی 
ٹیک آف نہیں کر سکی... منظور وٹو 
پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد خاں وٹو نے کہا ہے کہ ''موجودہ حکومت چھ ماہ میں بھی ٹیک آف نہیں کر سکی‘‘ جبکہ ہم نے یہ کام پہلے دن ہی کر لیا تھا چنانچہ پورے پانچ سال ٹیک آف اور لینڈ کرنے میں ہی لگے رہے کیونکہ ہمارا کام ہی کافی مختلف تھا کہ سب کے سب معززین پائلٹ کا کردار ادا کر رہے تھے اور جہازوں پر مکمل کنٹرول بھی رکھتے تھے بلکہ اگر سچ پوچھیں تو یہ آٹومیٹک جہاز تھے جو خود ہی اترتے چڑھتے رہا کرتے تھے اور ہم اپنا دوسرا کام سرانجام دیا کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ''قیادت کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے‘‘ حالانکہ اللہ کی مہربانی سے میں خود کافی شدت سے موجود ہوں لیکن میری خدمات سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا جبکہ فرینڈلی اپوزیشن کے دوران سب کچھ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں‘‘ اور اس سے زیادہ خوشی اور حیرانی کی بات کوئی اور نہیں ہو سکتی کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ ہم حالات کو جس نہج پر لا چکے تھے‘ ان میں مزید بدتر ہونے کی گنجائش ہی نہیں تھی جبکہ حالات کو یہ بات خود بھی بہت اچھی طرح سے معلوم تھی۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ 
خیبر پختونخوا حکومت صوبے کو میدانِ جنگ 
بنانے پر تُلی ہوئی ہے... فضل الرحمن 
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''خیبر پختونخوا کی حکومت صوبے کو میدانِ جنگ بنانے پر تُلی ہوئی ہے‘‘ جہاں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ ہے اور ن لیگ کی حکومت کا شیر اور اپوزیشن کی بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''دھرنے کے نام پر لاقانونیت پھیلائی جا رہی ہے‘‘ حالانکہ امریکہ اگر اپنے سفیر کی بات مانتے ہوئے مجھے وزیراعظم بنوا دیتا تو کبھی ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی‘ اور کم از کم آئندہ ہی اُسے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''تحریک انصاف کے رہنما مگرمچھ کے آنسو بہا کر دھوکہ نہیں دے سکتے‘‘ بلکہ اس کام کے لیے دیگر دستیاب ذرائع سے کام لینا چاہیے تھا جو انہیں خاکسار پوری تفصیل سے بتا سکتا تھا کیونکہ دھوکہ دینا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے اور اس کے لیے طویل سیاسی تجربے کی ضرورت ہے ع 
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی 
آپ اگلے روز اسلام آباد سے معمول کا ایک بیان جاری کر رہے تھے۔ 
نیٹو سپلائی اس وقت تک بند رہے گی جب تک وفاقی حکومت کا ردعمل نہیں آ جاتا... عمران خان 
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ''نیٹو سپلائی اس وقت تک بند رہے گی جب تک وفاقی حکومت کا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آ جاتا‘‘ اگرچہ میرا پہلا بیان اور مؤقف یہی تھا کہ نیٹو سپلائی ڈرون حملوں کی بندش تک بند رہے گی لیکن اب محض قومی مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے؛ چنانچہ اگر آج ہی وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے آ جاتا ہے تو یہ کام کل ہی بند کردیں گے۔ اگرچہ سرکاری مؤقف کا پتا وزیر اطلاعات پرویز رشید کے تندوتیز بیانات ہی سے چل جاتا ہے؛ تاہم یہ مؤقف ذرا مزید زور سے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''خیبرپختونخوا کی حکومت نیٹو کنٹینرز کی حفاظت نہیں کر سکتی‘‘ کیونکہ اگر وہ اپنی اور اپنے وزیروں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو نیٹو کنٹینرز کی کیا کرے گی جبکہ ان کی حفاظت ضروری ہے کیونکہ انہیں روکنا اور چیز ہے اور ان کی حفاظت بالکل دوسری چیز‘ کہ ہم امریکہ سے تعلقات اس قدر بھی خراب نہیں کرنا چاہتے۔ نیز کارکنوں نے جو کنٹینرز کی لوٹ مار شروع کردی ہے‘ اس کی بھی ہم نے اجازت نہیں دی کہ وہ مرضی کے مالک ہیں اور ان کے کام میں مداخلت کرنا ہم افورڈ نہیں کر سکتے کیونکہ جو خال خال ورکر باقی رہ گئے ہیں‘ ہم ان سے بھی ہاتھ دھونا نہیں چاہتے۔ آپ اگلے روز علیم خان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کر رہے تھے۔ 
ہماری 5 سال کی کارکردگی سب 
کے سامنے ہے... گیلانی 
سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ''ہماری 5 سال کی کارکردگی سب کے سامنے ہے‘‘ لیکن لوگوں نے اس سے کچھ زیادہ عبرت نہیں پکڑی ورنہ عام انتخابات میں ہمارا بالکل ہی صفایا ہو جاتا کیونکہ عوام کو ابھی کارکردگی کی کچھ زیادہ سمجھ بھی نہیں ہے حالانکہ تلاشِ رزق سے بڑھ کر اور مبارک چیز کیا ہو سکتی ہے جس کا حکم اللہ میاں نے بھی دیا ہے اور ہم نے کم از کم اس حکم پر تو جی بھر کے عملدرآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کی جمہوریت کے حوالے سے بڑی خدمات ہیں‘‘ اگرچہ وہ ہماری خدمات سے تو بہت کم ہیں کیونکہ ہم نے تو ان خدمات میں حد ہی کردی تھی جن میں خاکسار کی خدمات زیادہ یادگار ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں سینیٹر گلزار احمد کی رہائشگاہ پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ 
آج کا مقطع 
کیسا سفر‘ کہاں کی ملاقات‘ اے ظفرؔ 
ابکے تو آ گئے ہیں یونہی پھر پھرا کے ہم 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved